قصہ ڈاکٹر ہارون اور ان کے آشرم کا

                                    پروفیسر ہارون احمد صاحب سے پہلی ملاقات ایک کالج کے طالبعلم کی حیثیت سے لگ بھگ 4 دہائیوں قبل ہوئی، 80 کی دہائی، ملک بھر میں جنرل ضیاء کے آمرانہ دور کی سیاہ پرچھائیاں قومی تشخص پر مذہبی جماعتوں، افغان جہاد کی جنونیت اور ریاستی جبر کے تسلط کا ماسک چڑھانے کی کوششیں، معاشرے کے گرد گھٹن کے جالے جنھوں نے تعلیمی

Read more

وادی سوات پر ایک بار پھر خوف کے سائے اور درد بھری یادیں

سوات میں دھماکے جس میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی جانیں گئیں ہیں اس کے بعد وادی میں خوف اور غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔کہیں ظالم ساۓ وادی کو اپنے گھیرے میں تو نہیں لے لیں گے؟ کہیں وادی میں طالبان کے جتھے ڈیرہ تو نہیں ڈال لیں گے؟۔کہیں خوبصورت جنت جیسی وادی پر جہاں قدرت نے بہار کی چادر ڈالی ہوئی ہے، وہاں طالبان مقامی باشندوں کو ان رونقوں سے محروم تو نہیں کردیں گے؟ جتنے ذہن،

Read more

محرم، خالہ مہر بانو اور میرا بچپن

آبائی شہر لاڑکانہ، گلیاں اور محلے کے بیچ ہمارا حویلی نما خاندانی گھر ’لکھپت بھون‘ ۔ محرم کی آمد کے ساتھ ہی گھر کی بڑی دہلیز کی ساتھ محلے بھر کے بچے سبیل سجاتے تھے۔ کروڑ پتی بیوپاری مرلی دھر ہو یا مینگراج، انگریز نما آغا صاحب ہوں یا کریانے کی دکان والے مستو بھائی، جنہیں ہم سب کنجوس مکھی چوس کہتے تھے، سب ہی چندہ دیتے تھے۔ محلے کی خالہ مہر بانو، جو پورے سال بچوں کو کھیل کود

Read more

بنی گالہ میں ایک ہی صدا کی گونج: ’جی کا جانا ٹھہر گیا ہے‘

مرگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں موجود ہے زرداری ہاؤس۔ مضبوط لوہے کے دروازے، تین رنگ کے جھنڈے، دیواروں پر بھٹو اور بینظیر کی تصاویر اور پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان تیر۔ کچھ ماہ قبل اس بنگلہ کے ارد گرد سناٹا طاری تھا۔ نا بندہ نا بندے کی ذات، سوائے کچھ پرانے جیالوں اور خادموں کے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پیپلز پارٹی سے اقتدار کی سیاسی زندگی روٹھ سی گئی ہو۔ لیکن ان دنوں یہاں سیاسی رونقیں لوٹ آئی

Read more

طوفانی رات، سرد بے حسی

دن چڑھتے ہی ایک مجمع لگ چکا تھا، خلقت جمع تھی اور گاڑیوں کا سمندر تھا۔ اردگرد دیو قامت چیڑ کے درخت اور برف کی سفید چادر اوڑھے پہاڑ کھڑے تھے۔ سانپ کی طرح بل کھاتی مری کی سڑک کنارے مقامی افراد سیاحوں کو رنگ برنگی چھتریاں، گرم مفلر، جرابیں، پانی اور چائے فروخت کرتے نظر آرہے تھے۔ حسب معمول معیاری، غیر معیاری ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کے دلال سیاحوں کی ضرورت اور جیبوں کے وزن کو اپنی لالچی آنکھوں

Read more

اب کرکٹ کی چھتری بھی گئی

بس جس طرح ستر اور اسی کی دہائی میں پاکستان کے گاؤں دیہات میں ”دبئی چلو“ کا جنون سوار تھا، ویسے ہی کچھ سماں گزشتہ ہفتوں دیکھنے میں آیا۔ ماضی میں معاشی آسودگی کی طلب تھی اور ان دنوں قوم کرکٹ کی محبت میں گرفتار رہی۔ پہاڑی علاقے ہوں یا چولستان، تھر کا صحرا ہو، پشاور، لاہور یا پھر کراچی، بچے ہوں یا بزرگ، نوجوان لڑکے ہوں یا لڑکیاں سبھی کی نگاہیں دبئی کے کرکٹ میدانوں پر جمی ہوتی تھیں۔

Read more

خبردار! سوال جواب منع ہیں

تاریخی جی ٹی روڈ پر ہزاروں مذہبی کارکنوں کا غلبہ، بلند آواز اور نعروں کی گونج، ہیجانی کیفیت، جلاؤ گھیراؤ، پولیس والوں پر ڈنڈوں اور لوہے کے سریوں سے حملے، مناظر ایسے کہ سر چکرا جائے اور دم گھٹتا چلا جائے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں حکومتی وزراء کی بوکھلاہٹ ہے۔ ابھی آئی ایس آئی کی سربراہی کی تعیناتی کے قضیے کے بادل چھٹے نہیں تھے کہ حکومت کو ایک اور تنازعے کا سامنا ہے۔ عوام پریشان ہیں اور متاثرہ

Read more

برے پھنسے ہیں

اسلام آباد کے وزیر اعظم ہاؤس اور راولپنڈی میں طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ہیڈکوارٹرز کے درمیان لگ بھگ پچیس کلومیٹر کا فاصلہ ہو گا۔ کہنے کو تو یہ زیادہ سے زیادہ چالیس، پچاس منٹ کا سفر ہے لیکن یہ’ختم ہونے‘ کا نام ہی نہیں لیتا۔ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکمرانی ہو یا بینظیر بھٹو کی، نواز شریف کی حکومت ہو یا زرداری کی، اس فاصلے کو طے کرنا دیو مالائی کہانیوں کی طرح کسی مہم جوئی سے کم نہیں

Read more

یہ قبرستان سیدوں کا ہے

دریائے سندھ کے کنارے آباد ایک قدیم قصبہ سن ہے، جہاں اس روز ہزاروں کا مجمع تھا۔ نوجوان، بوڑھے، ادھ ننگے، پیر، غریب، ہاری سبھی تھے۔ خوشبو والے بوسکی کے لباس اور پجیرو گاڑیوں میں امیر وڈیروں کا بھی ایک ہجوم تھا۔ ہر طرف لال رنگ کے جھنڈے لہرا رہے تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا، جیسے اس قصبے نے گویا رنگ برنگی سندھی ٹوپیوں اور اجرک کی چادر اوڑھ لی ہو۔ ”تنجھو سائیں، منجھو سائیں، جی ایم سائیں،

Read more

کرکٹ کا لگان

نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں نے جب کھیل بستے بغل میں دبا کر واپسی اختیار کی تو ہمیں اپنے بچپن کے استاد ظہیر صاحب یاد آ گئے۔ نہ ٹاس تھا، نہ ٹیموں کے رنگ برنگے کپڑے، یا اللہ خیر ہو! طرح طرح کے خیالات ذہن میں گردش کرنے لگے۔

خیال آیا کہ کہیں کچھ غیر ذمہ دار کھلاڑیوں نے کورونا کو تو گلے نہیں لگا لیا، کہیں وائرس تو کسی سے نہیں چمٹ گیا۔ یہ بھی نہیں، وہ بھی نہیں تو ماجرا کیا ہے؟ شاید اسی طرح کی صورتحال تھی، جب ہم بچپن میں ظہیر صاحب کے ٹیوشن سینٹر پر پہلی اور اکلوتی مرتبہ گئے تھے۔

Read more

ہمارے ’بے نور معاشرے‘ کی کہانی

چار دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن میری یادداشت آج بھی ان مناظر سے فرار حاصل نہیں کر سکی۔ لاڑکانہ میں میرے گھر کی دہلیز پر میرے خاندان کے ساتھ کام کرنے والا لڑکا خون آلود کپڑوں میں دھاڑیں مار مارکر رو رہا تھا۔

ہم اسے مشتاق بھائی کہہ کر پکارتے تھے۔ ساتھ ہی اس کی چھوٹی بہن سہمی ہوئی بیٹھی تھی، میری نانی اور میری والدہ انہیں دلاسے دے رہی تھیں۔ شام کو مجھے خاندان کی خواتین کے باتوں سے کچھ اندازہ ہوا۔

Read more

تحریک انصاف کا جن اور جہانگیر ترین کی بوتل

دو بمقابلہ ایک، گویا سراسر نا انصافی، خصوصاً جب ٹی وی سکرینز پر ہی سیاسی اور غیر سیاسی لڑائیاں لڑی جا رہی ہوں۔ تاہم ان دنوں ہر شام ٹی وی اسکرینز پر معاملہ الٹا نظر آتا ہے۔ پیپلز پارٹی یا نون لیگ سے ایک سیاسی رہنما جبکہ تحریک انصاف کے دو سیاسی رہنما ٹی وی پروگرام میں شامل ہوتے ہیں۔ ایک کے نام کی تختی رہنما تحریک انصاف اور دوسرے کی شناخت رہنما جہانگیر ترین گروپ سے ہوتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل تک عمران خان صاحب کی حکومت کا دنگل اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے ساتھ تھا۔ لندن میں بیٹھے نواز شریف اور ملک میں موجود زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے سیاسی داو پیچ لڑنے کے لیے اپنی اولادوں یعنی مریم اور بلاول کو میدان میں اتارا ہوا تھا۔ ایک کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کے ذریعے اور دوسرے کا اس دھار پر اپنی میٹھی چھری تیز کر کے مستقبل سنوارنا مقصود تھا۔

Read more

زخمی افغانستان کی ادھوری کہانی

مجاہدین کے ”جہاد“ نے روسی افواج کی واپسی کے بعد رخ موڑا اور اقتدار کی رسہ کشی سے کابل کی زندگی کو گھیرے میں لیا تو عبدالسلام نے وطن کو خیرآباد کہا۔ دراصل عبدالسلام کی ہجرت کا سفر لاکھوں افغانوں کی طرح امن اور نوجوان نسل کے مستقبل کی تلاش کا سفر تھا۔

اپنے بزرگ والدین، بیوی اور اکلوتے بیٹے راشد کو لے کر مہاجرین کے قافلوں کے ساتھ پاکستان میں پناہ لی۔ عبدالسلام سے میری ملاقات انہی دنوں پشاور میں ہوئی جو شاید عمر بھر کی واقفیت میں تبدیل ہو گئی۔ ماضی کا یہ پائلٹ افغان قالینوں کی دکان پر ملازمت کرنے پر مجبور تھا۔

طالبان دور کے خاتمہ کے بعد جب افغانستان میں امن لوٹنے کی امیدیں جاگیں تو عبدالسلام بھی وطن واپس لوٹ گیا لیکن اب اسے ایک مرتبہ پھر بے یقینی نے گھیرے میں لے لیا۔

Read more

جہانگیر ترین: قریب ترین سے دور ترین

سیاسی جلسے کا اسٹیج ہو یا نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنے کا کنٹینر، یوں سمجھ لیجیے ایک سیاسی ہمسفر جیسی زندگی گزر رہی تھی اور اب جدائی کا سفر ناقابل یقین کہانی کا سفر ہے۔ ایک طرف عمران خان کی شخصیت کا دبدبہ، چاہنے والوں کے لیے سحر انگیز شخصیت، ماضی کے حکمرانوں، شریف خاندان اور زرداری کے خلاف دھواں دار تقاریر، نوجوانوں کے ذہنوں کے گرد انقلابی خوابوں کا حصار کھینچنے والے خان صاحب اور دوسری طرف سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر، جیبوں میں اربوں کا سرمایہ، رحیم یار خان کے مخدوموں، ملتان کے گیلانیوں اور سندھ کے پیر پگارا سے رشتہ داریوں کی دامن سے گرہیں باندھے ترین صاحب۔

Read more

روزنامہ امت، پاکستانی صحافت اور آگ کا دریا

برصغیر پر ڈھائی ہزار برس کی حکمرانی، فتوحات، پرانی تہذیبوں کا اجڑنا، نئی تہذیبوں کا جنم لینا، اسکول کے دنوں میں قرۃ العین حیدر کے مشہور ناول ’آگ کا دریا‘ میں یہ سب پڑھنے کا موقع ملا۔ انگریزوں کا قبضہ، برطانوی راج میں آزادی کی جنگ کو ظالمانہ انداز میں کچلا جانا، پھر بٹوارہ اور خون خرابہ۔

Read more

دنیا الٹی پلٹی

ماضی میں ایک دوسرے کے جانی دشمن اور اب ایک ہی میز پر ہم پیالہ، ہم نوالہ۔ امریکا اور مجاہدین کے ہاتھوں سوویت یونین کی شکست اور سلطنت کا شیرازہ بکھر جانا۔ نائن الیون کے بعد امریکا کی افغانستان پر چڑھائی کے بعد طالبان دور کا خاتمہ اور اب ایک دوسرے کے ساتھ صلح کی کوششیں۔

گزشتہ کل کے تنازعات اور آج کے سمجھوتے دنیا کی تاریخ رہی ہے۔ لیکن مسئلہ افغانستان میں ان ریاستوں اور گروہوں کے دامن پر ایک دوسرے کے خون کی چھینٹیں بھی ہیں اور نظریاتی اختلافات، مفادات اور تضادات کی نوعیت خطرناک حد تک الجھاؤ کا شکار رہی ہے۔

Read more

پاکستان: بگڑا گھر اور الجھے خواب

جنرل باجوہ صاحب کی اہم پالیسی ساز تقریر میں بیان کہ ہمیں احساس ہو گیا تھا کہ گھر کو ٹھیک کیے بغیر باہر سے اچھے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ حقیقت پسندانہ بیان ہے لیکن یہ گھر بگڑا کیسے؟ اس کے باسیوں نے اسے کیسے بھگتا؟ یہ حقیقت اس سے بھی زیادہ تلخ ہے۔ یہ سب کچھ ہماری زندگی میں ہی ہوا۔ آنکھ کھولی تو جنرل ایوب کا مارشل لاء، اسکول کی دہلیز پر قدم رکھے تو مشرقی پاکستان

Read more

سات دن، سات ووٹ اور طلسماتی سیاست

زرداری کی سات دن کی جیت کا سحر ٹوٹ کر بکھر گیا۔ مارچ کی پانچ تاریخ کو ان کے ساتھی ”ایک زرداری سب پر بھاری“ کا سیاسی منتر جپ رہے تھے اور وفادار یوسف رضا گیلانی کی جیت کو زرداری کا طلسماتی کرشمہ گردان رہے تھے۔

عمران خان حکومت بس دنوں کی مہمان ہے، اسٹیبلشمنٹ اب ”نا لائقیوں اور نا اہلیوں“ کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک گئی ہے، وسیم اکرم پلس بزدار جانے والے ہیں، اسٹیبلشمنٹ ”نیوٹرل“ ہو گئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسلام آباد کے اقتدار کی راہداریوں میں سازشی تھیوریوں کی گردش، زرداری کے وفاداروں کے اپوزیشن اتحاد کے گرد ”مستقبل کی جیت“ کے پھیرے۔ نواز شریف، مریم اور ان کے وفاداروں کے اسٹیبلشمنٹ پر وار جاری۔ مولانا فضل الرحمان زرداری کی ”عارضی“ جیت کے باعث سیاسی طور پر خاموش۔

Read more

سینیٹ الیکشن، ’سیاسی سپر اوور شروع‘

پہلی گیند نو بال ہوئی اور حفیظ شیخ کی شکست کے طور پر اپوزیشن کو فری ہٹ مل گئی۔ کہیں صادق سنجرانی کی بطور سینیٹ چیئرمین کے امیدوار کی نامزدگی دوسری نو بال اوراپوزیشن کے لیے ایک اور فری ہٹ ثابت نہ ہو جائے۔

سینیٹ انتخابات کی رات عجب سماں تھا۔ اسلام آباد کی مرگلہ پہاڑیوں کے دامن میں سابق صدر زرداری اپنی رہائش گاہ ’زرداری ہاؤس‘ میں یوسف رضا گیلانی کے ساتھ براجمان، بلاول بھی موجود، ارد گرد اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کا جھرمٹ۔

Read more

بائیڈن کا افغانستان

افغانستان میں جنگ ہو یا امن اس کی قسمت کا فیصلہ بدقسمتی سے سپر پاورز کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ سابقہ سوویت یونین یہاں کمیونزم کی طاقت سے حکمرانی کا خواہشمند تھا، جس کا مقابلہ ریگن کے امریکا نے مجاہدین اور ڈالرز کی تلوار سے کیا۔

ان دنوں دہائیوں سے جنگ کی آگ میں لپٹی اس سرزمین پر امن قائم کرنے کا چرچا ہے۔ سب کی نگاہیں امریکا کے نئے صدر جو بائیڈن پر لگی ہوئی ہیں کہ کیا وہ ٹرمپ اور طالبان کے مابین امن معاہدے کی پاسداری کریں گے یا پھر ایک نئی پالیسی کے تحت اس پر نظر ثانی کی جائے گی۔

Read more

میرے بھائی صاحب

میں لگ بھگ دو برس کا تھا تو میرے والد کا انتقال ہو گیا تھا لیکن یتیم ہونے کا احساس اپنے بڑے بھائی کی موت کے روز ہوا۔ نام نجیب، میرے نانا ”بابو جی“ جو خود ایک لٹریری شخصیت تھے ، انہوں نے مصر کے معروف لکھاری نجیب محفوظ سے متاثر ہو کر رکھا۔ گھر میں بڑے پیار سے انجم پکارتے اور ہم چھوٹوں کے لیے ”بھائی صاحب۔“ ننھیال میں نئی نسل کی پہلی اولاد تو ان کی پرورش ناز

Read more

میرے بھائی صاحب

میں لگ بھگ دو برس کا تھا تو میرے والد کا انتقال ہو گیا تھا لیکن یتیم ہو نے کا احساس اپنے بڑے بھائی کی موت کے روز ہوا۔ نام نجیب، میرے نانا ”بابو جی“ جو خود ایک لٹریری شخصیت تھے انھوں نے مصر کے معروف لکھاری نجیب محفوظ سے متاثر ہو کر رکھا۔ گھر میں بڑے پیار سے انجم پکارتے اور ہم چھوٹوں کے لیے ”بھائی صاحب۔“

ننھیال میں نئی نسل کی پہلی اولاد تو ان کی پرورش ناز نخروں کے ساتھ ہوئی۔ لیکن بچپن سے نوجوانی کے میرے سارے نخرے یا یوں کہیے آوارہ گردی والے سارے شوق بھی انھوں نے میری محبت میں پورے کیے یا پھر برداشت کیے۔

Read more

سینیٹ کا سرکس اور جادوئی آئینہ

قدیم ایران میں دنیا کے حالات جاننے کے لیے جادوئی پیالے ”جام جمشید“ سے کام لیا جاتا تھا۔ طلسماتی کہانیوں کے بادشاہ اپنی سلطنتوں کے حال اور مستقبل کی مشکلات جادوگر کے آئینے کی مدد سے جان لیا کرتے تھے۔

ان دنوں اگر وزیراعظم عمران خان جادوئی آئینہ استعمال کریں تو پہلی نظر میں تو سکون حاصل ہو گا۔ بدترین سیاسی حریفوں کی، صحرا میں منزل کی ناکام تلاش میں بھٹکے مسافروں کی طرح سانسیں اکھڑی، اکھڑی نظر آئیں گیں۔ جنوری بھی گزر گیا، نہ کوئی سیاسی طوفان بلکہ سردی کی ہوائیں بھی اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کی طرح تھم سی گئی ہیں۔

Read more

لب آزاد ہوں نہ ہوں لیکن ہاتھ تو آزاد ہیں

چند دن قبل سپریم کورٹ میں معزز جج صاحبان قاضی فائز عیسیٰ اور مقبول باقر کی عدالت سجی ہوئی تھی۔ کمرہ عدالت میں اٹارنی جنرل اور صحافی بھی مقدمہ کی کارروائی سن رہے تھے۔

مقدمہ تو خیر بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تھا لیکن کارروائی کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایسے موضوع کو چھیڑا، یوں سمجھ لیں، جیسے ہم صحافیوں کی نبض پر ہاتھ رکتے ہوئے اقتدار کے رکھوالوں کی دکھتی رگ پر چوٹ مار دی ہو۔

”آپ لوگ میڈیا کا گلا کیوں گھوٹ رہے ہیں؟ جمہوریت میں اظہار کی آزادی ہوتی ہے لیکن یہاں تو بولنے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ ہر مخالف غدار اور حکومتی حمایت کرنے والا محب وطن بتایا جا رہا ہے۔“ قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے سخت ریمارکس پر کیمرہ عدالت میں سناٹا چھا گیا اور سرکار کے وکلاء پر خاموشی طاری ہو گئی۔

Read more

پاکستانی سیاست میں درآمد شدہ کرداروں کا پتلی تماشا

بچپن میں ہمارے آبائی شہر لاڑکانہ اور اس کے گرد و نواح میں کوئی میلہ لگتا یا کوئی دوسرا تہوار ہوتا تو پتلی تماشا سجتا تھا۔ صدیوں پرانی مومل رانڑو، عمر ماروی اور اکبر بادشاہ جیسے مقامی کرداروں کی لوک کہانیاں ہوتیں۔

لیکن بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ان روایتی کہانیوں میں غیر ملکی ٹی وی سیریز کے کردار بھی آنے لگے، سکس ملین ڈالر مین یا جوڈو کراٹے والے چیمپین بروسلی کی پتلیاں بھی کھیل تماشے میں شامل ہونے لگیں۔ اب مجھے پاکستان کا سیاسی کھیل بھی اکثر اپنے بچپن کے پتلی تماشے کی طرح لگتا ہے۔ جہاں اس کی تاریخ میں شریف خاندان، بھٹو خاندان، اقتدار کے سیاسی نشیب و فراز، فوجی انقلاب، مداخلتوں اور سانحات کی کہانیاں رقم ہیں، وہاں گاہے بگاہے غیر ملکی پتلیوں کا پراسرار کردار بھی حیران کن ہے۔

Read more

چائے پانی کی دعوت یا کچھ اور؟

برسوں قبل پاکستان کی سیاست کے رموز سمجھنے اور سمجھانے کے لیے اشاروں کنایوں کا سہارا لیا جاتا تھا۔ شہر اقتدار یعنی اسلام آباد کے ایک عالی شان ہوٹل کی لابی اقتدار سے ہمیشہ جڑے رہنے والے سیاستدانوں کا گڑھ ہوتی تھی۔

ایک میز پر سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء کے صاحبزادے اعجاز الحق تو دوسری میز پر سگار سلگائے شیخ رشید اور ان کے ارد گرد بیٹھے صحافی۔ آس پاس کالی واسکٹوں میں مخصوص کردار، عقل پر زور دینے کی ضرورت ہی نہیں کہ ان کا کس قبیلے سے تعلق ہو سکتا ہے۔

Read more

انتہاپسندی، ماضی کی مہربانیوں کا ہے یہ فیض

گزرتا ہوا سال رخصت ہوتے ہوتے انتہا پسندی کا ایک اور داغ دے کر چلا گیا۔ کرک کے قصبہ ٹیڑی میں ہندو برادری کی عبادت گاہ پر حملہ ملک میں کئی دہائیوں پر محیط انتہا پسندی کی عکاسی کرتا ہے۔ اویس توحید کا بلاگ

Read more

مولانا کے خلاف ’بغاوت‘ ، اپوزیشن کا قلعہ کتنا مضبوط؟

مولانا فضل الرحمان کے سیاسی خوابوں کی تعبیر ہمیشہ سے عمران خان کی حکومت کا خاتمہ رہی ہے۔ انتخابات کے بعد ہی مولانا نے اعلان جنگ کر دیا تھا لیکن انہیں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی سیاسی چھتری کی ضرورت تھی۔

نواز شریف اور آصف زرداری مقدمات کے گرداب اور سمجھوتوں، مجبوریوں کے جال میں پھنسے ہوئے تھے۔ ہچکچاہٹ، فیصلہ سازی میں کمی، ماضی کی تلخیاں، ناراضگیاں اور باہمی عدم اعتماد بھی حکومت مخالف اتحاد کی تشکیل میں رکاوٹ بنا رہا۔ مفاہمتی اور مزاحمتی بیانیے کے مابین رسہ کشی سے تھک ہار کر، بالآخر نواز شریف اور آصف زرداری راضی ہو گئے اور حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم تشکیل پایا۔

Read more

گوادر: سمندری ہواؤں پر کانٹوں کے پھندے

 بلوچستان کی ساحلی پٹی پر واقعہ ماہی گیروں کا قدیم دیس گوادر مجھے ہمیشہ بحیرہ عرب کی لہروں پر سفر کرتی کشتی کی مانند لگا۔ تین اطراف گہرے سمندر کی بلند بالا لہریں، دوسری جانب مٹی اور سخت چٹانوں والا کئی سو فٹ اونچا اور میلوں پر پھیلا پہاڑ ’کوہ باطل‘ ماہی گیروں کی بستیوں کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے۔ کوہ باطل کے دامن میں بسنے والے ماہی گیروں کے بعض قبیلوں کا عقیدہ ہے کہ یہ پہاڑ

Read more

راولپنڈی سازش کیس اور پوشنی کا انقلاب

لانبا قد، ایتھلیٹ کی طرح چھریرا بدن، منٹو اور جیلیانوالہ باغ کے زمانے سے تحریک آزادی کے امرتسری رہنما ڈاکٹر سیف کچلو کے خاندان سے تعلق۔… یہ ہیں ظفراللہ پوشنی— پاکستان کے پہلے فوجی انقلاب کے کردار — 11 فوجی افسران اور چارسویلین کردار بشمول کمیونسٹ پارٹی کےلیڈر سجاد ظہیر اور شاعر انقلاب فیض احمد فیض نے حصہ لیا۔ پوشنی صاحب حیات ہیں اور ہمارے تاریخ کے اس موڑ کے آخری چشم دید گواہ— مارچ 1951 کا فوجی انقلاب ناکام

Read more

مجھے ڈر لگتا ہے

مجھے بچپن سے ڈرلگتا ہے۔ اندھیرے سے، سیاہ سائوں سے۔۔۔ بچپن کی کہانیوں کے خوفناک کرداروں سے۔۔۔ یاد ہے جب شام کے سائے ڈھلتے تو میرے آبائی گھر لکھپت بھون میں چارپائیاں ڈل جاتیں اور نانی کہانی سناتیں۔ جب ہمارے شہر لاڑکانہ پر مصیبت آتی تو ہزاروں برس قدیم موہنجودڑو کے کھنڈرات سے بھوت پریت اس کے گرد حفاظتی حصار کھینچ لیتے۔ بچپن میں کہانیاں سننا، پڑھنا یہ مشغلہ غالباً میرے فارسی بان نانا، جنہیں ہم بابو جی پکارتے تھے،

Read more

اسلام آباد میں گردش کرنے والی چند سازشی تھیوریاں

ہوٹل لابی سے سیاسی، غیرسیاسی لوگ، اینکرز، صحافی، اب کوہسار مارکیٹ پر مجمع لگاتے ہیں۔ گورے اور گوریاں گھومتے نظرآتے ہیں۔ فیشن ایبل علاقہ، ٹیبل ٹاک اور اسٹریٹ ون کیفے کھلے میں بیٹھنا۔ ہوٹل لابی سے کوہسار مارکیٹ، سازشی تھیوریاں پھر سے لبوں پر۔ اظہار کے لئے وہی کندھوں پر ہاتھ رکھنے والے اشارے۔ عمران خان حکومت سے ”حقیقی لوگوں“ کا دل اٹھتا جارہا ہے، گورننس میں غیر فعال معیشت کے بے لگام گھوڑے کو قابو کرنے میں ناکامی، پنجاب میں بزدار کی تعیناتی اور کارکردگی پر تحفظات۔ نومبر میں بڑی اہم تبدیلیاں، غرض یہ کہ سازشی تھیوریاں عمران خان کے آٹھ ماہ کے اقتدار کے بعد ہی عروج پر۔

اس سازشی شہر میں سازشی تھیوریوں پر کان دھرو تو لگتا ہے کہ الٹی گنتی شروع اور اگر ان سنی کردو تو لوگ آپ کو صحافی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ چلیں اسی سیاسی دیگ میں جھانگتے ہیں اور اصل بوٹیاں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read more

بھٹو خاندان: سیاست سے سولی تک

میرا بچپن ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت کی یاداشتوں سے بھرا پڑا ہے۔ موہنجوداڑو ایئر پورٹ پر شہنشاہِ ایران اور ملکہ فرح دیبا کو گلدستہ پیش کرنے کیلئے میرا چنا جانا، ریڈ کارپٹ پر غلط جانب کھڑے ہونا اور بھٹو صاحب کا مجھے وہاں سے اٹھا کر صحیح جگہ پر کھڑا کرنا۔ پھر ستتر کے انتخابات۔ بھٹو صاحب کا اپنی قریبی ساتھی اور میری والدہ کی بہترین دوست ڈاکٹر اشرف عباسی کے ہمراہ میری آبائی حویلی نما گھر ’’لکھپت

Read more

چھوٹا اسکول، بڑا خواب

سامنے ملک کے بڑے سیاسی بھٹو خاندان کی رہائش گاہ۔ المرتضیٰ۔ عقب میں وسیع اسٹیڈیم۔ وسط میں میرا سرکاری اسکول۔ میونسپل ہائی اسکول۔ آبائی شہر۔ قدیم شہر۔ لاڑکانہ۔ سویکارنو ہوں یا یاسرعرفات۔ شنہشاہ ایران ہوں یا معمر قذافی۔ یہ عالمی رہنماء ہزاروں برس کی تہذیب موہن جودڑو کے کھنڈرات کے قریب واقع ایئرپورٹ سے ہوتے ہوئے میرے اسکول کے سامنے والی سڑک پر بھٹو کی رہائش گاہ پر آتے۔ اسکول کے قریب ہی کامریڈ بخاری کا چھاپہ خانہ اور کامریڈ

Read more

سانپ اور سیڑھی کا کھیل

نوازشریف آج کل مزاحمتی لیڈر سمجھے جا رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ ہو یا عدلیہ کے خلاف بیانیہ ہو، وہ سمجھتے ہیں ان کے خلاف ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سازشی جال بن رہی ہے۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ انتخابی نعرہ بن چکا ہے۔ یعنی وہ پارلیمانی بالادستی اور سویلین کی بالادستی چاہتے ہیں۔ ملک میں جمہوریت پسند لوگ بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔ نوازشریف اس وقت نیب کے گرداب میں پھنسے ہیں، خاندانی سیاست داؤ پرہے، سزا

Read more