محبت ہو چکی پوری چلو اب ”رقم“ گنتے ہیں
تمام قسم کے ذرائع ابلاغ کے مطابق: بل اور میلنڈا گیٹس میں طلاق ہو گئی ہے تاہم دنیا کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم کے شریک بانی اور ان کی اہلیہ نے کہا ہے کہ وہ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاونڈیشن کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ خبروں کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی رشتے میں رہتے ہوئے ترقی نہیں کر سکتے۔ دونوں میں علحدگی کے بعد مالیاتی تقسیم کی تفاصیل فی الحال معلوم نہیں۔ تاہم بل اور میلنڈا دونوں ہی وارن بفیٹ گونگ پلیج کے تحت اپنی دولت کا بڑا حصہ فلاحی کاموں کے لیے خیرات کرنے کے پابند ہیں۔
ارب پتی بل گیٹس نے اپنی دولت میں سے اپنے ہر بچے کے لیے محض دس ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاونڈیشن نے عالمی صحت، متعدی امراض کے خلاف جنگ، تعلیم اور بچوں میں ویکسینیشن پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ گیٹس نے کورونا وائرس کے ویکسین تیار کرنے کے لیے تحقیق پر بھی کافی بھاری رقم کی سرمایہ کاری کی ہے۔
بل گیٹس اور ان کی اہلیہ ملنڈا گیٹس نے 27 سالہ شادی ختم کرنے کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ کیوں کہ محبت اور شادی کے 34 برسوں کے دوران میں کبھی بھی ان کے درمیان کشیدگی کی خبریں سامنے نہیں آئی اور ان کی جوڑی کا شمار دنیا کی وفادار جوڑیوں میں ہوتا تھا۔
طلاق اگرچہ کسی طور خوشی کی خبر نہیں لیکن اس طلاق کا سن کر کئی لوگ یوں خوش نظر آ رہیں کہ ہمیں ”آج زمانہ خوش ہے“ والا ”سیلونی گیت“ یاد آ رہا ہے۔ جو کہ ہم نے بھی کچھ دن پہلے یو ٹیوب پر سنا، جب کہ کسی دور میں ریڈیو سیلون سے ہر پہلی تاریخ کو یہ گانا باقاعدگی سے بجایا جاتا تھا: ”آج زمانہ خوش ہے آج پہلی تاریخ ہے“
علاوہ ازیں اس طلاق کے سلسلے میں کہیں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ طلاق پر جوڑا خوشگوار موڈ میں ہے۔ جب کہ ان کی صاحبزادی جینیفر گیٹس کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ یہ وقت ان کے لیے اور ان کی اولاد کے لیے کڑا ہے۔
اس خبر کی اہم باتوں میں سے ایک اہم یہ ہے کہ یہ طلاق دنیا کی مہنگی طلاقوں میں سے ہوگی۔ ملینڈا گیٹس اپنے شوہر سے طلاق لینے پر دنیا کی دوسری امیر ترین خاتون بن سکتی ہیں جن کی دولت 73 ارب ڈالرز ہو سکتی ہے۔ واشنگٹن کی کنگ کاؤنٹی کی اعلیٰ عدالت میں دائر طلاق کی درخواست میں جوڑے کے 146 ارب ڈالرز کے اثاثے تقسیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
اور ہم اس المیہ پر صرف ایک شعر تھوڑی سی تبدیلی کی ساتھ بطور تبصرہ پیش کر رہے ہیں کہ:
” محبت ہو چکی پوری
چلو اب ”رقم“ گنتے ہیں ”
اسی خبر میں ہے کہ بل گیٹس صاحب نے اپنے بچوں میں فی کس صرف دس ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اسلام آپ کو دولت کا ایک تہائی حصہ تو اپنی مرضی سے خیرات کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن باقی دولت اولاد سمیت مورثین میں تقسیم کرنی ہے۔ (اور انگریزی میں بھی کہتے کہ ”چیرییٹی“ گھر سے شروع ہوتی ہے ) اور اسلام میں کوئی اپنی اولاد کو عاق نہیں کر سکتا۔ یعنی جس طرح سے عیسائیت میں طلاق نہیں ؛ لیکن مغربی معاشرے میں طلاق دھڑلے سے دی جاتی ہے اسی طرح اسلام میں اجازت نہ ہوتے ہوئے بھی؛ لوگ بھاگ اپنی اولاد کو عاق کر دیتے ہیں۔ شاید ان دونوں مذاہب کے ماننے والوں نے اس سلسلہ میں وٹہ سٹہ کر لیا ہے!
یہاں ہم اس بات پر اہل مغرب کو سراہیں گے کہ یہ ”کفار“ خیرات و صدقات تو نہیں کرتے نہ ہی زکوٰۃ دیتے ہیں لیکن چیریٹی بہت کرتے ہیں۔ (مکرر عرض کہ انگریزی میں بھی کہتے کہ ”چیرییٹی“ گھر سے شروع ہوتی ہے ) یہاں تک ہماری اسپتالوں سمیت کتنے ہی قسم کے اداروں کی کفالت یہی کفار کرتے ہیں لیکن ہمارے اکثر سرکاری اور غیرسرکاری اسپتال جو دنیا بھر سے چندہ لینے کا دھندہ کر رہے ہیں وہ غیرمسلموں کو زکوٰۃ سے علاج مہیا نہیں کرتے کہ یہ تو غیر مسلموں کے لیے جائز نہیں۔ بے شک آپ صحیح ہیں لیکن کیا غیرمسلموں سے ملنے والی رقوم پر بھی ان کا حق نہیں؟ اور کیا کبھی آپ نے تالیف قلوب کا نام بھی سنا ہے؟
اس خبر کے اہم پہلوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس طلاق کا موازنہ پاکستانی یا پھر مسلم سماج سے کیا جا رہا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ ہم غلط ہوں لیکن سائنس کے بارے میں مسلمانوں کی یا کسی کی بھی اجارہ داری کے دعوے کی تائید نہ کرتے ہوئے کہ سائنس انسانیت کی مشترکہ میراث ہے ؛ طلاق پر اسلام کے اجارہ داری کا دعویٰ ہم ضرور کر سکتے ہیں۔ یہ وہ نعمت جو دنیا بھر کو اسلام نے ہی عطا کی ہے ورنہ دنیا کے اکثر الہامی یا غیر الہامی مذاہب میں طلاق نہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق مسیحیت اور ہندومت جیسے بڑے مذاہب میں بھی طلاق کی کوئی گنجائش نہیں۔
ان مذاہب میں شادی اک آسمانی رشتہ ہے کہ جسے توڑنے کی اجازت نہیں۔ بلکہ یہ ٹوٹتا ہی نہیں۔ ان مذاہب میں طلاق کہیے تو ”حرام“ یا پھر ”ٹیبو“ ہے۔ اگرچہ ہمیں اس حوالے سے کسی بھی مذہبی کتاب یا گرنتھ کا حوالہ یاد نہیں آ رہا لیکن ایک بھارتی فلم شاید ”برسات“ (راج کپور والی نہیں، دوسری) کا ایک منظر اور مکالمہ یاد آ رہا ہے کہ ہیروئن پریانکا چوپڑا ارشاد فرماتی ہیں، ”طلاق اردو کا شبد ہے اور ہندو دھرم میں طلاق نہیں۔“
ہاں البتہ مسلمانوں کے دیکھا دیکھی ”مہذب مذاہب“ نے بھی یہ ”بدعت“ اختیار کرلی۔ باقی سب ”مسٹری“ ہے!

