دشت حیرت


جب تک زندہ ہو خوشی خوشی زندگی گزارو۔ موت کی متلاشی آنکھ سے کسی کو مفر نہیں۔ جب ایک مرتبہ تمہارا یہ بدن جلا دیا جائے تو یہ دوبارہ واپس کیسے آ سکتا ہے؟

برہسپتی

میں دشت حیرت میں ہوں اور سقراط کے اس نامعلوم خدا کو تلاش کر رہا ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میری تلاش کا پیمانہ بہت زیادہ وسیع نہیں ہے۔ ہاں کچھ اپنی کوشش اور مسلسل جہد آوری اور آس کی لگن ہے کہ جس کی وجہ سے کبھی نہ کبھی میں بہت سارے رازوں سے واقف ہوہی جاؤں گا اور ان لوگوں سے بھی جن کے سینے میں کئی راز پوشیدہ ہوتے ہیں۔

تلاش چاہے کسی بھی چیز کی ہو، محبت کی ہو یا عقیدت کی، زندگی کی ہو یا موت کی، جھوٹ کی ہو یا حقیقت کی، صحیح وقت پر دریافت نہ ہونے پر انسان ہار جاتا ہے۔ تھک کر گر جاتا ہے۔

زندگی کے نت نئے فلسفوں کی تلاش میں ماضی کی بہت ساری گپھاؤں سے گزرا جہاں اندھیرے اور اجالے کی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ کہیں اندھیرا اجگر کی طرح ڈکاریں لے رہا تھا تو کہیں اجالا عنقاء کی طرح اپنے دونوں بازوؤں کو پھیلا کر اندھیرے کو نگلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اسی اندھیرے میں حیات و ممات سے متعلق فلسفوں کا کاروبار کرنے والے لوگ بھی تھے۔ ان کی ایک بھیڑ تھی اور اسی بھیڑ میں برہسپتی کے چار داکوں نے اپنا بیوپار شروع کر دیا تھا۔ میں اس اندھیرے غار میں قدم رکھنے ہی والا تھا کہ ایک آواز آئی۔

’جب تک زندہ ہو خوشی خوشی زندگی گزارو۔ موت کی متلاشی آنکھ سے کسی کو مفر نہیں۔ جب ایک مرتبہ تمہارا یہ بدن جلا دیا جائے تو یہ دوبارہ واپس کیسے آ سکتا ہے؟‘

تھوڑی دیر خاموشی رہی اور پھر ایک خوفزدہ کردینے والی آواز گونجنے لگی۔

’کوئی مافوق الفطرت (الوہی ) قوت موجود نہیں۔ خدا غریبوں کو دھوکا دینے کے لیے امیروں کا وضع کردہ فریب ہے‘

زمانہ حال میں ویران حویلیوں کی بوسیدہ عمارتوں کو زمین بوس ہوتے دیکھ آیا تھا جہاں آثار قدیمہ کے در و دیوار پر ننگ و عار سے مزین کچھ تصویریں آویزاں تھیں جو مرد و عورت کو جنسی عمل کی طرف راغب کرنے میں اور بے حیائی کو فروغ دینے میں انتہائی گھٹیا کردار ادا کرتی ہیں۔ شاہی بازاروں میں کچھ دکانوں کو میں نے کھڑکیوں سے جھولتے بھی دیکھا تھا جہاں محرابی دھاریاں روز اپنا سر پٹختی رہتی تھیں۔

پھر کیا ہوا تھا؟

میں نے اس روز شاہی کھنڈر کے ملبے تلے سرد لاشوں کو بھی دیکھا تھا۔ اس روز ایک بارش کی چھوٹی سی بوند بھی میرے سر پر آ ٹپکی تھی۔ یہ بارش کی بوند قدرتی بارش سے بہت الگ تھی۔ اور یہاں کے آسمان بھی خدائی آسمان سے الگ اور مختلف تھے۔ اس آسمان کے نیچے کفر کا بادل تھا۔ وہ میری زندگی کا ایک بھیانک دن تھا جب میں نے اس بادل کو غیر ملبوس پایا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ اس وقت برہسپتی کے چارداکوں کے چہرے پر ہنسی تھی۔ اپنے چہرے پر ہوائیاں اڑتے دیکھ کر میں اپنے آپ میں سرگوشیاں کرنے لگا۔

کیا سچ میں کوئی الوہی طاقت نہیں؟

گپھا کے اندر ایک تنگ سرنگ بھی تھی جس سے تھوڑی تھوڑی روشنی چھن کر باہر کو آ رہی تھی۔ میں اس طرف دیکھ رہا تھا۔ شاید کوئی میری طرف بڑھ رہا تھا۔

ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کسی نے پیچھے سے میرے کپڑے کو زور سے پکڑا اور میں اس تنگ سرنگ کے اندر گھسٹتا چلا گیا۔ گھبراہٹ اور خوف کے احساس میں اتنی شدت ہو گئی کہ جیسے کوئی جہنم کا داروغہ مجھے دوزخ کی کھائی میں گھسیٹ کر لیے جا رہا ہو۔

’آپ کون ہیں؟‘

’میں تمہاری دنیا کا وہ شخص جس نے قوانین کی سالمیت کو برقرار رکھنے اور حق کی تلاش کی خاطر زہر کا پیالہ گھونٹ لیا‘

’یومن آپ ڈاکٹر سقراط ہیں۔ ؟‘
’نہیں صرف سقراط کہو‘
’کیا سچ میں کوئی الوہی طاقتوں کا دنیا میں وجود نہیں۔ ؟‘
’اپنے آپ کو پہچانو۔‘
یہ اس کا جواب تھا۔ میں نے اس بات کو کاٹتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا؟
’کیا سچ میں کوئی الوہی طاقت؟‘
’میں ایک بات خوب جانتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں کچھ بھی نہیں جانتا۔‘
’تو کیا تلاش حق میں ساری زندگی فلسفیانہ بحثوں کی نذر کردینے کا انجام محض کچھ نہیں جاننا ہوتا ہے؟‘
یہ سن کر وہ بھڑکا۔ اس کے چہرے پر وحشت کا سایہ تھا۔

’ہاں ساری زندگی فلسفیانہ بحثوں کی نذر کردینے کے باوجود بھی انسانی عقلیں صحیح سے غلط کو تمیز کرنے میں اور گودے سے چھلکے نکالنے میں ناکافی ثابت ہوئی ہیں‘

یہ کہہ کر اس نے جزدان میں لپٹا ایک صحیفہ میرے حوالے کیا اور یہ کہتے ہوئے مجھے رخصت کر دیا کہ
’اس سے کبھی بھی الگ مت ہونا۔

سرنگ سے باہر آیا تو برہسپتی کے چارداکوں نے مجھے اپنی حصار میں لے لیا۔ ان سب کی زبان پر ایک ہی بات تھی۔

’کیا تم اب بھی سمجھتے ہو کہ کوئی الوہی طاقتوں کا نظام اس دنیا کے پیچھے ہے۔ ؟
’پتا نہیں۔‘
اس وقت میں بہت گھبرا یا تھا۔
’کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس دنیا میں کئی خدا پہلے ہی سے موجود ہیں۔ ؟‘

میں نے انہیں نظر انداز کیا۔ اپنی چادر کو سمیٹتے ہوئے کان بند کر لیا اور اپنے بازو میں سقراط کے دیے گئے جزدان میں لپٹے اس مصحف کو لے کر اس خوفناک گپھا سے باہر نکل آیا۔

باہر نکلا تو یہاں کچھ بھی پہلے جیسا نہیں تھا۔ یہاں کی فضاء پہلے سے بھی زیادہ زہریلی ہو چکی تھی۔ ہر طرف دھند کی لہر تھی اور میری نگاہوں سے بہت دور سڑکوں پر کچھ گاڑیاں تیزی سے رقص کر رہی تھیں۔

میں صحیفے کو سینے سے چمٹائے کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔

میرے دیکھتے ہی دیکھتے ایک دھماکہ ہوا اور سڑکوں پر رقص کرتیں گاڑیاں کئی فٹ اوپر فضاء میں چکر کاٹنے لگیں۔ دھند پر سیاہ دھوئیں کی دبیز چادر غالب آ گئی۔ خاکستری سڑکیں سرخ رنگ ہو گئیں اور انسانی جسم کے خون آلود لوتھڑے زمین کی سطح پر جنبش کرنے لگے۔

مجھے لوگوں کے مرنے کا بہت دکھ ہوا۔ اس وقت میں نے خود کو سنبھالا تھا۔ تیزی سے دوڑا اور خود کو بچانے کی کوشش میں آنکھ بند کر کے دوڑتا رہا۔ دوڑنے کے دوران میں نے اپنے پاؤں تلے تازہ ہڈیوں کی کڑکڑاہٹ بھی سنی جو ابھی بھی زندہ ہونے کی علامت ظاہر کر رہی تھیں۔ کئی چیخیں بھی میری کانوں سے ٹکرائیں جو ربوبیت پر سوال کھڑا کر رہی تھیں۔ جسم کے کئی چیتھڑے بھی مجھ سے روندے گئے تھے۔ لیکن مجھے کچھ پتا نہیں تھا کہ میں کہاں دوڑ رہا ہوں۔ مسلسل دوڑنے کی وجہ سے میرا لرزیدہ جسم کسی کھمبے سے ٹکرایا اور میری نیند ٹوٹ گئی۔

تو کیا یہ سب خواب تھے۔ ؟

ہاں خواب تھے مگر میں اس خواب کے اندر جاگ رہا تھا اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ سقراط کا دیا صحیفہ میرے ہاتھ میں تھا۔ اور برہسپتی کے چارداکوں کی مضحکہ خیزی بھی کہ

’کوئی مافوق الفطرت (الوہی) قوتیں موجود نہیں۔ خدا غریبوں کو دھوکا دینے کے لیے امیروں کا وضع کردہ فریب ہے۔‘

اب چوں کہ میں سرد لاشوں کو کچل کر خواب سے باہر آیا تھا۔ میں بھی دنیا میں ہو رہے فساد اور خونریزی کو دیکھ کر اس فلسفے کا شکار ہو گیا کہ خدا غریبوں کو دھوکا دینے کے لیے امیروں کا وضع کردہ فریب ہے۔ تنگ سرنگ میں سقراط سے ہوئی گفت و شنید سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ بعض جگہ انسانی عقلیں حق کی تلاش میں ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔

اور سقراط نے صحیفہ حوالہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اس سے کبھی بھی الگ مت ہونا۔ میں نے اس صحیفے کو پڑھنا شروع کیا۔ پہلے صفحہ پر لکھا تھا۔

’بے رنگ دنیا۔ نور، دھوپ، سمندر، صحرا۔ سب فریب۔‘
میں ایک ایک کر کے صفحے پلٹتا چلا گیا۔
’عشق فریب، عشق کی انتہا فریب، انسان کا ہونا فریب۔‘
میں پڑھتے پڑھتے ایک جگہ ٹھہرا اور چونک گیا۔ لکھا تھا۔

’میں سقراط نہیں۔ ابو جہل ہوں۔ اور ایک نادیدہ خلا میں بھٹکتی ہوئی روح ہوں۔ میں انسان نہیں ہمزاد ہوں۔ سایہ ہوں۔ عکس ہوں۔ جب ایتھنز کی وادیوں میں میرے زہر کا پیالہ رقص کرے گا، میں ہنسوں گا، قہقہے لگاؤں گا اور نا معلوم خدا سے ملاقات کی کوشش کروں گا۔‘

میں دشت حیرت میں تھا اور سقراط گم تھا اور میں اب بھی سوالوں کا پیچھا کر رہا تھا۔ خواب میں داغ کیوں ہوتے ہیں؟ خواب فرار کے راستوں کو آواز کیوں دیتا ہے؟ خواب فریب کیوں ہوتا ہے؟

میں اب بھی دشت حیرت میں ہوں اور مسلسل دوڑ رہا ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔

Facebook Comments HS