کالا پانی کی جیل میں تاریخ کا سب سے بڑا قتل کیسے ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسے کالا پانی کے ان جزائر پر وائسرائے ہند لارڈ میو کے ساتھ موجود لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے قریب موجود ایک کمزور جسم کا پٹھان اگلے لمحوں میں کیا قیامت ڈھانے والا ہے اسی طرح کشتی میں سوار ہونے کے منتظر متحدہ ہندوستان کے گورنر جنرل وائسرائے لارڈ میو کے بھی خواب و خیال میں نہیں تھا کہ یہ اس کی زندگی کے آخری لمحے ہیں اور جس جیل کے دورے سے وہ مزید نیک نامی کمانے آیا تھا وہیں جیل اس کا مقتل گاہ بھی بن سکتی ہے۔

انگریز سرکار کی متحدہ ہندوستان میں موجود تمام تر طاقت سے مزین لارڈ میو اپنے سینکڑوں مرد و خواتین دوستوں کے ہمراہ ان جزائر پر آئے تھے تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں قضا یہاں کھینچ لائی ہے اور وہ قضا بھی کسی بڑی فوج کے حملے کی صورت میں نہیں بلکہ قتل کے الزام میں سزایافتہ ایک اکیلے آفریدی کو کی خیل پٹھان کے ہاتھوں لکھی ہوئی ہوگی۔ لارڈ میو کے ہمراہ حکومتی مشینری کے اہم ترین لوگوں کے علاوہ ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ سارا دن محظوظ ہونے اور قہقہے بکھیرنے کے دوران کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ واپسی پر ان کے ہمراہ لارڈ میو نہیں بلکہ ان کی لاش جائے گی۔

جزائر انڈیمان کی یہ جیل جسے اس کے جغرافیہ (یعنی اردگرد گہرے پانیوں ) اور قیدیوں پر یہاں ڈھائی جانے والی سختیوں کی بدولت اسے کالا پانی کی جیل کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے میں اس دور کے سب سے ہائی پروفائل قتل کے بارے میں اپنی کتاب ”لارڈ میو کا قتل، جہاد اولین؟“

The Assassination Of Lord Mayo: The ’First‘ Jihad?

میں ڈاکٹر ہیلن جیمز لکھتی ہیں کہ 8 فروری 1872 کو اس سزایافتہ پٹھان شیر علی خان کے ہاتھوں وائسرائے ہند کے اس قتل نے ہندوستان میں برطانوی سرکار کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا۔

شیر علی خان کالا پانی کیسے پہنچا

شیر علی خان آفریدی جو یوں تو اس وقت کے خیبر ایجنسی اور موجودہ ضلع خیبر میں خوبصورت پہاڑی علاقے تیراہ سے تعلق رکھتا تھا لیکن وہ پشاور میں کمشنر کے پاس ملازم تھا اور اس سے پہلے وہ انگریز سرکار کا ایک وفادار فوجی اور خاص گھڑسوار دستے کا حصہ تھا جسے اس کی خدمات اور کارکردگی کی بدولت ایک گھوڑا، ایک پستول اور ایک سرٹیفیکیٹ بھی انعام میں ملا تھا جو اس وقت کے اچھے خاصے اعزازات میں شمار کیے جاتے تھے۔ شیر علی کے خاندان میں ایک مستقل تنازعے کی بدولت خود رشتے داروں میں سے ایک دوسرے کو قتل کرنا ان کا معمول تھا اور اسی معمول کے مطابق ایک دن اپنے دفتر سے چند قدم کے فاصلے پر پش اور چھاؤنی کے مال روڈ پر کمپنی باغ کے قریب اس کا سامنا اپنے ایک ایسے ہی رشتے دار یعنی دشمن خاندان کے فرد سے ہوا اور کہتے ہیں کہ وہ شیر علی کے ہاتھوں قتل ہو گیا اور شیر علی خان آفریدی گرفتار ہو کر سزائے موت کا مستحق قراردیا گیا تاہم دوران ملازمت انگریز کی وفاداری، خدمت، اس کی اچھی شہرت اور اخلاق کی بدولت اس کے افسروں نے درخواست کر کے اس سزا کو عمرقید میں تبدیل کر دیا تاہم عمرقید بھگتنے کے لئے اس کے حصے میں کالا پانی کا بدنام زمانہ قید خانہ آیا۔

قتل پر آمادہ کیوں ہوا، ایسا کیا تھا جو اسے برا لگا؟

کالا پانی میں جیل کاٹنے کے دوران اس کے ہاتھوں لارڈ میو کو قتل کرنے کے بعد اپنے قیدی ساتھیوں کو اپنی تیاری کا ذکر کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ اس نے وہ جرم کیا ہی نہیں تھا جس پر اسے عمرقید کی یہ اتنی بڑی سزا دی جاتی اور اسی لئے اس نے 1869 سے یہ ارادہ کیا تھا کہ کسی بڑے انگریز افسر کو مارے گا اور کالا پانی کے جیل میں آنے کے بعد جب اسے قیدیوں کی حجامت بنانے کا کام سونپا گیا تو اس نے اس کام کے لئے استعمال ہونے والا وہی استرا یا چھری ہمیشہ تیز رکھی کہ شاید اسے اپنا ارادہ پورا کرنے کا موقع مل جائے اور آخرکار 8 فروری 1872 کو اس کی یہ خواہش پوری ہو گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ لارڈ میو جب کالا پانی آئے تو باقی قیدیوں کے مقابلے میں مجھے حاصل آزادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا لیکن موقع نہیں ملا اور آخر میں گاڑی کی آڑ میں چھپ گیا اور یہاں میری خواہش پوری ہو گئی۔ (حوالہ: کتاب تواریخ عجیبہ از مولانا محمد جعفر تھانیسری)

یہ کتاب تواریخ عجیبہ (کالا پانی) اہلحدیث مکتبہ فکر کے رہنما مولانا محمد جعفر تھانیسری کی خودنوشت ہے وہ اس قتل کے وقت خود اس جیل میں قید تھے اور اپنی اس کتاب میں انہوں نے شیر علی خان کے ہاتھوں لارڈ میو کے قتل کے اس وقت کے حالات لکھے ہیں۔ انگریز اہلحدیث رہنماؤں کو وہابی کہہ کر پکارا کرتے تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ لفظ انہیں اچھا نہیں لگتا۔

جزائر انڈیمان (کالا پانی)

ان جزائر کے بارے میں قریبا تمام مقامات پر ایک ہی جیسی تفصیل دی گئی ہے جس کے تحت قریبا یہ ایک ہزار جزائر خلیج بنگال میں کلکتہ سے چھ سو میل کی مسافت پر واقع ہیں یہ سب جزائر پہاڑی ہیں اور ان میں بہت کم ہموار زمین پر ہیں۔ یہاں پر میٹھے پانی کا کوئی ندی نالہ تک نہیں۔

ان جزائر کے بارے میں مولانا جعفر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مجھے جب کالا پانی میں لایا گیا تو میں نے یہاں دیکھا کہ یہاں پر 1857 کی جنگ آزادی کی بدولت بہت سے راجے، نواب، زمیندار، مولوی، مفتی، ڈپٹی کلکٹر، منصف، صدر الصدور، رسالہ دار اور صوبے دار وغیرہ سنت یوسفی ادا کر رہے ہیں یعنی یہ سب پہلے سے یہاں پر قید تھے۔

کئی کتابوں کے تحریر کرنے والے فیروز خان آفریدی بھی شیر علی خان آفریدی کے بارے میں اپنے ایک تحقیقی مضمون میں لکھتے ہیں کہ کالا پانی کے ان جزائر پر تحریک خلافت اور دوسرے دینی علما و مجاہدین کے بہت سارے اکابرین بھی قید رکھے جاتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ قیدی اپنی پوری زندگی انگریزوں کی قید میں سخت محنت مزدوری کرتے ہوئے گزارتے تھے۔ قیدیوں اور ان کے محافظین رکھوالوں کے علاوہ کسی اور کو ان جزیروں پر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ کبھی کبھار اگر خوش قسمتی سے کسی قیدی کی رہائی ہوتی تو ان کے توسط سے مقامی اور محدود میڈیا میں خبر آجاتی کہ وہاں کے قیدیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

لارڈ میو کب اور کہاں شیر علی خان کا نشانہ بنے

ڈاکٹر ہیلن جیمز لکھتی ہیں کہ لارڈ میو اور اس کی بیوی اس سفر پر اپنے دوستوں کی بڑی تعداد کے ہمراہ سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو سے 24 جنوری کو روانہ ہوئے اور 28 جنوری کو رنگون پہنچے جہاں پر راستے میں ان کے تاریخی استقبال ہوتے رہے اس دوران لارڈ میو اپنے دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کے علاوہ انڈیا کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی ڈاک کو بھی پڑھتا تاکہ اس کی عدم موجودگی میں انڈیا میں ہونے والی کسی بغاوت کے لئے وہ تیار رہے۔

لارڈ میو نے سارا دن یہاں پر مختلف مقامات کے دورے کیے اور شام کے وقت اچانک ان کے دل میں آئی کہ مونٹ ہریٹ کی پہاڑی کو بھی دیکھا جائے۔ وقت نامناسب جان کر پرائیویٹ سیکرٹری اور چیف کمشنر نے انہیں بہت روکا لیکن وہ نہ مانے اور اپنی کشتی میں ہوپ ٹون کے پل پر پہنچ گئے جو کہ کوہ ہریٹ کے زیریں علاقے میں آباد ہے۔

مولانا جعفر تھانیسری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ یہی وہ مقام تھا جہاں سے شیر علی خان چھری لئے ہوئے لارڈ میو کے ساتھ ہو لیا شیر علی خان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے پاس موجود چھری کو تیز کیے ہوئے کسی بڑے افسر کو مارنے کے لئے بے چین تھا لیکن اسے کہیں کوئی موقع نہ مل سکا اس دوران لارڈ میو پہاڑی پر پہنچ گئے وہاں پر غروب آفتاب کا نظارہ کیا اور اس کے سحر میں ایسے کھو گئے کہ اندھیرا چھا گہرا ہو جانے کے بعد انہیں واپس جانے کا خیال آیا۔

ان کے چاروں طرف پولیس کا مسلح پہرہ تھا جبکہ افسروں کی بڑی تعداد بھی لارڈ کے ارد گرد موجود تھی اس دوران لارڈ میو گھاٹ کے قریب کھڑی ہوئی گاڑی کے نزدیک پہنچے تو اچانک یہاں اس پر شیر علی خان نے پیچھے کی طرف سے حملہ آور ہو کر ان پر وار کیے جس سے لارڈ میو لڑکھڑا کر سمندر میں گر گئے۔ اس دوران گڑبڑ کی وجہ سے تمام مشعل برداروں کے ہاتھوں سے مشعلیں گر کر گل ہو گئیں۔ ایک قیدی نے آگے بڑھ کر شیر علی خان کو قابو کر لیا جبکہ لارڈ میو کو سمندر سے نکال کر گاڑی پر لٹایا گیا جو مشکل سے چند باتیں کرنے کے بعد ہی ہلاک ہو گئے۔

لارڈ میو کے نام پر لاہور کا میو ہسپتال، میو کالج آف آرٹس ہیں جو اب نیشنل کالج آف آرٹس کہلاتا ہے۔

وائسرائے لارڈ میو کے دورے کا مقصد کیا تھا

وائسرائے کو 1869 میں جیلوں سے قیدیوں کی مشکلات کی خبریں ملیں تو اس نے بعض ایسے فیصلے کیے جس سے وہ قیدیوں سمیت عام لوگوں میں بھی بہت مشہور ہوا۔ قیدیوں کو یہ فائدے سال 1871 میں دیے گئے۔ معروف تاریخ دان محمد شفیع صابر اپنی کتاب تذکرہ سرفروشان سرحد میں لکھتے ہیں کہ وائسرائے خود انڈیمان کے جزیرے پر قائم جیل کا دورہ کرنے کا خواہش مند تھا وہ صبح سویرے جزیرے پر پہنچا تو اس کے ہمراہ اس کی بیوی اور تمام اہم سرکاری افسران موجود تھے یہ کسی بھی وائسرائے کا جزیرے کا پہلا دورہ تھا اس لئے سیکورٹی کے خاص انتظامات کیے گئے تھے۔

جزیرے پر پہنچنے پر وائسرائے میو کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی اس نے پورا دن قیدیوں کی بیرکوں اور فیکٹریوں کے دورے کیے۔

شیر علی خان آفریدی کی اچھی شہرت اس کی مددگار رہی

امبیلا جنگ میں شیر علی نے انگریزوں کی خدمت کی تھی۔ مورخین لکھتے ہیں کہ انہی وجوہات کی بنا پر شیر علی کی سزائے موت کو کالا پانی کی عمر قید میں بدل کر جزائر انڈیمان بھیج دیا گیا۔ اس کی اچھی شہرت بھی اس کے ساتھ آئی تھی اور یہاں پر جیل میں بھی نماز، روزے اور غریبوں کی مدد کرنے سے اس کے بارے میں تاثر مزید بہتر ہوا اور یوں اس سے وابستہ خطرات کے بارے میں خدشات کم ہوئے اور اسے باقی قیدیوں کے مقابلے میں نقل و حمل کی زیادہ آزادی میسر رہی بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس کی تلاشی بھی باقی قیدیوں کے مقابلے میں کم ہی لی جاتی تھی یہی وجہ ہے کہ وہ چھری یا استرا لے کر وائسرائے تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکا۔

یوں تو وہ ایک اچھے اخلاق کا حامل شخص سمجھا جاتا تھا لیکن جزیرہ انڈیمان میں انگریزوں کے وحشیانہ سلوک اور قیدیوں کو گھٹ گھٹ کر مرتے دیکھ کر وہ بدحواس ہو گیا تھا۔

قتل کے پیچھے سازش کا شبہ

لارڈ میو کے قتل نے پوری برطانوی سلطنت کو صدمے سے دوچار کر دیا۔ فرانزک تفتیشی ٹیمیں انڈمان پہنچ گئیں اور وہاں اپنا کام شروع کیا۔ تمام سراغ رساں اور تفتیش کا راس قتل کو ایک بڑی سازش کا حصہ سمجھتے تھے اور وہ اسے بہرصورت ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اس کا تعلق ضرور جیل میں موجود تین مسلمان مذہبی شخصیات مولانا محمد جعفر تھانیسری، یحیٰی علی اور مولوی احمد اللہ سے ہو سکتا ہے یہ تینوں مذہبی شخصیات 1857 کی جنگ آزادی سے پہلے سے ہی پٹنہ اور دہلی میں مساجد میں تقاریر کے ذریعے مسلمانوں کو انگریز مخالف جذبات ابھارنے کے الزامات کے تحت قید تھے اور اسی لئے انگریز سرکار کو اس بات کا پکا یقین ہو چلا تھا کہ ہو نا ہو ان تینوں نے شیر علی خان کو وائسرائے کے قتل پر آمادہ کیا ہو گا۔

ڈاکٹر ہیلن جیمز اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ بہت سے تجربہ کار تفتیشی افسران کو کسی نہ کسی طرح شیر علی آفریدی کی مجاہدین کے رہنماؤں سے کوئی ایک لنک تلاش کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا تاہم ان میں سے کوئی بھی شیر علی آفریدی اور ان تین مسلمان رہنماؤں کے بیچ کوئی ربط تلاش نہ کرسکے۔

وہ مزید لکھتی ہیں کہ شیر علی خان آفریدی کے ہاتھوں وائسرائے کے قتل سے کچھ ماہ پہلے کلکتہ میں 20 ستمبر کو ایک وہابی مسلمان کے ہاتھوں قائمقام چیف جسٹس جون نارمن کے قتل کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ دوبارہ ایسے کسی واقعے کا راستہ روکنے کے لئے حکومت نے ضرور سیکورٹی کو مضبوط کیا ہو گا اور خصوصاً ایسے حالات میں جب پورے ہندوستان میں معروف وہابی جہادی رہنماؤں کے خلاف مقدمات چل رہے تھے اور وہ لوگوں کو انگریز کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر رہے تھے۔

بعد از گرفتاری بیانات

شیر علی آفریدی نے پیشیوں کے دوران عدالت کو بتایا کہ وائسرائے کا قتل اس کا ذاتی فیصلہ تھا اور اس قتل کی تیاری کے دوران وہ ایک آدھ بار مایوس بھی ہوا لیکن پھر وائسرائے کی بدقسمتی یعنی اس کی موت میرے قریب لے آئی۔

وائسرائے کو مارنے کے بعد عدالت میں اس سے پوچھا گیا اس کام کے لئے اسے کس نے اکسایا تھا۔ وہ صرف اتنا جواب دے سکا کہ میں نے اسے اللہ کے حکم سے مارا ہے اور اس میں اللہ نے میری مدد کی ہے۔

وائسرائے لارڈ میو کے قتل کے بعد شیر علی پر ایک بار پھر مقدمہ چلایا گیا اور ایک بار پھر اسے سزائے موت دی گئی۔ 11 مارچ 1873 کو جب اسے پھانسی پر لٹکانے کے لئے لے جایا گیا تو دیکھنے والوں کے مطابق اس کی آنکھوں میں اطمینان اور چہرے پر مسکراہٹ نظر آئی۔ اس نے پھانسی کی رسی کو چوما اور کہا ”جب میں نے وائسرائے کو مارنے کا ارادہ کیا تھا، تو میں نے پہلے ہی یہاں کا تصور کر لیا تھا“ ۔

اس نے ان مسلمانوں کو مخاطب کیا جو ان کی پھانسی دیکھنے دیکھنے کے لئے آئے تھے۔
”بھائیو، میں نے آپ کے دشمن کو مار ڈالا ہے آپ گواہ رہو کہ میں مسلمان ہوں۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *