علمی چمگادڑوں کی خدمت میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اپنے بچپن سے علمی لوگوں سے بہت متاثر تھا۔ خود بھی ایک علمی انسان بننا چاہتا تھا۔ میں چھوٹے چھوٹے کتابچے لکھا کرتا اور خود کو مصنف کہلوانا پسند کرتا تھا۔ ان کتابچوں میں کچھ مضامین، کچھ کہانیاں اور کچھ نظمیں بھی ہوتی تھیں۔ میں نے اپنی زندگی کی پہلی نظم اپنے خالا زاد بھائی فیضان کی شان میں لکھی تھی۔ تب میں بارہ سال کا تھا۔ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ میں بالآخر کسی جادوئی نظام سے آرٹس فیکلٹی پہنچا اور آخر میں علم نفسیات کا ہو رہا۔

اس تمہید کا مقصد اپنی شان بگھارنا ہو نہیں سکتا اس لیے کہ ہمارے سماج میں تعلیم کوئی شان کی چیز ہے ہی نہیں، نہ میں یہاں ان لوگوں پر تبریٰ بھیجنے آیا ہوں جو کہ علم سے زیادہ سانڈے کے تیل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ میرے خیال میں سانڈے کا تیل، علم فلسفہ سے زیادہ کارآمد چیز ہے۔ میری آج کی نثری ہجو کا موضوع ’علمی‘ لوگ ہیں، خصوصاً کالج اور یونیورسٹی کی اساتذہ برادری۔

اپنے ذہن میں یونیورسٹی یا کالج کے ایک استاد (یا استانی) کی تصویر لائیے۔ آپ کے ذہن میں کیا آیا؟ آپ کے ذہن میں ایک ایسے انسان کی تصویر آئے گی جو کہ اپنے لباس میں ایک قسم کی ’فارمیلیٹی‘ کو مد نظر رکھے، جس کی ناک پر عینک چڑھی ہو اور جو کہ ایک خاص قسم کے ’تہذیب یافتہ‘ انداز میں گفتگو کرے۔ یہ تو تھی بنیادی تصویر۔ اس تصویر کو ہم ’علمیت کی پہلی شرط‘ کہہ سکتے ہیں۔ اب آئیے اس میں رنگ بھرتے ہیں۔ ایسا استاد (یا استانی) اگر لوگوں کی نظر میں اچھا ہو تو کیسا ہوگا اور اگر لوگوں کی نظر میں برا ہو تو کیسا ہوگا؟

پہلے برے پر بات کرلیتے ہیں۔ برائی کئی قسم کی ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ برا استاد اپنے مضمون کی بنیادی باتوں سے ناواقف ہو سکتا ہے۔ یا ایسا ہو سکتا ہے کہ جسے بولنا اچھا نہ آتا ہو، یا بیچارے کی انگریزی میں کچھ خامی ہو سکتی ہے۔ مگر ہماری اوپر بیان کردہ علمیت کی پہلی شرط زیادہ اہم ہے۔ مطلب اگر بیچارے استاد کی انگریزی تھوڑی خراب ہو مگر وہ بہت تہذیب یافتہ نظر آتا ہوتو پھر بھی کام چل سکتا ہے۔ ’برا استاد‘ کوئی ایسا شخص بھی ہو سکتا ہے جو کہ اپنی کلاسیں پوری نہ لیتا ہو یا کورس مکمل نہ کراتا ہو۔

یعنی بدعنوان اور نا اہل دونوں ہی قسم کے اساتذہ برے شمار ہوسکتے ہیں۔ خیر ہمارا موضوع بحث یہ نام نہاد برے (یعنی نا اہل یا بدعنوان) لوگ نہیں ہیں، ہمارا آج کا موضوع وہ ہیں جو کہ اچھے اساتذہ کہلاتے ہیں۔ بڑی حد تک انہی لوگوں کو ہمارے سماج میں ’علمی لوگ‘ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے طلبہ و طالبات ان کو ’قوم کا سرمایہ‘ وغیرہ جیسے القاب سے بھی نوازتے ہیں۔ ان کی ایک نوع کی ’فین فالوینگ‘ ہوتی ہے۔ کچھ نہ کچھ لوگ ان کو جانتے ہیں۔

کچھ نہ کچھ لوگ ان کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔ بڑی عمر کے لوگ جب کسی خاص کالج یا یونیورسٹی میں پڑھنے والے کسی طالب علم سے ملتے ہیں تو اس سے اس تعلیمی ادارے کی ایسی کسی ’سلیبریٹی‘ کے بارے میں ضرور پوچھتے ہیں۔ ایسے حقیقی ’علمی لوگ‘ اپنے مضمون کی ایک تجسیم بنے نظر آتے ہیں۔ جب میں جامعہ کراچی میں پڑھتا تھا تب ایسے دو ’سلیبریٹی‘ اساتذہ شعبہ فلسفہ میں تھے۔ دونوں میں عمر کا کافی فرق تھا مگر ایک دوسرے سے بنتی نہیں تھی۔

مجھے یاد ہے کہ ان کی باہمی ناراضگی پر بھی ایسے باتیں ہوتی تھیں جیسے کہ وہ دونوں جامعہ کراچی کے ملازمین نہ ہوں بلکہ سلمان و شاہ رخ خان ہوں۔ میرا ایک دوست ان میں سے ایک ’سلیبریٹی‘ استاد کا بڑا ’فین‘ تھا۔ مگر پھر ان سے متنفر ہونے لگا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا، ”یار بات یہ ہے کہ وہ فلسفے کے بہت بڑے عالم ہیں لیکن بات بے بات ماں بہن کی گالیاں بک دیتے ہیں۔“ اپنے دوست کا مذکورہ استاد پر یہ اعتراض تب مجھے عجیب لگا تھا مگر اب سمجھ میں آ گیا ہے۔ میرے دوست کی نظر میں استاد محترم کی علمیت سے زیادہ قابل قدر یہ بات تھی کہ وہ استاد کے ’اسٹیریو ٹائپ‘ پر پورے اتریں۔ یعنی اگر پہلی شرط پوری نہ کی تو علمیت بیکار ہے۔

ہمارے سماج میں ویسے بھی لوگوں کی علمی سطح اتنی پست ہے کہ اگر کسی کو کسی علم کی بنیادی باتیں بھی معلوم ہوں تو وہ سب کو افلاطون لگنے لگتا ہے۔ دیگر مضامین کا تو مجھے بہت زیادہ علم نہیں مگر علم نفسیات کو لیجیے تو اس کے ہمارے ملک کے سارے پھنے خان بھی بڑی حد تک اپنے ماسٹرز کے نوٹس سے زیادہ اپنے مضمون کو نہیں جانتے۔ نفسیات کے پی ایچ ڈیز میں سے اکثر نے فرائیڈ، یونگ، ایڈلر، فرام، اسکنر وغیرہ میں سے کسی کی ایک بھی کتاب نہیں پڑھی ہوتی۔

بس ’کمنٹریز‘ کو پڑھ کر پڑھاتے رہتے ہیں۔ جو اس موازنے میں تھوڑے بہتر ہوتے ہیں وہ ’اندھوں میں کانا راجا بن جاتے ہیں۔ مگر علمیت کی جانچ بھی کیونکہ عنقا ہے اس لیے جانچ کا معیار بس شکل صورت، اردو انگریزی کی قابلیت، اصطلاحات کی الٹی، اور تہذیب کا مرقع ہونا ہے۔ میں یہ بات پورے دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک کی علمی فضا کو ہمارے انہی نام نہاد‘ اچھے اساتذہ ’نے خراب کیا ہے۔ مگر اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ دلیل حاضر ہے،

دراصل علم کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو کہ کسی درسگاہ تک ہی محدود رہے۔ ابن خلدون، جابر بن حیان، الخوارزمی، ابن سینا، ابن رشد، الغزالی، جامی، رومی الغرض جس بھی قدیم دیوزاد عالم پر غور کریے تو دو باتیں صاف نظر آئیں گی، اول یہ کہ ان کو کسی خاص علم کے ساتھ مخصوص نہیں کیا جاسکتا۔ وہ آج کی مغربی اصطلاح میں پولی میتھ (polymath) یعنی علوم کثیرہ کے ماہر تھے۔ ابن خلدون مالکی فقہ کا عالم تھا مگر اس نے سماجیات کی ابتدائی شکل اپنے تاریخ کے مجموعے کے مقدمے کی صورت میں مرتب کی، وہ علم موسیقی کا بھی عالم تھا اور کہانت اور جادو کے بارے میں بھی بیش بہا علم رکھتا تھا۔ یہی معاملہ اوپر مذکور اکثر افراد کا تھا۔

مغرب کے بھی بڑے لوگوں کو کو بھی کسی ایک ڈبے میں بند کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ فرائیڈ نے علم طب کی تعلیم حاصل کی تھی مگر وہ جدید نفسیات کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ فلسفے میں بھی موجود ہے، وہ علم تنقید میں اور ادب و شاعری کی تفہیم میں بھی ہر جگہ موجود نظر آتا ہے۔ اصل اور حقیقی علمیت کسی خاص علم کے چار خانے میں قید نہیں ہوتی وہ اس سے نکل کر دنیا کو حیران یا پریشان کرتی ہے۔ اور حقیقی علمیت کبھی بھی درسگاہوں کے بنکروں میں چھپ کر پینشن اور گریجویٹی کی امید پر زندگی گزارنے والوں کی میراث نہیں ہوتی۔

حقیقی علم اپنے سوالات یا جوابات سے سماج کو دو حصوں میں بانٹ دیتا ہے۔ ایک جو اس کے مخالف ہوتے ہیں، دوسرے جو اسے مان لیتے ہیں۔ مگر ہماری علمی دنیا دراصل بونوں کی دنیا ہے۔ یہ بونے جامعات کی چار دیواریوں میں جیتے ہیں اور جامعات کی چار دیواریوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ یہ سب سے پہلے اپنے امیج کے قیدی ہیں، اگر امیج سے تھوڑا آگے بڑھے تو اپنے مضمون کے تنبو کے اندر پرواز کی مگر اس سے اوپر ان کی اڑان نہیں ہے۔

ہماری علمی فضا کی موت کی وجہ نا اہل لوگ نہیں ہیں، اس کی وجہ نام نہاد اہل لوگ ہیں۔ یہ کیوں محمد حسن عسکری نہیں بنتے؟ عسکری نے ساری اردو دنیا میں زلزلہ برپا کر دیا تھا، ان کی علمیت نے اس سماج کو ہلا کر دکھ دیا تھا۔ کیا کسی کو یاد بھی ہے کہ عسکری کا ’سبجیکٹ‘ کیا تھا؟ وہ نام نہاد ’پروفیسر ڈاکٹر‘ بنے تھے یا نہیں؟ انہوں نے وہ سوالات کیے کہ جن کا جواب بھی صرف وہی دے سکے۔ انہوں نے جو بھی بات کی اس سے آگے کوئی بات نہ کر سکا۔

عسکری کی جگہ کسی نا اہل نے نہیں بلکہ نام نہاد اہل لوگوں نے لی ہے۔ بزدل امیج کے قیدیوں نے لی ہے۔ تہذیب کا ڈرامہ رچا کر گالی نہ بکنے والوں نے لی ہے۔ سفید موزے پہنے والوں نے لی ہے۔ یہ نام نہاد اچھے علمی لوگ وہ قیدی ہیں جو کہ خود امیج میں قید ہو گئے اور انہوں نے علم کو جامعات میں قید کر دیا۔ یہ علمی چمگادڑیں یہ بھول جاتی ہیں کہ حقیقی علم کی طلب جس میں ہوتی ہے اسے کسی اسکول، کسی کالج کسی یونیورسٹی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مردان عمل کو اگر حقیقی علم کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ زندگی سے ہی حاصل کرلیتے ہیں۔ انہیں کسی سیمینار، ویبینار، کورس، سرٹیفیکیٹ، ڈپلوما، یا ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مردان عمل کی رہنمائی کے لئے علم خود آ موجود ہوتا ہے انہیں جامعات کے بنکروں میں بزدلوں کی رہنمائی میں آزدی بطور ’گرودکشنا‘ دے کر قبائے علم پہننے کی مجبوری نہیں ہوتی۔ جامعات کی چمگادڑوں کے لئے ان کا اپنا علم نافع نہیں ہوتا اس لیے کہ ان میں نہ پرواز کی جرات ہے نہ کسی انکار کی ہمت نہ کسی اقرار کی قوت۔

اسی لئے ’سی وی‘ کا پیٹ بھرنے کے لئے تحقیقات ہوتی ہیں اور اپنا پیٹ بھرنے کے لئے نوکری، اور نوکری کے لئے تعلیم۔ بدقسمتی سے اب جامعات علمی دنیا نہیں بلکہ بے عمل لوگوں کی ورکشاپس ہیں۔ عملی ہوتے تو ہنڈی اور حوالے کا کاروبار کر کے کروڑوں بناتے۔ زمینوں کے بروکر بن کر ’پراڈو‘ خرید لیتے۔ بے عمل ہیں تو کمزور طلبہ پر سوکھی علمیت جھاڑ رہے ہیں۔ کمزور طلبہ ان کے مجسمے بنا اور توڑ رہے ہیں۔ اور یہ جامعات کی چاردیواری میں بیٹھ کر علم کی ’خدمت‘ کر رہے ہیں۔ بقول شاعر،

زچگی فکر کے گھر میں ہو تو دایہ نہ ملے
فصد جذبات کی کھلوائیں تو نشتر گھٹل
بال ادراک کے بڑھ جائیں تو حجام کا کال
کپڑے احساس کے پھٹ جائیں تو سوزن میں خلل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *