کوڑا اٹھاتا سفیر اور مقامِ شرمندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے دو تصاویر ٹویٹ کی جس میں وہ کچرے کے دو بڑے بڑے تھیلے ہاتھ میں لئے کھڑے ہیں انہوں نے کیپشن لگایا کہ ”ایک اور واک کے دوران دو تھیلے بھر کر کچرا اکٹھا کر لیا“ نیز رومن اردو میں یہ بھی لکھا کہ ”صفائی نصف ایمان ہے“ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ کسی غیر ملکی سفیر پاکستان کے دارالحکومت میں پھیلے کچرے کی نشاندہی کی ہو اس سے پہلے بھی جرمنی کے سابق سفیر مارٹن کابلر دارالحکومت اسلام آباد میں جگہ جگہ کچرا پڑے ہونے کی نشاندہی کر چکے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ صرف کراچی ہی کچرے اور گندگی کے حوالے سے مشہور تھا اب پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں گزشتہ دنوں لاہور سے بھی یہی خبریں آ رہی تھیں کہ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہیں اسلام آباد کا بھی یہی حال ہو رہا ہے اگر صرف کچرے والی جگہ کی تصویر لے کر سوشل میڈیا پہ پوسٹ کردی جائے تو لوگ پہچان نہیں سکے گے کہ کون سا شہر ہے۔

انتظامیہ کی نا اہلی اور کاہلی تو اپنی جگہ خود ہم عام لوگ بھی صفائی پسند ہونے کے بجائے غلاظت پسند ہیں کچرے میں رہنے کے عادی ہو گئے ہیں، ڈسٹ بن رکھا ہونے کے باوجود کچرا اس سے باہر پھینکنا تو جیسے ”فیشن“ ہے خود میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ لوگوں اپنے گھروں سے کچرے کو کسی تھیلی میں ڈالے بغیر یونہی پھینک دیتے ہیں جو دوسرے گھروں میں جاتا ہے اور انہیں تکلیف اٹھانی پڑتی ہے یہ اس قوم کا حال ہے جس کا مذہب کہتا ہے کہ ”صفائی نصف ایمان ہے“ یعنی صفائی کے بغیر ہمارا ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا۔ ہم میں اتنا شعور نہیں ہے کہ اپنا دماغ استعمال کرتے ہوئے کچرا کو اس کی جگہ پہ پھینکیں برطانوی ہائی کمشنر یا جرمن سفیر ہمیں سکھائیں گے کہ ایسے کچرا اٹھاتا ہے یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

یہاں پہ دو سوالات اٹھتے ہیں ایک تو یہ آخر ہم کچرے اور گندگی میں رہنا کیوں پسند کرتے ہیں دوسرا یہ کہ اس عادت سے چھٹکارے کا کیا حل ہے؟ دراصل یہ تربیت کی کمی ہے اگر کسی بچے کو یہ تربیت کی جائے گی کہ کچرا ڈسٹ بن میں پھینکنا ہے، گندگی بری چیز ہے، اپنے کمرے اور گھر کو صاف رکھو اور بچے کو عمل کر کے یہ بھی سکھایا جائے کہ بحیثیت شہری تمہاری کیا کیا ذمہ داریاں ہیں تو وہ کبھی بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوگا کیونکہ کچی عمر میں انسان جو باتیں سیکھتا ہے وہ تاعمر اس کی عادت بنی رہتی ہے۔

دوسرے سوال کا جواب ہے سزا۔ جی ہاں سزا جب کوئی گلی میں، سڑک یا چوراہے پہ کچرا پھینکے تو انتظامیہ اس سزا دے جرمانہ عائد کرے اور جیل بھیجے تاکہ وہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرے۔ کراچی میں چند دن اس طرح کیا گیا کچرا پھینکنے پہ پولیس نے پکڑا بھی اور جرمانہ بھی کیا مگر پھر ہمیشہ کی طرح کچھ دن بعد سختی کم ہوئی اور پھر ختم ہو گئی اب پھر وہی کچرے کے ڈھیر ہیں انتظامیہ بھی لاپروا ہو گئی اور شہری بھی۔

اسلام آباد کراچی کی نسبت صاف شہر ہے مگر اب آئے روز اسلام آباد کے شہری بھی کچرے کا رونا روتے نظر آتے ہیں اور تصاویر سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں میری حکومت سے گزارش ہے کہ خدارا آپ کسی شہر کو صاف کریں یہ نہ کریں مگر اپنے شہر کو تو صاف رکھیں اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے ہماری پہچان ہے وہاں دوسرے ملکوں سے آئے سفراء اور دیگر ڈپلومیٹس ہوتے ہیں ایسی حرکتوں کے بعد ان کی نظر میں ہماری کیا عزت رہ جائے گی وہ تو حکمرانوں کا بھی گھر ہے ہمارے کرتا دھرتاؤں سے بہت شوق سے کراچی سے دارالحکومت کا درجہ چھین کر ایک نیا شہر بسایا کبھی سوچا ہے کہ اگر اس شہر کو بھی کراچی بنا دیں گے تو پھر کہاں کر بسیں گے۔ اگر نہیں سوچا تو اب سوچ لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *