غیر ملکی سفیر ہمارا پھیلایا گند سمیٹنے پر مجبور
ہمیں بچپن سے ہی یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے، اور یہ بتانے والے اپنے بچپن سے ہی گند مچاتے آئے ہیں۔ گاڑی میں جا رہے ہوں تو اگلی گاڑی کی کھڑکیوں سے باہر آتے خالی ریپر اور بوتلیں آپ کی گاڑی پر فضائی حملے کرتی عام دکھائی دیتے ہیں۔ سڑک کے کنارے کوڑا سجا ہوتا ہے۔ کسی وجہ سے ہم گند کو اپنی گاڑی میں اس وقت تک نہیں رکھ سکتے جب تک کسی کوڑے دان تک نہ پہنچ جائیں۔ ہمارا عقیدہ صفائی کے بارے میں جو بھی ہو، لیکن عملاً ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا پھینکا ہوا گند کوئی دوسرا سمیٹے گا۔
ابھی دو چار برس پہلے ہنزہ والوں نے مہم چلائی تھی۔ ان کے بچے بوڑھے نوجوان ہتھ گاڑیاں اور شاپر سنبھالے شاہراہ قراقرم کے کنارے پھینکا گند صاف کرتے پھر رہے تھے اور قوم سے اپیل کر رہے تھے کہ اپنا گند اپنے پاس رکھو۔ ہنزئی ویسے عجیب قوم ہیں، باقی تمام لوگ جہاں اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ کام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، وہ مل جل کر اپنا علاقہ خود صاف کرتے ہیں۔
اس قومی روش کی وجہ سے ہر سیاحتی مقام کا برا حال ہو جاتا ہے۔ پہلے ہم گند سے دور، مناظر فطرت سے سجا، تہذیب کی آلودگی سے بچا کوئی علاقہ تلاش کرتے ہیں۔ پھر اس پہاڑ ندی نالے دریا جنگ میں تین چار گاڑیاں بھر کے پکنک منانے چلے جاتے ہیں۔ گاڑیوں میں درجنوں جوانوں اور بچوں کے علاوہ ٹنوں کے حساب سے چپس، بسکٹ اور بوتلیں وغیرہ ہوتی ہیں۔ پھر سب کچھ کھا پی کر اس علاقے میں چھوڑ آتے ہیں۔ دو تین برس بعد ہم اس علاقے میں پکنک منانے جانے سے انکاری ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اب مناظر فطرت سے سجا اور تہذیب کی آلودگی سے بچا علاقہ نہیں رہتا بلکہ کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر ہم اس سے آگے ایک نیا علاقہ تلاش کرتے ہیں اور تین چار گاڑیوں میں درجنوں جوانوں اور بچوں کے علاوہ ٹنوں کے حساب سے چپس، بسکٹ اور بوتلیں بھر کر ادھر پکنک منانے چلے جاتے ہیں۔

چند برس پہلے جرمنی کے پاکستان میں سفیر مارٹن کوبلر نے آگاہی مہم شروع کی تھی اور لوگوں کو دکھانا شروع کیا تھا کہ اسلام آباد میں کتنا کچرا ہے۔ دکھانے کے علاوہ انہوں نے کچرا اٹھانا بھی شروع کر دیا تھا کہ لوگوں کو ترغیب ملے۔ خیر ہم ایک عظیم تہذیب کے وارث ہیں جو مغربی تہذیب کی چکاچوند اور صفائی سے متاثر نہیں ہوتی، اس لیے ہم نے پروا نہیں کی۔ پھر ان کے بعد قائم مقام جرمن سفیر ڈاکٹر جینس جوکش نے آب پارہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر گند صاف کرنا شروع کیا۔

اب تازہ ترین کام یہ ہوا ہے کہ اسلام آباد میں سیر کے لیے مشہور ٹریل سے برطانوی سفیر کرسچن ٹرنر نے ایک ٹویٹ کی۔ اس میں دو تصاویر ہیں، ایک میں وہ کوڑے کے دو تھیلے تھامے کھڑے ہیں جو پلاسٹک کی بوتلوں اور ڈسپوزیبل پلیٹوں سے بھرے ہوئے ہیں، دوسری میں پلاسٹک کی پلیٹیں، بوتلیں اور پزے کے ڈبے وغیرہ پڑے ہیں، ساتھ انہوں نے لکھا ہے ”ایک اور جمعے کی واک، کچرے سے بھرے دو مزید بیگ، صفائی نصف ایمان ہے، کاپی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات“ ۔

تصویر وائرل ہوئی، حمزہ شفقات صاحب کو غالباً پہلی مرتبہ علم ہوا کہ اسلام آباد میں گند پھیلا ہوا ہے، انہوں نے ٹائیگر فورس کے جوان پکڑے اور انہیں لے کر میدان میں نکل گئے۔ انہوں نے کوئی 1600 ٹن کچرا ایک ہی دن میں سمیٹ دیا۔ ہمیں کرسچن ٹرنر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اگر وہ نہ بتاتے تو ڈی سی صاحب کو علم ہی نہ ہوتا کہ راجدھانی میں اتنا گند جمع ہو چکا ہے۔ ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہر جمعے کو یہ جانکاری دے دیا کریں۔
بہرحال ہمارا خیال ہے کہ خطے کی صورت حال کے تناظر میں اب جرمنی اور برطانیہ کے بعد سلامتی کونسل کے باقی مستقل ممبران یعنی امریکہ، فرانس، چین اور روس وغیرہ بھی ایسے سفارت کار پاکستان میں تعینات کریں گے جو خطے میں برسوں سے بکھیرا ہوا ہمارا گند ذاتی طور پر صاف کریں گے اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر اس علاقے کو اس قابل بنائیں گے کہ ہم ایک گند فری ماحول میں امن سکون سے رہ سکیں۔

