امارات میں عمان اور عمان میں امارات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شوخ سرخ، پیلے اور ہرے رنگ سے رنگی لکڑی کی خوبصورت روسی گڑیاں ( matryoshka dolls) میری بیٹی کی سہیلی اس کے لیے روس سے لائی تھی۔ روسی دستکاری کا نمونہ، روایتی لباس پہنے اس چوبی گڑیا کی گردن مروڑو تو سر علیحدہ ہوجاتا ہے اور اندر سے ایسی ہی اس سے چھوٹی گڑیا نکلتی ہے، اور اس کے اندر ایک اور، پھر ایک اور۔ یوں پانچ سے سات گڑیاں ایک بڑی گڑیا میں سمائی ہوتی ہیں روسی روایت کے مطابق بڑی گڑیا ماں کی نقاشی کرتی ہے جو اپنے اندر اولاد کو سموئے رکھتی ہے۔ یہ صرف جسمانی علامت نہیں بلکہ معاشرتی بھی ہے جیسا کہ ماں ایک گھرانے کے افراد کو اکٹھا رکھتی ہے۔

قارئین آپ سوچ رہے ہوں گے کہ عنوان خلیج ہے اور روس کی باتیں چل رہی ہیں۔ دراصل میری بیٹی کی ڈریسنگ ٹیبل پر سجی ان گڑیوں کو دیکھ کر مجھے عمان اور متحدہ عرب امارات کی دلچسپ جغرافیائی ترتیب یاد آ گئی۔

اگر آپ عمان کا خطمة ملاحہ بارڈر کراس کر کے متحدہ عرب امارات میں داخل ہوں تو آپ اماراتی ریاست فجیرہ میں کھڑے ہوں گے۔ خلیج عمان کے ساحل پر 46 مربع کلو میٹر پر محیط یہ ریاست اپنی ہیئت اور جغرافیے میں عمان سے مشابہ ہے۔ صرف اسی ریاست میں پہاڑ نظر آتے ہیں جو کی عمان کے حاجر کہساروں کا تسلسل ہے بقیہ امارات صحرائی علاقوں پر مشتمل ہے۔ مشہور خور فکان کا ساحل اپنی خوبصورتی کے لئے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے اور حال ہی میں ایمفی تھیٹر، مصنوعی آبشار اور غار میں ریسٹورنٹ کی تعمیر نے اس علاقے کی سیاحتی کشش میں اضافہ کر دیا ہے لیکن یہ بات خارج از دلچسپی نہیں ہوگی کہ زمینی طور پر فجیرہ میں ہونے کے باوجود یہ شارجہ کا حصہ ہے۔

فجیرہ۔ خورفکان شاہراہ پر مربح کے مقام سے بائیں ہاتھ کو نکلتی سڑک آپ کو ”مدحاء“ لے جائے گی۔ یہ بات دلچسپ اور تعجب خیز ہے کہ اماراتی ریاست کے درمیان 75 مربع کلو میٹر پر محیط یہ وادی عمان کی ملکیت ہے۔ یہاں کوئی باقاعدہ بارڈر نہیں اور عمانی ویزہ کے بغیر داخل ہوا جاسکتا ہے تاہم آپ کی گاڑی عمان کے لئے بیمہ شدہ ہونی چاہیے۔ ایک استقبالی سائن بورڈ آپ کو مطلع کرتا ہے کہ آپ عمانی حدود میں داخل ہو رہے ہیں یا پھر سلطان قابوس کی تصویر اور پٹرول پمپ پر لہراتے عمانی پرچم سے آپ جان سکتے ہیں۔

اپ کے موبائل فون پر مواصلاتی کمپنی پیغام بھی آپ کو بتائے گا کہ آپ اماراتی حدود چھوڑ کر عمان میں ہیں۔ آپ عمانیوں کو ان کے لباس سے بھی ممتاز کر سکتے ہیں۔ عمانی ڈشڈاشا بغیر کالر کا لمبا قمیض ہوتا ہے جس کے گلے پر ہلکی کشیدہ کاری اور ایک پھندنا ہوتا ہے۔ وہ سر پر رنگین دھاگوں سے کڑھی ہوئی ٹوپی پہنتے ہیں۔ انتہائی نفیس اور مہین کشیدہ کاری سے مزین رومال سلطانی دستار کی مانند اس ٹوپی پر لپیٹا جاتا ہے۔ اسے ”المصر“ کہتے ہیں۔ پورے عرب میں صرف عمانی مصر (masar) استعمال کرتے ہیں۔ بقیہ عرب سفید یا خانے دار کپڑے (غترہ) پر سیاہ دائرے نما چونگا رکھتے ہیں جسے عقال یا عجال کہتے ہیں۔

مدحاء کی آبادی تقریباً 3000 نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں میٹھے پانی کے ذخائر موجود ہیں۔ ایک خشک جھیل یا ڈیم سیاحوں کے لئے پکنک اسپاٹ ہے۔ اپ مدحاء میں آگے بڑھیں تو ایک بار پھر اماراتی پرچم لہراتا دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے آپ کی اماراتی سم پھر سے چالو ہو جائے گی۔ اب آپ ”نحوہ“ میں داخل ہو چکے ہیں جو اماراتی ریاست شارجہ کے زیر تسلط ہے۔ 5.2 مربع کلو میٹر رقبے اور چالیس گھروں پر مشتمل یہ چھوٹی سی بستی تین محلوں میں تقسیم ہے وادی شیث، پرانا نحوہ اور جدید سہولتوں سے مزین نیا نحوہ۔

اس کی کل آبادی 500 افراد سے زیادہ نہیں یوگی۔ پہاڑ کی چوٹی پر بنے پانچ قلعے تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اور سیاحتی مقام ہیں نحوہ میں میٹھے پانی کے چشمے اور غار ہیں۔ والئی نحوہ عبداللہ النقبی غاروں سے جڑی ایک دلچسپ داستان سناتے ہیں۔ ایک اژدہا غار سے نکل کر لوگوں پر حملہ کرتا تھا۔ ایک بہادر عورت نے بہت بڑے برتن میں کھولتا پانی بھر کے اس غار کے منہ پر رکھ دیا اژدہا اس کھولتے پانی میں جھلس کر ہلاک ہو گیا۔ اور یوں لوگوں کو اس سے نجات ملی۔

جی تو قارئین چکرا گئے نا آپ امارات میں عمان اور عمان میں امارات کے چیستان سے۔ میں اسے russian dolls effect سے تعبیر کرتی ہوں لیکن میرا بیٹا اسے پراٹھے پر فرائی انڈے سے تشبیہ دیتا ہے۔ اماراتی ریاست فجیرہ کے پراٹھے پر عمانی وادی مدحاء کی سفیدی اور اس پر ننھی سی اماراتی بستی نحوہ کی زردی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جغرافیائی بو العجبی ( geographic oddity) کے پیچھے کون سی منطق نافذ العمل ہے۔ کیا یہ کسی عسکری، معاشی یا معاشرتی اہمیت کا حامل قطعہ زمیں ہے جس پر اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے دو ملکوں میں کشاکش ہو۔ اپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ اس سرحدی پیچ ورک کے پیچھے صرف وہاں کے لوگوں کا حق خود ارادیت کار فرما ہے۔ 1969 میں جب برطانوی سامراج نے مشرق وسطی کی نئی حد بندی کرنا چاہی تو کچھ علاقوں کا فیصلہ وہاں کے قبائلی زعماء کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا۔ مدحاء کے زعیم نے سلطنت عمان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا جبکہ نحوہ کے امیر نے شارجہ کے قاسمی خاندان سے وفاداری کا اعلان کیا۔ لہزہ مدحاء سلطنت عمان اور نحوہ ریاست شارجہ کا حصہ قرار پایا۔ اور آج تک اس حق خودارادیت کی تکریم کی جاتی ہے۔

کاش کشمیر کے لوگوں کے حق خودارادیت کو بھی یہ مقام حاصل ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *