حکومت کا موقف ہمیشہ دو ٹوٹ ہی رہا ہے


آج 10 مئی 2021، روز نامہ جسارت میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق امیر جماعت اسلامی کراچی نے ماہ رمضان میں جمعۃ الوداع کو روزہ دار فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر حملے میں 2 فلسطینیوں کی شہادت اور 200 سے زائد کے زخمی ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”فلسطین کئی روز سے جنگ زدہ علاقہ بنا ہوا ہے، اسرائیلی فوج گزشتہ کئی ہفتوں سے فلسطینیوں پر حملے کر کے ان کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مظلوم فلسطینیوں اور بیت المقدس کے حوالے سے پاکستان کو واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے“ ۔

اب امیر جماعت اسلامی کراچی کو یہ بات کون سمجھائے کہ پاکستان کا ہر معاملے میں ہر موقف ہمیشہ نہایت اٹل اور دو ٹوک ہی رہا ہے۔ اقدامات ملک کے اندرونی معاملات سے تعلق رکھتے ہوں یا بین الاقوامی صورت حال سے، موجودہ حکومت کا تمام معاملات میں بہت واضح، اٹل اور دو ٹوک موقف ہی سامنے آتا رہا ہے اور وہ یہ رہا ہے کہ جب تک یورپی ممالک، اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کسی بھی معاملے کا حتمی اور آخری فیصلہ سامنے نہیں آ جائے گا اس وقت تک پاکستانی حکومت اپنے خاموش رہنے، گردن جھکائے رکھنے اور ناک رگڑتے چلے جانے پر قائم و دائم رہے گی۔

پاکستان میں قادیانیت کو فروغ دینے کا معاملہ ہو، تعلیمی نصاب میں رد و بدل کرنے کا معاملہ ہو، عوام پر ٹیکس بڑھاتے چلے جانے کا معاملہ ہو، ڈالر کو کاغذ سے سونا بنا دینے یا روپے جیسی سونا کرنسی کو کوڑا کرکٹ میں بدل ڈالنے کا معاملہ ہو، آئی ایم ایف کے ہر مطالبے کے آگے لیٹ جانے کا معاملہ ہو، مساجد ڈھائے جانے کا معاملہ ہو، سکھوں کے لئے راہداری تعمیر کرنے کا معاملہ ہو، اسلام آباد کے بیچوں بیچ وسیع و عریض مندر تعمیر کرنے کا معاملہ ہو، بھارت کا اپنے آئین میں تبدیلی کر کے کشمیر پر مکمل قانونی دسترس حاصل کرنے کا معاملہ ہو، بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کا معاملہ ہو، فلسطین، کشمیر، میانمار اور ایغور کے مسلمانوں پر مظالم در مظالم ہوتے دیکھنے کا معاملہ ہو، آئے دن بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزیوں کا معاملہ ہو، تحریک لبیک والوں پر براہ راست گولیاں چلا کر ان کو شہید اور گھائل کرنے کا معاملہ ہو، تحریک لبیک کو شدت پسند کہہ کر کالعدم قرار دینے کے باوجود کراچی کے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا معاملہ ہو یا پھر عدالتی فیصلوں کے باوجود شہباز شریف کو ملک سے باہر نہ جانے کی اجازت دینے کا معاملہ، غرض معاملہ کوئی بھی ہو، موجودہ حکومت کا تمام معاملات میں بہت دو ٹوک موقف رہا ہے لیکن نہ جانے کیوں کراچی کے امیر جماعت اسلامی، جناب حافظ نعیم الرحمن اس بات سے اس درجہ بے خبر کیوں ہیں۔

اہل پاکستان اس بات کو کیسے بھول سکتے ہیں کہ 71 برس تک پاکستان کی شہ رگ کہلایا جانے والا کشمیر جب پاکستان سے کاٹ کر رکھ دیا گیا تو حکومت پاکستان نے نہایت دو ٹوک طریقے سے اس بات کا اعلان کیا کہ کوئی ایک کشمیری بھی ایل او سی کے دوسری جانب قدم رکھنے کی جرات نہ کرے چنانچہ وہ کشمیری جو اپنے ہی خون کی چیخ و پکار پر ان کی مدد کے لئے سرحدوں کی حدیں پار کرنا چاہتے تھے، بجبر روک دیے گئے۔ پھر ہر ہفتے اظہار یک جہتی کے طور پر آدھے گھنٹے کے لئے کھڑے رہنے کا دو ٹوک موقف اپنا یا گیا مگر پھر نہ کھڑے ہونے کا دو ٹوک موقف اپنا لیا گیا۔

مہنگائی ختم کرنے کے دعوے کرنے کے بعد مہنگائی کو آسمانوں کی بلندی تک پہنچانے کا دو ٹوک موقف اختیار کیا گیا جس پر تا حال موجودہ حکومت ثابت قدمی کے ساتھ کھڑی ہے۔ ڈالر کو ردی بنانے کے اعلان کے بعد روپے کو ٹشو پیپر سے بھی زیادہ سستا کر دیا گیا۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے کی بجائے 30 لاکھ افراد کو بے روزگار کرنے کا دو ٹوک فیصلہ کوئی آسان کام تو نہ تھا لیکن آسان ترین بنا دیا گیا۔ ملک کی دولت کو لوٹنے والوں کو عبرتناک سزائیں دینے کی بجائے ان کی رہائی کے پروانے جاری کرنے کے احکامات کوئی معمولی کام تو نہ تھا۔ 50 لاکھ گھر بنا کر دینے کی بجائے بینکوں سے گھروں کے لئے قرضوں کا حصول آسان بنانے کا دو ٹوک موقف ہنسی مذاق تو کسی صورت نہیں کہا جا سکتا مگر ”میں نہ مانوں“ ، والوں کا کوئی کیا علاج کر سکتا ہے۔

رہی یہ بات کہ کشمیر ہو، فلسطین ہو، میانمار کے مسلمانوں پر مظالم کا معاملہ ہو یا چین کے ایغور مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ، اس میں پاکستان کا ہمیشہ سے یہی دو ٹوک موقف رہا ہے کہ کیا سارے ٹھیکے پاکستان ہی کے ہیں، آخر کئی درجن مسلم ممالک کس مرض کی دوا ہیں۔

روس افغانستان میں کیا داخل ہوا، امریکی سرکار کی ہوا خراب ہو کر گئی۔ امریکا پریشان ہو جائے تو پاکستان تڑپ کر رہ جاتا ہے چنانچہ روس کی افغانستان میں مداخلت جہاد سے بھی عظیم تر فرض بن گیا۔ کیا حافظ نعیم الرحمن کو اس وقت کا ”دو ٹوک“ فیصلہ یاد نہیں۔

پاکستان کس کے اشارہ ابرو پر کیا کیا قدم اٹھاتا رہا ہے اور کب کب زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کی مصداق پر پورا اترتا رہا ہے، نہ جانے امیر جماعت اسلامی کراچی اس حقیقت سے آگاہ کیوں نہیں۔ اگر وہ ان تمام حقیقتوں سے آگاہ رہے ہوتے تو ایسی غیر ذمہ دارانہ بات کبھی نہ کہتے کہ ”پاکستان کو فلسطینیوں پر رمضان المبارک میں ہونے والے یہودی حملوں پر دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے“ ۔ بے شک پاکستان اپنے صدیوں پرانے دو ٹوک موقف پر قائم رہتے ہوئے خاموشی مگر نہایت فدویانہ نگاہوں کے ساتھ ان آنکھوں کی جانب دیکھ رہا ہے جس کے معمولی سے اشارے پر پاکستان اپنا سب کچھ نچھاور کرتا رہا ہے۔ امید ہے کہ امیر جماعت اسلامی کراچی اپنے کہے الفاظ کو بصد معذرت واپس لیتے ہوئے پاکستان کے ”دو ٹوک“ موقف کے بارے میں اپنی رائے کا از سر نو جائزہ ضرور لیں گے۔

Facebook Comments HS