واقعہ سیالکوٹ سیاستدان بمقابلہ بیوروکریٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں رمضان بازار میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے متعلق سوشل میڈیا پر کئی تبصرے پڑھنے کو ملے۔ حکومت مخالف اور کچھ نوجوان صارفین نے اسسٹنٹ کمشنر کے رویے کی داد دی اور فردوس عاشق اعوان کا رویہ قابل اعتراض قرار پایا جس میں ان کا لہجہ چیخنے چلانے والا اور کچھ الفاظ کا چناؤ غیر مناسب تھا۔ رمضان بازاروں میں گلی سڑی چیزوں کی شکایت کو حکومتی پالیسی کی ناکامی قرار دیا گیا۔

کچھ لوگ خاص کر پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والے لوگ فردوس عاشق اعوان کو ایک ہیرو کی طرح پیش کرتے رہے۔ اسسٹنٹ کمشنر جس انداز سے فردوس عاشق کے زبانی حملوں کے بیچ میں بازار چھوڑ کر چل دیں اس کو بیوروکریٹس کا روایتی مغرور سپن قرار دیا گیا اگر ایک اسسٹنٹ کمشنر لیول کا چھوٹا بیوروکریٹ ایک منسٹر لیول کے سیاستدان کے سامنے یہ کر سکتا ہے تو باقی بیوروکریٹ جو بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہیں وہ عوامی نمائندوں کو کیا گھاس ڈالتے ہوں گے ان ہی لوگوں کی طرف سے اسسٹنٹ کمشنر کو ان کی نا اہلی اور گستاخی پر بر خواست کرنے کی کمپین چلائی گئی۔

بعد میں انکوائری کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ معاون خصوصی کی وزٹ کے دوران ہی اسسٹنٹ کمشنر جا کر اپنی ڈبل کیبن گاڑی میں اے سی چلا کر بیٹھ گئی تھیں۔ کرونا کی وجہ سے شاید وہ عوام میں گھانا ملنا نہیں چاہتی تھیں۔ مگر عوام کو یہ معلوم نہیں کہ اس اسسٹنٹ کمشنر کا تعلق بیوروکریسی کی اس طاقتور شاخ سے ہے۔ جس نے اپنے آپ کو پاکستان کا ایک مراعات یافتہ خاندان بنا یا ہوا ہے۔ پہلے ڈی ایم جی اور اب پاکستان ایڈمنیسٹریٹو سروس کہلانے والا یہ گروپ اپنے آپ کو معاشرے کی کریم سمجھتا ہے اور باقی سب تلچھٹ ہیں۔

ان کی لاجک یہ ہے کہ اس گروپ کے ممبران سی ایس ایس ٹاپ کر کے آتے ہیں تو یہ بے شمار مراعات کا استحقاق رکھتے ہیں۔ یہ دراصل کالونیل مائنڈ سیٹ ہے انگریزوں کے دور میں شروع میں صرف انگریز ہی آئی سی ایس افسر بن سکتے تھے۔ ایک قابض قوم کے نمائندے کے طور پر ان کو عالی شان بنگلہ، گاڑیاں، گھوڑے، ملازمین کی فوج اور بہت اچھی تنخواہ دی جاتی تھی تاکہ ہندوستانی رعایا پر ان کا دبدبہ رہے اور وہ بغاوت کا خیال بھی ذہن میں نہ لا سکیں بہت بعد میں ہندوستانیوں کو بھی امتحان دینے کی اجازت دی گئی۔

اگرچہ ایوب بھٹو اور مشرف نے سول سروس کے کافی کس بل نکال دیے تھے مگر آج بھی بیوروکریسی کے یہ سپوت اپنے آپ کو بزعم خود آئی سی ایس کے جانشین سمجھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اپنی برتر برہمن پوزیشن برقرار رکھنے کے لئے مختلف قسم کے اقدامات سوچے جاتے ہیں۔ صوبائی سروسز ہمیشہ ان کے زیر عتاب رہی ہیں جن کے افسروں کو سیاستدانوں کے زیر اثر اور کرپٹ مشہور کیا جاتا ہے اس حوالے سے صوبائی افسر ان کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی کو بھی ہائی لائٹ کیا جاتا ہے جب کہ اپنی سروس کے افسروں کے بلنڈرز اور جرائم کو بھی اگنور کر دیا جاتا ہے۔

اگر کسی افسر کی خطا اتنی ہو کہ اس کو کسی اچھی سیٹ پر لگانا ممکن نہ رہے اور اس کے کسی ادارے کے ہتھے چڑھنے کا خطرہ ہو تو اس کو فوری طور پر یورپ یا امریکہ میں سٹڈی لیو پر بھیج دیا جاتا ہے یا ورلڈ بنک یا کسی سفارتخانے میں تعینات کر دیا جاتا ہے۔ چیف سیکریٹری اور پرنسپل سیکریٹری دو ایسی سیٹیں ہوتی ہیں جن کے ذریعے صوبے کے سیاسی چیف ایگزیکٹوز یعنی صدر، گورنر، وزیراعظم اور وزیراعلی کو ہمیشہ قابو میں رکھا جاتا ہے ان سیٹوں پر براجمان بیوروکریٹس کی طاقت کا اندازہ آپ فواد حسن فواد، اعظم خان اور ڈاکٹر توقیر شاہ وغیرہ کو اپنی تعیناتی کے دوران حاصل طاقت سے لگا سکتے ہیں۔

ایسی سیٹوں پر صوبائی سروس کے افسران لگنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ پنجاب میں آج تک کوئی صوبائی افسر چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو یا ایڈیشنل چیف سیکریٹری نہیں لگ سکا۔ اس گروپ نے اپنے افسروں کے لئے اپنی من مانی سے کوٹے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ پروموشن انتہائی تیز ہوتی ہے اور ایک ڈی ایم جی افسر اتنی سپیڈ سے اسسٹنٹ کمشنر سے ڈپٹی کمشنر کی منزل طے کر لیتا ہے کہ اسے اتنا تجربہ بھی حاصل نہیں ہو پاتا کہ کسی منسٹر کے دورے کے دوران اس کو ائر کنڈیشنڈ گاڑی میں جا کر نہیں بیٹھنا چاہیے اور چھوڑے سے رمضان بازار میں فروٹ اور سبزی گلی سڑی نہیں ہو نی چاہیے۔

اصل میں ڈی ایم جی افسروں بے خوف ہوتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے یہ مشیر وزیر ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور چیف سیکریٹری صاحب کو اگر کسی مصلحت کی خاطر ان کو ہٹانا بھی پڑ گیا تو چند دن کے اندر ان کو اس سے زیادہ پرکشش سیٹ پر براجمان کر دیا جائے گا۔ اس دفعہ تو یہ انہونی ہوئی کہ اسسٹنٹ کمشنر کی حمایت میں چیف سیکریٹری صاحب نے اخباری بیان بھی جاری کر دیا۔ اور طاقتور معاون خصوصی کے رویہ کی مذمت بھی کر دی۔

چیف سیکریٹری کا معاون خصوصی وزیراعلی پنجاب کی بجائے اپنے گروپ کی اسسٹنٹ کمشنر کی سپورٹ میں میڈیا بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیوروکریسی نے ابھی تک پی ٹی آئی کو اس طرح اپنے پولیٹیکل باس کا درجہ نہیں دیا جیسا شہباز شریف کو دیا ہوا تھا۔ ویسے شہباز شریف نے ہی بیوروکریسی کے اس گروپ کو پروموٹ کیا۔ مختلف محکموں کو مفلوج کر کے کمپنیاں بنائی گئیں اور وہاں پر اپنے من پسند افسر ان کو تعینات کیا گیا ان کو بھاری تنخواہیں دی گئیں اور آڈٹ اور احتساب سے ان کو بالاتر رکھنے کے لئے ان کو سپیشل سٹیٹس دلوایا گیا۔

اس کے بدلے ان افسر ان نے شریف فیملی کے ذاتی ملازمین کی طرح حق وفاداری نبھایا۔ مبینہ طور پر اس گروپ کے کچھ افسر ان سابق وزیراعلی کے نکاح کے بھی گواہ بنے۔ شہباز شریف بھی اپنی چند سیاسی شخصیات کے علاوہ کسی ایم پی اے ایم این اے کو بیوروکریسی کے مقابلے میں گھاس نہیں ڈالتے تھے۔ اس وقت پنجاب میں اعلی عہدوں پر فائز وہی شہباز شریف کے چہیتے گروپ کے لوگ ہیں اور وہ اس سیٹ اپ میں اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرتے ہیں۔

حکمرانوں کو اس کے بارے سوچنا چاہیے کہ وہ اب ایک اے سی جیسے جونئیر ترین افسر کو ڈانٹ بھی نہیں سکتے؟ دراصل پی ٹی آئی گورنمنٹ میں کئی پاورز سنٹر بنے ہیں جو باہم بر سر پیکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈی ایم جی کی ایک اسسٹنٹ کمشنر لیول کی خاتون کے آگے طاقتور معاون خصوصی بے بس ہیں۔ ابھی تک گورنمنٹ آف پنجاب کوئی ایکشن نہیں لے سکی۔ الٹا فردوس اعوان کی تبدیلی کی باتیں چلتی رہیں۔ چیف سیکریٹری صاحب ویسے تو اتنے وسیع ذہن کے مالک ہیں کہ پچھلے دنوں پی ایچ اے میں تعینات ایک ڈی ایم جی خاتون افسر کا مسئلہ بنا تھا۔ پوری سروس کی اخلاقی ساکھ داؤ پر لگی رہی۔ مگر وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان خاتون کی خطا معاف کرتے ہوئے ان کو ایک ضلع کا کلکٹر لگا دیا گیا۔ اگر یہ خاتون کسی اور سروس کی ہوتیں تو ڈسمس ہو کر گھر بیٹھی ہوتیں۔ اس لئے کہتے ہیں ”تیرا کتا کتا میرا کتا ٹامی“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *