ہمارا بچپن اور عید کارڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں عید الفطر ایسا یادگار موقع ہوتا تھا کہ جس کا سارا سال انتظار رہتا تھا۔ عید الفطر کو چھوٹی عید اور عید الاضحٰی کو بڑی عید کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ چھوٹی عید جیسے جیسے قریب آتی جاتی جوش اور ولولہ بڑھنے لگتا۔

اس کی سب سے خاص بات عید کارڈ لگا کرتے تھے۔ رمضان کے آخری دس دن تو بس عید کارڈز کے لیے ہی وقف کر دیے جاتے تھے۔ کسی سے عید کارڈ لے رہے ہیں، کسی کو دے رہے ہیں۔ پیسے جوڑے جا رہے ہیں، بازاروں کے چکر لگائے جا رہے ہیں۔

کتابوں کی دکانوں پہ عید کارڈز کا ڈھیر لگا ہوتا۔ بازار میں بہت سے ریڑھی والوں کی آمد ہو چکی ہوتی جو اپنے ٹھیلے پہ صرف عید کارڈ سجائے پھر رہے ہوتے۔ پورے بازار کا ہر عید کارڈ دیکھا اور پرکھا جاتا۔ کسی پر پھول بنے ہوتے اور کسی پر بھالو یا بندر۔ پھر اپنی جیب کا حساب لگا کر ان سب میں کچھ چننے کی مشکل گھڑی آتی۔

یہ فلاں کے لیے ٹھیک رہے گا، یہ فلاں کے لیے۔ اس شرارتی دوست کو یہ بندر والا دے دیں گے اور اس عزیز دوست کو یہ پھول والا۔ فلاں دوست تو مجھے بہت زیادہ عزیز ہے تو اس کے شایان شان تو کوئی کارڈ مل ہی نہیں رہا، اب کیا کریں۔ کیسی پرلطف بے چینی ہوا کرتی تھی۔ عجیب مخمصے میں پھنس جاتے کہ کون سا کارڈ کس کے لیے لیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے دنیا میں ان عید کارڈز کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچا۔ بس دنیا بھر میں یہی سب سے اہم کام رہ گیا ہے جو ہمارے کاندھوں پہ آن پڑا ہے۔

ان دنوں میں عموماً سب کارڈز کے لفافے سفید رنگ کے ہی ہوتے تھے۔ پہلی دفعہ جب رنگین لفافے والا کارڈ دیکھا تو وہ صرف اس لیے اچھا لگنے لگا کہ اس کا لفافہ رنگدار ہے۔ کارڈ چھوڑ کر لفافے پہ دل للچانے لگا تھا۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے کارڈ ہوتے جنھیں کھولنے پہ گھنٹی بجنے لگتی۔ ایسے کارڈ قیمت میں زیادہ ہوتے تو بس دیکھ دیکھ کر دل بھر لیتے۔

پہلی دفعہ جب مجھے کسی دوست نے ایسا عید کارڈ دیا جسے کھولنے سے گھنٹیاں بجتی تھیں تو کتنی ہی دیر تو پاؤں زمین پر نہیں لگ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے قارون کا خزانہ ہاتھ آ گیا ہو۔

عید کارڈ کی خریداری کے بعد اس پہ لکھنے کا دلچسپ مرحلہ شروع ہو جاتا۔ ایسے شعر ڈھونڈے جاتے جو مزاحیہ بھی ہوں اور اگر کسی قریبی دوست کو دینے ہیں تو اظہار محبت سے پر بھی ہوں۔ شعر بھی سادہ سے ہوتے تھے مگر احساس سے بھرے جیسے کہ

ڈبے میں ڈبا، ڈبے میں کیک
میرا دوست لاکھوں میں ایک

عید آئی ہے زمانے میں
میرا دوست گر گیا غسل خانے میں

چھوٹی سی چڑیا گاتی ہے گانا
عید کی نماز پڑھ کر ہمارے گھر آنا

گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی
آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی

سویاں پکی ہیں سب نے چکھی ہیں
آپ کیوں رو رہے ہیں آپ کے لئے بھی رکھی ہیں

چاول چنتے چنتے نیند آ گئی
صبح اٹھ کر دیکھا تو عید آ گئی

عید آئی ہے اٹک اٹک کے
آپ چل رہے ہیں مٹک مٹک کے

میٹھی میٹھی سویاں کھاؤ گے ناں
عید والے دن ہمارے گھر آؤ گے ناں

ایک ایک لفظ سوچ سوچ کر اور پورے دھیان سے لکھا جاتا۔ کہیں کوئی غلطی نہ ہو جائے، کہیں کوئی لفظ کاٹنا نہ پڑ جائے۔ تب کٹ والے مارکر ہوتے تھے، ان سے خوشخطی کی بھرپور کوشش کی جاتی۔ میری لکھائی کبھی اچھی نہیں رہی تو کوشش ہوتی تھی کسی سے لکھوا لوں ورنہ اپنی لکھائی کی وجہ سے کارڈ کا ہی ستیاناس کر دوں گا۔

کئی دفعہ تو لکھائی کو زیادہ خاص بنانے کے لیے رنگ برنگے مارکر بھی اکٹھے کر لیے جاتے۔ ہر لفظ الگ رنگ سے لکھ کر پورے کارڈ پہ دھنک سجا دی جاتی۔ خدا خدا کر کے لکھنے والا کام مکمل ہوتا تو کارڈ کو پوری نفاست سے لفافے میں بند کیا جاتا۔ لفافے کے کونے پہ عموماً گوند سی لگی ہوتی، جس پہ گیلی انگلی یا زبان پھیری جاتی اور لفافے کو بند کر دیا جاتا۔

اب عید کارڈ دوست کے حوالے کرنے کا مرحلہ آتا تو جسم میں جوش کی لہریں اٹھ رہی ہوتیں۔ دوست کو کارڈ دینے کی خوشی وجود مہکا دیتی۔ تب تو ہم لوگ اتنے سادہ سے ہوتے تھے کہ خوشی صرف چیزیں لینے کی نہیں ہوتی تھی، چیزیں دینے پہ بھی ویسی ہی خوشی ہوا کرتی تھی۔ کارڈ دوست کے حوالے کرتے ہوئے چہرہ خوشی سے دمک رہا ہوتا تھا۔

اسی طرح اگر کسی دوست کی طرف سے عید کارڈ ملتا تو بھی پورے بدن میں سنسنی سی پھیل جاتی۔ خوشی رگ رگ میں آ بستی۔ کئی شرمیلے دوست تو کارڈ دیتے ہوئے شرم سے زمین میں گڑے جا رہے ہوتے تھے۔ لیکن تب ہر دوست پہ فرض ہوا کرتا تھا کہ سب دوستوں کو عید کارڈ تو دینا ہی ہے۔ ایک ایک کا نام یاد ہوتا کہ کس کس نے ابھی تک نہیں دیا اور سارا دھیان بھی ان کی طرف رہتا کہ کب وہ اپنے بیگ سے کارڈ نکال کر ہمارے حوالے کرتے ہیں۔ کئی دفعہ کارڈ کے ساتھ سستے سستے تحائف کا بھی تبادلہ ہو جایا کرتا مگر جو رومانیت اور خوشی کارڈ کے ساتھ آتی وہ کسی اور تحفے سے نہ آتی۔

کسی بھی دوست کی طرف سے عید کارڈ ملتا تو جسم کا رواں رواں بے چین ہو جاتا۔ میں عموماً گھر آ کر تنہائی میں کارڈ کھولا کرتا تھا مگر وہ تنہائی ملنے تک دل و دماغ میں مسلسل بے صبری کے جھونکے چلتے رہتے۔ کارڈ تھامے ہوئے اس طرح گھر میں داخل ہوتے جیسے کوئی گوہر نایاب ملا ہو، جیسے کوئی بہت ہی قیمتی شے ہاتھ لگ گئی ہو۔

رمضان کا آخری عشرہ چل رہا ہے اور مجھے وہ بیتے دن یاد آ رہے ہیں جب یہ عشرہ صرف عید کارڈ کے رومان اور خوشیوں سے بھرا ہوتا تھا۔ تب اتنے چھوٹے تھے کہ کارڈ سنبھال بھی نہیں سکے ورنہ آج وہ سارے کارڈ اپنے سامنے بکھرائے ان سستے شعروں کو پڑھنے کا جو مزہ آتا، وہ شاید کسی بڑے سے بڑے لکھاری کی تحریر میں بھی نہ آئے۔ اب تو وہ رواج ہی ختم ہو گیا، اب تو شاید کبھی میرے نام کا کوئی عید کارڈ نہ آئے۔ اب تو فارورڈڈ میسجز کا دور ہے۔ چاند رات سے عید کی شام تک مسلسل عید مبارک عید مبارک کے کاپی شدہ میسجز آتے رہتے ہیں مگر وہ خوشی نہیں ملتی جو عید کارڈ سے ملا کرتی تھی۔

سوچتا ہوں یہ روایات، یہ خوشیاں ہم سے اگلی نسل کے حصے میں کیوں نہیں آئیں۔ ہم نے آگے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں اپنے بچوں کو کن کن محرومیوں سے دوچار کر دیا ہے۔ کتنی چھوٹی چھوٹی سادہ سی رسمیں تھیں جو بچوں کو جینے کی امنگ دے دیا کرتی تھیں، ہم نے زندگیاں بدلنے کے چکر میں بچوں سے وہ امنگیں چھین لی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *