کاش کوئی صلاح الدین زندہ ہو جائے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تقریباً ایک ہزار سال قبل مسیح میں یروشلم شہر آباد کیا گیا۔ اس شہر میں بعد ازاں پیغمبر خدا و بادشاہ حضرت سلیمان ؑ نے یہاں ایک محل تعمیر کروایا جو بعد ازاں ہیکل سلیمانی کے نام سے مشہور ہوا۔ 701 برس قبل مسیح میں پہلی مرتبہ یروشلم پر حملہ ہوا، لیکن اس حملے میں حملہ آور سینا چرب کو شکست ہوئی اور شہر محفوظ رہا۔ اس شہر پر یہودیوں کی حکمرانی تھی جو حضرت سلیمان ؑ کے جانشین تھے، 597 برس قبل مسیح میں بابل کے حکمران نے بغاوت کے جرم میں یہودا کی سلطنت پر حملہ کیا، اس نے شہر کا محاصرہ کیا جو کہ تقریباً دس سال جاری رہا۔

بابل کا یہ حکمران تاریخ میں بخت نصر کے نام سے جانا جاتا ہے، اس نے یروشلم کو تباہ کیا اور اس کے ساتھ ہی نہ صرف یہودیوں کو قتل کیا، بلکہ ان کے مذہبی مرکز ہیکل سلیمانی کو بھی تباہ کر دیا۔ بخت نصر کے بعد 63 برس قبل مسیح ایک بار پھر اس شہر کا محاصرہ ہوا اور شہر رومیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ 37 قبل مسیح میں یہودیوں نے پھر بغاوت شروع کی اور اس شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس دوران ہیکل سلیمانی کی بھی دوبارہ تعمیر کی جاتی رہی، 70 عیسوی میں دوبارہ یہ شہر یہودیوں کے ہاتھوں سے نکل گیا، اس کے ساتھ ہی یہودی ٹیمپل مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

اب اس شہر پر مختلف حکومتیں آتی رہیں، رسول اللہ ﷺ کی پیدائش سے قبل یہاں بازنطینی حکومت قائم ہو چکی تھی، تاہم 610 یا 615 کے درمیان اس شہر پر ساسانیوں نے قبضہ جما لیا، اس جنگ میں یہودی ساسانیوں کے حامی تھے اس لیے شہر پھر یہودیوں کا ہو گیا۔ اب تک یہ شہر یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگ کا باعث تھا، کیونکہ دونوں ہی اسے مقدس مذہبی مقام مانتے تھے۔ 637 میں پہلی مرتبہ مسلمانوں نے اس شہر کا رخ کیا اور امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کی قیادت میں مسلمانوں نے اس شہر کو فتح کیا، اس جنگ میں ابوعبیدہ بن جراح ؓ اور خالد بن ولیدؓ جیسے بہادر بھی شریک ہوئے۔

مسلمانوں نے فلسطین فتح کیا، یہودیوں کی مقدس عبادت گاہ پہلے ہی منہدم ہو چکی تھی، حضرت عمر ؓ نے پہلی مرتبہ یہاں مسجد کی بنیاد رکھی، (اس سے قبل یہاں کوئی مسجد نہیں تھی، اسی باعث اس نئی مسجد کے منبر و محراب کا رخ، خانہ کعبہ کی جانب ہے ) ۔ حضرت عمر ؓ کی فتح کے بعد 1099 تک یہ شہر اور نئی مسجد مسلمانوں کے پاس رہی۔ اس دوران اموی خلیفہ عبدالملک نے اس جگہ ایک باقاعدہ مسجد تعمیر کی جسے دور کی مسجد کا نام دیا، جسے عربی میں مسجد اقصیٰ کہا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی اس نے قبۃ الصحرہ کی بھی تعمیر شروع کروائی۔ یہ مسلمانوں کی جانب سے یروشلم میں کی جانے والی پہلی باقاعدہ تعمیر تھی۔ 705 عیسوی میں خلیفہ ولید بن عبدالملک نے اس مسجد کی تعمیر مکمل کی اور پھر کئی برسوں تک یہ علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں رہا۔ اسی دوران فاطمی حکومت کے دور میں پہلی مرتبہ ان تعمیرات پر گنبد رکھوائے گئے، 1099 میں صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا اور فاطمیوں کو شکست ہوئی جس کے بعد عظیم عیسائی حکومت کی بنیاد رکھی گئی اور یروشلم عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا۔

1187 میں تاریخ انسانی کے عظیم جرنیل اور ایک کرد مسلمان صلاح الدین ایوبی نے یروشلم فتح کیا اور مسجد اقصیٰ کو دوبارہ مسجد کی حیثیت دی، جبکہ قبۃ الصخرہ میں قائم چرچ کو بھی ختم کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی نے وہاں کے سابق بادشاہ کو بھی نہ صرف معاف کر دیا، بلکہ تمام مذاہب کے لوگوں کو بلاتفریق مذہب زندگی بسر کرنے کی آزادی دے دی۔ اس کے بعد کئی مرتبہ عیسائی صلیبی اور یہودی کوششیں کرتے رہے لیکن کبھی یروشلم پر قبضہ نہ جما سکے۔

اس کے بعد عظیم سلطنت عثمانیہ کا قیام عمل میں آیا تو یہ شہر محفوظ ہو گیا۔ 1917 میں جنگ عظیم اول کے دوران عیسائی اتحاد نے یروشلم پر حملہ کر دیا، اس جنگ میں ترکوں کو شکست ہوئی یروشلم عیسائیوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب یروشلم فتح ہوا تو ایک فرانسیسی کمانڈر سلطان صلاح الدین ایوبی کی قبر کو ٹھوکر مار کر کہا ”اٹھو صلاح الدین! ہم واپس آ گئے ہیں“ ۔ سینکڑوں برس مسلمانوں کے قبضے میں رہنے کے بعد یہ علاقہ پھر عیسائی کے پاس چلا گیا لیکن مسلمانوں نے اس کو چھوڑا نہیں، فلسطینیوں نے اپنے طور پر لڑائی جاری رکھی یہاں تک کہ 1948 میں فلسطین جنگ کا آغاز ہوا، جس کا اختتام ایک صیہونی ریاست کے قیام کے ساتھ ہوا۔

فلسطینی ریاست مسلمانوں کے پاس ہی رہی لیکن وہ چھوٹی سی ریاست جس کو اگر اس وقت امت مسلمہ چاہتی تو مسل کر رکھ دیتی، آج ایک دیو بن چکا ہے، جو فلسطینی ریاست کو نگل چکا ہے۔ اس وقت عربوں نے ارب لے کر اس ریاست کو قائم ہونے دیا، آج عرب پھر ارب لے کر اس کو تسلیم کر رہے ہیں، یروشلم ایک بار پھر یہودیوں کے پاس پہنچ چکا ہے، اور سب میں جس کو سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے وہ ہیں فلسطینی، اس لڑائی جھگڑے میں تین ابراہیمی مذاہب کے مقدس مقام کی بے حرمتی ہوتی ہے، اور تینوں میں سے کوئی بھی آزادانہ طور پر وہاں عبادت نہیں کر سکتا۔

آج کے 56 ممالک کے فوجی اتحاد کے سربراہ، طاقتور ممالک کے سربراہ اور ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان کسی عمر بن خطاب ؓ یا صلاح الدین ایوبیؒ کا انتظار کر رہے ہیں، ان میں ترکوں کا وہ شخص بھی شامل ہے جو اپنی مثالوں میں تو صلاح الدین کا ذکر کرتا ہے، اور پھر اپنے ہی ملک میں صلاح الدین کے خاندان والوں یعنی کردوں کو مرواتا ہے، اس شخص سے امت یہ امید لگائے بیٹھی ہے کہ وہ کچھ کرے گا، اس کے بعد پاکستان کے امیر المومنین سے سب امید لگائے بیٹھے ہیں، جو کہ اپنے آپ میں ہی ایک مذاق ہے، اور رہی بات عربوں کی تو محمد بن سلمان نے یروشلم فتح بھی کر لیا تو وہاں کوئی مندر یا پب کھلوا لے گا۔ اس لیے مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کو جن کی فوج دنیا کی نمبر ایک اسلامی فوج ہے، لیلۃ القدر کے نوافل میں فلسطین کی آزادی کی دعا کرنی چاہیے کہ کسی کی ہی سن لے خدا اور کاش کوئی صلاح الدین زندہ ہو جائے! ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ابن افراسیاب عباسی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *