ریاست کی منڈیروں پر بیٹھے یہ گدھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن پہلے ایک چھوٹی سی، غیر اہم، غیر سیاسی خبر نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ بی بی سی کی اس خبر کے مطابق کیلیفورنیا میں امریکی گدھوں کی ایک قسم (کینڈور) ایک گھر میں بن بلائے مہمان بن گئے۔ گھر کی مالکن انھیں گھر کی منڈیروں سے اڑانے کے لیے تالی بجانے اور شور مچانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی۔ گھر کی مالکن کی بیٹی نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’میری چھوٹی سی امی دس فٹ کے سائز کے پرندوں کو گھر سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن وہ کہیں جانے کے لیے تیار ہی نہیں۔

کبھی وہ چھت پر بیٹھ جاتے ہیں تو کبھی ڈیک کی ریلنگ پر ”بیٹیں“ کر کر کے ہر طرف فضلہ پھیلا رہے ہیں ’وہ مزید کہتی ہے کہ یہ بدتمیز پرندے گملوں کو الٹ رہے ہیں، پینٹ کھرچ رہے اور سکرین دروازوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ ان سے چھٹکارا پانے کے لئے وائلڈ لائف سروس سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان گدھوں کو گھر سے بے دخل کرنے کے تین طریقے بتائے۔ تالی بجائیں، اونچی آوازیں نکالیں یا پھر ان پر پانی سپرے کریں۔ گھر کی مالکن کے مطابق ان گدھوں نے ان کے خلاف‘ اعلان جنگ ’کر رکھا ہے۔

اس چھوٹی سی خبر سے میرا دھیان یک دم ان چھوٹے بڑے ہر سائز و نسل کے لا تعداد گدھوں کی طرف چلا گیا جو میری ریاست کی ”منڈیروں“ پر پچھلے پچھتر سالوں سے اپنے منحوس پر پھیلائے بیٹھے ہیں۔ لیکن فرق بس اتنا ہے کہ کیلیفورنیا کے گدھوں کی طرح یہ ”بن بلائے“ مہمان نہیں۔ نہ ہی یہ کہیں سے ”اڑان“ بھر کہ آئے بلکہ ریاست ماں نے دن رات اپنے خون پسینے سے سینچ کر، اپنے ہاتھوں سے ان کو ”پال پوس“ کے بڑا کیا۔ خود بھلے کچھ کھانے کو ملا نہ ملا مگر ان کو ”دانہ پانی“ کی کمی نہ آنے دی۔

اس ریاست کی منڈیروں پر آمریت سے لے کر سیاسی، جمہوری، سماجی، معاشی، قانونی، سرکاری اور غیر سرکاری حتی کہ مذہبی منافرت پر پلنے والے ان گنت گدھوں نے سالہا سال اس میں بسنے والے ”زندہ مرداروں“ کی بوٹیاں نوچ نوچ کے کھائیں۔ پھر بھی ان کا ”پیٹ“ نہ بھر پایا۔ آمریت کے گدھوں نے اس ریاست کو ایسے جغرافیائی، علاقائی، سیاسی اور مذہبی ٹکروں میں بانٹ ڈالا جیسے بچے کسی کھلونے سے دل بھر جائے تو پرزہ پرزہ کر کے توڑ ڈالتے ہیں۔

حب الوطنی کے ”تمغے“ اپنے سینوں پر بڑے فخر سے سجا کر آئین کی بار بار ایسی دھجیاں بکھیری گئیں کہ ریاست کا ہر شہری ”غدار“ قرار پایا۔ 80 کی دہائی میں ”پالے“ جانے گدھوں کا تاوان آج بھی ریاست اپنے خون سے ادا کر رہی ہے۔ نائن الیون کے بعد عالمی طاقتوں کی شرائط پر سر دھنتے ہوئے ریاست کو ایسی سیاسی خون ریز جنگ میں جھونکا گیا جس میں اسی ہزار سے زائد معصوم اور بے گناہ ریاستی شہریوں کے خون سے دھرتی لال ہو گئی۔

آمریت کے ان گدھوں کا رونا کیا روئیں۔ یہاں تو جمہوریت کے گدھوں کی بھی خوب چاندی رہی۔ ”جمہور“ کے جھنڈے تلے پلنے والے گدھوں نے خوب سیاست کا ننگا ناچ دکھایا۔ ان جمہوری گدھوں نے ریاست کے وسیع تر مفاد میں اپنے ساتھ ”فرمانبردار“ گدھوں کے ایسے ”جھنڈ کے جھنڈ“ ملا لیے جو جونکوں کی طرح ریاست کا خون چوس گئے۔ ہر غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہتھکنڈوں سے ان کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو ”فیڈ“ کیا گیا۔ ریاست کی ان جمہوری منڈیروں پر آپ کو چھوٹے بڑے ہر سائز کے شوگر کارٹیل، پاور کارٹیل، بینکنگ کارٹیل، سیمنٹ کارٹیل، اسٹیل کارٹیل، پیٹرولیم کارٹیل کے گدھ جھولتے دکھائی دیں گے۔

میڈیا اور صحافت کی منڈیروں سے اونچی اڑانیں بھرنے کے لئے ان کو خوب ہوا دی گئی۔ پارلیمان کی منڈیر پر ان کے ”سہولت کار“ ان کے مفادات کے ”قانونی“ تحفظ کے لئے ہمہ وقت دستیاب رہے۔ اور تو اور انصاف کی ”کمزور اور کمپرومائزنگ“ منڈیریں بھی ان کا ”بوجھ“ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ دین سے محبت کرنے والوں نے اتنی منڈیریں بنا ڈالیں کہ دماغ الجھ جاتا ہے کہ ”مسلمانیت“ کی کس منڈیر پر بیٹھیں کہ ایمان سلامت رہے۔

ان قومی گدھوں کی اس لوٹ مار اور نوچ کھسوٹ سے بین الاقوامی گدھوں نے بھی دل کھول کر فائدہ اٹھایا۔ آئی ایم ایم ایف، ورلڈ بینک، فیٹف، یورپی یونین اور ان جیسے کئی ”دس دس فٹ“ کے گدھ ریاست کی کمزور، کھوکھلی اور مصنوعی منڈیروں پر ”پنجے گاڑ“ کے بیٹھ چکے ہیں۔ اپنے منحوس پر پھیلائے سارہ دن یہ نیشنل اور انٹرنیشنل گدھ ریاست کی منڈیروں پر ”بیٹیں“ کر کر کے اس کا خوبصورت چہرہ مسخ کر رہے ہیں۔ کبھی یہ ریاستی مکینوں کے سر پر بیٹھ کر ”چونچیں“ مارکر ان کو لہو لہان کرتے ہیں۔

کبھی اپنے خون آشام پنجوں سے ان کا گوشت نوچتے ہیں اور کبھی منڈیروں کی بنیادوں کو اپنے نوکیلے ناخنوں سے کھرچ کھرچ کر کھوکھلا کر رہے ہیں۔ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ان کا سائز دوگنا چوگنا ہوتا جا رہا ہے۔ چاروں اوڑھ ان کے پھیلائے ہوئے ”فضلے“ کے تعفن سے ریاستی باشندوں کا اب سانس لینا بھی دوبھر ہو چکا ہے لیکن یہ مظلوم ریاست سے چاہتے ہوئے بھی ”اعلان جنگ“ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ یہ منڈیریں سالہا سال سے ریاست ماں کی آغوش میں پلنے والے ان گدھوں کا مستقل ”بسیرا“ بن چکی ہیں۔ ریاستی باشندے جتنی مرضی دہائی دے لیں یا غل غپاڑہ کر کے آسمان سر پر اٹھا لیں لیکن منڈیروں پر یہ گدھ نہ رہے تو ریاست کا ”کاروبار“ کیسے چلے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *