دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکمرانوں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ دوائیں مہنگی ہو رہی ہیں یا غذائیں کیونکہ ان کے پاس ڈھیروں دولت ہے۔ انہیں غریب عوام کے بارے میں بھی نہیں سوچنا کہ وہ کس حال میں رہ رہے ہیں ان کے بچوں کو تعلیم و صحت کی سہولتیں میسر ہیں کہ نہیں۔ مگر غریب عوام ان کے ساتھ مسلسل جڑے ہوئے ہیں ان کے لیے دشمنیاں مول لیتے ہیں اپنے عزیزوں رشتہ داروں سے دور ہو جاتے ہیں اس کے باوجود وہ انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ شروع دن سے جاری ہے اور مستقبل میں بھی اس کے تسلسل کا قوی امکان ہے کیونکہ ایسا کوئی حکمران نہیں آئے گا جو مظلوم لوگوں کے مصائب کو محسوس کرتا ہو جس کسی نے آنا ہے مشروط آنا ہے۔

لہٰذا یہ نظام اور یہ سیاسی رویے جوں کے توں رہیں گے۔ ہاں اگر کوئی انہونی ہو جاتی ہے کہ عوام مل کر کوئی تحریک چلاتے ہیں اور اس نظام کو بدلنے کی ٹھان لیتے ہیں تو پھر جینے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ بکھرے کانٹے چنے جا سکتے ہیں مگر حکمران طبقہ آسانی سے یہ سب کب ہونے دے گا۔ اس نے لوگوں کو مختلف النوع مسائل میں الجھا رکھا ہے۔ آئندہ بھی ان کو نئی شکل میں سامنے لاتے رہیں گے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب عوام کو جب چوہتر برس ہو چکے ہیں اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ اشرافیہ ان سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتی اور اپنی دولت میں اضافے کے لیے طرح طرح کے طریقے و حربے اختیار کرتی ہے ملکی خزانے پر جھپٹتی ہے اور جو کچھ اس کے ہاتھ لگتا ہے اسے باہر کے ممالک میں پہنچا دیتی ہے یہ وہ دولت ہوتی ہے جو عالمی مالیاتی اداروں سے عوامی فلاح و بہبود کے لیے قرضہ کے طور سے لی گئی ہوتی ہے جسے عوام نے ٹیکسوں کی صورت واپس کرنا ہوتا ہے۔

اس وقت جب ملکی معیشت اسی اشرافیہ کی وجہ سے جان بلب ہے۔ عوام پر قرضوں کا پہاڑ کھڑا ہو چکا ہے اس کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مزید قرضہ لیا جا رہا ہے۔ یہ قرضہ کب اترے گا کسی کو معلوم نہیں۔ دراصل حکمران ناکام ہو چکے ہیں انہیں عوام سے کوئی دلچسپی نہیں وہ اقتدار کے مزے لوٹنے کے لیے آئے ہیں اور موج میلہ کرنے کے بعد چلے جائیں گے ان کی یہ دکھاوے کی کارروائیاں عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے ہیں جو آسانی سے بن رہے ہیں جبکہ ان کے گھروں میں بیروزگاری اور مہنگائی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں مگر وہ تب بھی حقوق غصب کرنے والوں کو کندھوں پر بٹھا رہے ہیں جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عوام خود بھی مسائل و مشکلات کے ذمہ دار ہیں اگر وہ ان دولت کے پجاریوں کو نظر انداز کر دیں تو صورت حال میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے مگر نہیں انہیں تو نعرے لگانے ہیں چھوٹے موٹے کاموں کے لیے ان کی چوکھٹ پر جانا ہے لہٰذا اس تناظر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہنوز دلی دور است ابھی یہاں خوشحالی اور انصاف کا حصول ممکن نہیں۔

بہرحال عوام کی اس روش سے حکمران خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ کبھی آٹا مہنگا کر دیتے ہیں اور کبھی چینی۔ یہ دیکھ کر اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والے دکاندار اور تاجر مہنگائی کا طوفان برپا کر دیتے ہیں اور حکومت سارا ملبہ مافیاز پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ ابھی تک وہ پچھلی حکومت ہی کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے مگر اپنے اختیارات کو استعمال نہیں کر رہی جو کوئی رکاوٹ ہے بھی اسے دور کرے اور اگر اسے کوئی روکتا ہے تو اسے سامنے لائے۔

کیوں وہ اپنے کھاتے میں نا اہلیوں اور نالائقیوں کو درج کروا رہی ہے مگر نہیں کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ خود ہی جگ ہنسائی والے فیصلے کرتی ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان کے گرد آغاز ہی سے ایسے لوگ جمع ہو گئے جو اس نظام کو تھوڑا سا بھی ہلنا نہیں دینا چاہتے تھے۔ سرمایہ داری نظام کے حامیوں اور محافظوں نے دانستہ غیر محسوس طور سے ان کا ساتھی بنوایا تاکہ جب حتمی فیصلے کا وقت آئے تو وہ ہاتھ کھڑے کر دیں کہ ایسے نہیں ایسے ہو گا؟

گزشتہ چار پانچ برسوں میں میرے لکھے گئے کالموں میں یہ بات کہی گئی تھی کہ فصلی بٹیرے عمران خان کو عوام کے لیے فلاحی منصوبوں پر عمل درآمد کرنے میں رکاوٹ بنیں گے لہٰذا انہیں ساتھ نہ ملایا جائے۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر کام جو بھی عوامی بہتری میں ہو اس کے سامنے یہ لوگ دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور بدنامی وزیراعظم کی ہوتی ہے۔ پہلے مشورہ کچھ دیتے ہیں بعد میں کچھ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو غیر سنجیدہ اور یوٹرنی کہا گیا ہے۔ خیر اب تو حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں کہ حکومت کے جانے کی باتیں ہونے لگی ہیں اور یہ تجزیہ کہ فی الحال عمران خان کا متبادل وزیراعظم نہیں غلط ثابت ہو چکا ہے۔ یہاں جو اقتدار میں آتا ہے فٹ ہو جاتا ہے اسے جو سبق پڑھایا جاتا ہے اس پر عمل کرتا ہے تو گاڑی چلتی رہتی ہے لہٰذا اس بجٹ کے بعد کے دنوں کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کہ ان میں کچھ ہونے والا ہے؟

ہونا کیا ہے زیادہ سے زیادہ یہی کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آ جائے گی اور کوئی نیا وزیراعظم بن جائے گا یا پھر یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک قومی حکومت تشکیل دے دی جائے گی۔ وہ کیا کرے گی عوام کا بھرکس مزید نکال دے گی پھر نئے انتخابات ہوں گے جو وزیراعظم بنے گا وہ پچھلوں کو ہر ظلم زیادتی کا ذمہ دار ٹھہرائے گا اور خود کو برس دو برس تک عوام دوست کہلوانے کی رٹ لگائے رکھے گا۔

یہ بڑوں کا ایک ایسا کھیل ہے جس میں عوام کے ہاتھ کچھ نہیں آتا وہ محض تماشائی ہوتے ہیں انہیں آج تک انسان ہی نہیں سمجھا گیا ان کے بنیادی حقوق چھینے گئے۔ جمہوریت کی آڑ میں ان کو بیوقوف بنایا گیا اور وہ بنتے رہے کہ شاید کبھی نہ کبھی ان کی سن ہی لی جائے گی مگر چوہتر برس بیت چکنے کے بعد بھی وہ ویسے رہے انہیں انصاف ملا نہ ان کے معاش کا مسئلہ حل ہوا مگر ان کے حکمران سیاسی رہنما کھربوں پتی بن گئے۔ صرف وہی نہیں قریباً ہر با اختیار دولت کے ڈھیر پر جا بیٹھا۔

یورپ و مغرب کے ممالک میں ان کے کاروبار ان کی رہائش گاہیں اب چھپ نہیں رہے منظر عام پر آ چکے ہیں مگر حیرت ہے لوگوں پر جو اب بھی ان سے آس لگا کر بلیوں اچھل رہے ہیں۔ دراصل حکمران طبقات ان نے کے ذہنوں پر قابو پا لیا ہے اور یہ خوف ڈال دیا ہے کہ اگر وہ ان کی تابعداری سے سرکشی اختیار کریں گے تو رسوا ہوں گے۔ ان کے معاشی مسائل اس قدر گمبھیر ہو جائیں گے کہ وہ سسکنے لگیں گے لہٰذا یہ خوف جو کرونا سے بھی زیادہ ہے عوام کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے اسی لیے کوئی منظم جدوجہد نہیں شروع ہوئی مگر اس خوف سے باہر آنا ہو گا کیونکہ جدید دور کے یہ حکمران بہت چالاک ہیں۔ انہوں نے طے کر لیا ہے کہ عوام کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر کے جھکائے رکھنا ہے لہٰذا زندہ رہنے کے لیے آگے بڑھنا ہو گا بہت سوں کو آزمایا جا چکا اب باری عوام کی ہے مگر انہیں قومی دولت لوٹنے والوں سے پوچھنا ہے کہ وہ اب تک انہیں اپنے جیون ایسی سہولتیں کیوں نہیں فراہم کر سکے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *