عید، طالبان اور جنگ بندی


یہ غالباً تیسرا موقع ہے جب طالبان عید کے موقع پر جنگ بندی یا اور بند کا اعلامیہ جاری کرتا ہے۔ ان تین دنوں میں طالبان اپنے اسلحے سمیت کابل اور دیگر شہروں کا رخ کرتے ہیں عوام اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں سے گھل مل جاتے ہیں لوگ اس دوران ان سے اس جنگ بندی اور برادر ہدف مرگی کا کل وقتی تدارک کے تقاضے کے ساتھ ساتھ بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کی استدعا کرتے ہیں اور جنگ زدہ افغانیوں بشمول تمام دنیا تین دن پورے افغانستان میں ایک ایسے پرامن فیز سے گزر جاتے ہیں جس کے لئے کسی بھی دعا یا دیگر مذہبی ٹوٹکوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔

جس طرح سارا سال کابل اور افغانستان میں لوگ ہر خونی واقعے کے بعد امن اور طالبان کی بربادی کی دعا مانگتے ہیں لیکن بجائے اس کے کہ امن ہو اور طالبان برباد ہو مزید بدامنی اور طالبان کے بجائے لوگ یا عوام لقمہ اجل بنتے جاتے ہیں۔ لیکن بالکل اسی طرح اگر دوسری جانب لوگ ان تین دنوں میں بد امنی کی دعائیں مانگ مانگ کر اور دیگر مذہبی ٹوٹکے کر کر کے تھک ہار جائیں پھر بھی امن نہیں آئے گا کیونکہ طالبان بھی نہیں چاہیں گے اور افغان فورسز بھی اس عمل کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔

اب اس عمل کے پیچھے جو وزڈم اور تھیوری ہے وہ sufffering سفرنگ اور problem of evil پرابلم آف ایول کا ہے۔ یہ دنیا چونکہ اسباب کی دنیا ہے اور اللہ مسبب الاسباب ہے۔ برائیاں ہم خود کرتے ہیں اور روک تھام کا ذمہ دار نعوذ باللہ اس ذات پاک کو گردانتے ہیں جبکہ ہم اس کی ذات سے ان برائیوں کا خاتمہ مانگتے ہیں اور چاہتے نہیں کہ وہ ختم ہو تو وہ دل کے چھپے ہوئے رازوں اور بھید کو بھی ویسا ہی جانتا ہے جیسا کہ عملی کاموں کو۔ دنیا کے مذہبی علمائے کرام، سکالرز، اہل فلاسفہ اور سائنس کے ماہرین نے سفرنگ کا مسئلہ اس طرح بیان کیا ہے۔

خدا کے وجود پر شک کرنے کے لئے جو باتیں کہی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک وہ ہے جس کو پرابلم آف ایول کہا جاتا ہے۔ یہ اعتراض صرف ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ وہ یہ کہ انسانی زندگی میں جو سفرنگ ہے۔ وہ تمام تر مین میڈ ( Man made ) ہے۔ مگر اس کو غلط طور پر گاڈ میڈ ( God made ) سمجھ لیا گیا ہے۔ انسانی زندگی میں سفرنگ کے حوالے سے جو کچھ کہا جاتا ہے، وہ اسی غلط انتساب کا نتیجہ ہے۔

اس غلط فہمی کا اصل سبب یہ ہے کہ جب کسی کی زندگی میں سفرنگ کے واقعے کو دیکھتے ہیں تو وہ اسی مبتلا انسان کے حوالے سے اس کی توجیہہ کرنا چاہتا ہے۔ چوں کہ اکثر مثالوں میں خود اسی مبتلا انسان کے اندر اس کی توجیہہ نہیں ملتی، اس لئے اس سفرنگ کو لے کر وہ یہ کہنے لگتے ہیں کہ یا تو اس دنیا کا کوئی نعوذ با اللہ خدا نہیں، یا اگر خدا ہے تو وہ نعوذ باللہ ظالم اور غیر منصف خدا ہے، مگر یہ انتساب بجائے خود غلط ہے۔

انسان کی زندگی میں جو سفرنگ پیش آتی ہے، اس کا سبب کبھی انسان خود ہوتا ہے اور کبھی اس کے والدین ہوتے ہیں اور کبھی اس کا سبب وہ سماج ہوتا ہے جس میں وہ رہ رہا ہے اور کبھی وسیع تر معنوں میں اجتماعی نظام اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ کبھی کوئی سفرنگ فوری سبب سے پیش آتی ہے اور کبھی اس کے اسباب پیچھے کئی پشتوں تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ شبہے کا سبب، اصل صورت حال کا غلط ریفرنس میں مطالعہ ہے، یعنی جس ظاہرے ( Phenomenon ) کو انسان کی نسبت سے دیکھنا چاہیے، اس کو خدا کی نسبت سے دیکھنا۔ حالانکہ یہ سائنسی حقائق کے سرا سر خلاف ہے۔

مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں ایڈز ( AIDS ) کا مسئلہ ایک خطرناک مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر خود طبی تحقیق کے مطابق یہ انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ میڈیکل سائنس میں یہ مستقل نظریہ ہے کہ کئی بیماریاں اجداد سے نسلی طور پر منتقل ہوتی ہیں۔ ایسی بیماریوں کو اجدادی بیماری ( Atavistic disease ) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف قسم کی وبائیں پھیلتی ہیں، جس میں ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں، یا خرابی صحت کا شکار ہو جاتے ہیں جیسا کہ یہ کرونا، یہ بھی خود طبی تحقیق کے مطابق، انسان کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہے۔

ایک معروف شخصیت کے صاحب زادے مفلوج ہو کر وہیل چئیر پر آ گئے۔ اس ”سفرنگ“ کا سبب بھی یہ تھا کہ چھوٹی عمر میں ایک بیرونی ملک کے ہسپتال میں ان کو غلط انجکشن لگ گیا تھا، اس بنا پر وہ جسمانی اعتبار سے مفلوج ہو گئے۔ اس طرح تشدد اور جنگوں کے نتیجے میں بے شمار لوگ مر جاتے ہیں یا ناکارہ ہو جاتے ہیں، جیسا کہ کابل، کشمیر، فلسطین، عراق، بوسنیا، چیچنیا اور آرمینیا میں ہوا یا ہو رہا ہے، یہ سب بھی انسانی کارروائیوں کی بنا پر ہوا یا ہوتا ہے،

واقعہ یہ ہے کہ انسانی سفرنگ کو نیچر سے منسوب کرنا، سراسر ایک غیر علمی بات ہے سائنس کی تمام شاخوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نیچر مکمل طور پر خرابیوں سے پاک ہے۔ نیچر اس حد تک محکم ہے کہ اس کی کارکردگی کے بارے میں پیشگی طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر نیچر کے اندر قابل پیش گوئی کردار نہ ہو تو سائنس کی تمام سرگرمیاں اچانک ختم ہوجائیں گی۔

پرابلم آف ایول کے اس معاملے کا علمی مطالعہ کرنے کا پہلا اصول وہ ہے جس کو تقابلی طور پر سمجھنا ( It is an comparison that we understand ) کہا جاتا ہے تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ محدود طور پر صرف انسانی دنیا کا مسئلہ ہے، جب کہ انسان پوری دنیا کے مقابلے میں ایک بہت ہی چھوٹے جز کی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ کائنات اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک بے نقص کائنات ( Zero۔ defect universe) ہے۔ کائنات میں بے شمار سرگرمیاں ہر آن جاری رہتی ہیں، لیکن اس میں کہیں بھی خرابی ( evil ) دکھائی نہیں دیتی۔

انسانی دنیا میں بیماریاں ہیں، انسانی دنیا میں حادثات ہیں، انسانی دنیا میں ظلم ہیں، انسانی دنیا میں کرپشن ہیں؟ انسانی دنیا میں بے انصافی ہے۔ انسانی دنیا میں استحصال ہے۔ انسانی دنیا میں لڑائیاں ہیں، انسانی دنیا میں نفرت اور دشمنی ہیں، انسانی دنیا میں سرکشی ہے۔ انسانی دنیا میں فسادات ہیں، انسانی دنیا میں جرائم ہیں، اس قسم کی بہت سی برائیاں انسانی دنیا میں پائی جاتی ہے، لیکن انسان کے سوا، بقیہ کائنات اس قسم کی برائیوں سے مکمل طور پر خالی ہے۔ یہی فرق یہ ثابت کرتا ہے کی برائی کا مسئلہ ( Problem of evil ) خود انسان کا پیدا کردہ ہے، نہ کہ فطرت کا پیدا کردہ۔ اگر یہ مسئلہ فطرت کا پیدا کردہ مسئلہ ہوتا تو وہ بلاشبہ پوری کائنات میں پایا جاتا ہے۔

اس معاملے کا سائنٹفک مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان، دنیا اور بقیہ کائنات میں ایک واضح فرق ہے۔ وہ یہ کہ بقیہ کائنات حتمی قسم کے قوانین فطرت سے کنٹرول ہوری ہے۔ اس کے برعکس، انسان آزاد ہے اور خود اپنی آزادی سے اپنی زندگی کا نقشہ بناتا ہے۔ یہی فرق دراصل اس چیز کا اصل سبب ہے۔ جس کو برائی کا مسئلہ ( Probl of evil ) کہا جاتا ہے۔

اس معاملے کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی دنیا کی تمام برائیاں، انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہیں۔ میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ بیماریوں کا سبب نیچر میں نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی اپنی غلطیوں میں ہے۔ یہ غلطیاں کبھی مبتلا شخص کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہیں، کبھی باپ دادا کی وراثت اس کا سبب ہوتی ہے، کبھی اجتماعی نظام کا کرپشن بیماریوں کے اسباب پیدا کرتا ہے۔ یہ بات بے حد قابل غور ہے کہ بیماری کو نیچر سے جوڑنا ملحد مفکرین کا نظریہ ہے، وہ کسی سائنٹفک دریافت پر مبنی نہیں۔ اسی طرح لڑائیاں، گلوبل وارمنگ، مختلف قسم کی کثافت، فضائی مسائل ( Ecological problem ) وغیرہ سب کے سب انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ عید کے یہ تین دن اور بعد کے صورت حال میں دعائیں کارفرما ہوتی ہیں، انسانی ( طالبانی ) عمل دخل، قانون قدرت یا پھر پرابلم آف ایول۔

Facebook Comments HS