کیا اولاد نے والدین کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


غالباً اپنے پچھلے کسی کالم میں میں نے کہا تھا کہ یہ حکومت ہر بار کچھ ایسی پالیسی سامنے لاتی ہے کہ مجھے لگتا ہے بس یہی حد ہے لیکن اگلی بار پھر یہ حد توڑی جاتی ہے اور میں حیران سوچتی رہ جاتی ہوں کہ کیا اس سے آگے پاتال اور بھی ہیں؟

والدین پروٹیکشن بل؟ پروٹیکشن کس سے؟ بچوں سے؟ اگر والدین پروٹیکشن بل ہے تو بے ڈھنگے اور عاقبت نااندیش والدین سے نمٹنے والی اولاد کے لئے پروٹیکشن بل کب وجود میں آئے گا؟ آخر اولاد تو بے قصور ہی ہے کیونکہ والدین کو دنیا میں لانے کا سبب اولاد تو نہیں تو پروٹیکشن تو انھیں ملنا چاہیے نا کہ والدین کو جو اپنی زندگی جی کر اب اولاد کی زندگی میں ٹانگ اڑانا فرض سمجھتے ہیں۔ یقیناً آپ کو میری باتیں بے حسی کا نمونہ لگ رہی ہوں گی لیکن آپ خود سوچیے کیا ایسی مثالیں عام نہیں جہاں ساس نے بہو کا جینا دوبھر کر رکھا ہو؟ یا پھر بیٹے کی شادی کی عمر نکلی جا رہی ہے لیکن اماں ابا ہیں کہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آرہے اور لڑکا باؤلا ہوا پھر رہا ہے؟ کیا آپ نے ایسی کوئی مثال نہیں دیکھی جس میں کسی کی امی شادی کے لیے نہیں مانتیں تو کسی کے ابا جی۔ آخر ایسے ماں باپ سے بچوں کو پروٹیکشن کون دلائے گا؟

اچھا چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ بڑے ہی نیک سیرت ماں باپ ہیں جنھوں نے ساری عمر اولاد کو پال پوس کر جوان کرنے میں گزار دی مگر اولاد ہے کہ کسی صورت ماں باپ کو سکون کا سانس نہیں لینے دیتی۔ ابا حضور کے کھانسنے پر اعتراض ہے تو کبھی اماں کے لیے دوا لانے پر سو باتیں سنائی جا رہی ہیں۔ بہو تو بہو پوتے پوتیاں تک بوڑھے دادا دادی کو خاطر میں نہیں لا رہے۔ ایسے حالات میں کیا بزرگان کا اولاد کے ساتھ رہنا ٹھیک ہے؟ اگر اولاد پلٹ کر اماں ابا سے کہہ دے کیا ہم نے والدین کو رکھنے کا ٹھیکا لیا ہوا ہے تو آپ لاکھ سزا دے دیں یا پروٹیکشن بل دکھا دیں جو پندار والدین کا ٹوٹنا تھا وہ تو ٹوٹ ہی گیا۔ کیا وہ خود ان ایسے گھر میں رہنا چاہیں گے؟ گھر سے نکالنے سے زبردستی روک بھی دیا تو کیا بزرگوں کو ایسے گھر میں مجبوراً رہنے کو پروٹیکشن کا نام دیا جا سکتا ہے؟ صرف اتنا بتا دیں کہ بدتمیز اور ناخلف اولاد کے ساتھ رہنے میں پروٹیکشن ہے یا عزت سے اولڈ ہوم میں اپنے ہم عمر لوگوں کے ساتھ؟

یہ جو ہم نے ایک اداس اور غمگین نقشہ اولڈ ہومز کا کھینچ رکھا ہے حقائق اس کے برعکس بھی ہوسکتے ہیں۔ بے شک ہمارے معاشرے میں والدین اولاد کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں لیکن اگر اولاد والدین کو ساتھ نہیں رکھنا چاہتی تو یہ صرف زبردستی ہے جس کا بوڑھے افراد کو فائدہ نہیں بلکہ الٹا نقصان ہی ہوگا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بجائے آزاد شہریوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کر کے ان کی زندگیاں اپنے طور پر چلانے کی کوشش کی جائے بوڑھے افراد کے لئے بہ سہولت اولڈ ہومز کھولے جائیں جہاں وہ اپنی زندگی اپنی عزت نفس کے ساتھ گزار سکیں۔ اولڈ ہومز کا تصور جو ہم نے لیا ہے دنیا اس بے رنگے تصور سے کہیں آگے نکل چکی ہے اور باہر کے ممالک میں والدین خود بھی شادی شدہ، بچوں والی اولاد کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے بلکہ اپنی آزاد زندگی کو اہمیت دیتے ہیں۔

اس سلسلے میں اگر حکومت کے پاس فنڈنگ نہیں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے بچوں سے والدین کو رکھنے کا ماہانہ خرچہ لیا جا سکتا ہے یا جوانی سے ہی تنخواہ میں ٹیکس لگایا جاسکتا ہے لیکن پہلے حکومت اپنی ذمہ داری کو سمجھے تو سہی۔ جس طرح زبردستی کسی سے عزت نہیں کروائی جا سکتی ٹھیک اسی طرح زبردستی کسی کو گھر میں رکھ کر اسے پروٹیکشن کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ جو اولاد اچھی ہوگی اس سے والدین کو پروٹیکشن دلوانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور جو اولاد بری ہوگی اس کے ساتھ جبری رہائش کو پروٹیکشن کہنا کم علمی کے سوا کچھ نہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *