ریاستی لوگو میں تبدیلی: ”منافقت، خیانت، فریب“ کے زریں اصول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سائنس اور ٹیکنالوجی میں ”مہارت تامہ“ رکھنے والے ہمارے ”لیجنڈ“ وزیر اطلاعات و نشریات فضیلت مآب فواد چوہدری نے حکومت پاکستان کے لوگو میں ”چائے“ اور ”پٹ سن“ کے نشان کی جگہ سائنس، ٹیکنالوجی اور تعلیم کی عکاسی کرنے والے علامتی نشان لگانے کا مشورہ دیا ہے۔ پاکستان کی یہ ریاستی علامت 1956 ء میں بنائی گئی تھی۔ پھولوں کی ڈالی کے درمیان چار خانوں پر مشتمل عکس کے اوپر کی جانب ویسا ہی چاند ستارہ ہے جیسا پاکستان کے پرچم پر ہوتا ہے۔ علامت کے نیچے قائد اعظم کے تین رہنما اصول ”ایمان، اتحاد، تنظیم“ لکھے گئے ہیں۔ پاکستان کے ریاستی نشان کو چار خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے اوپر کی جانب دائیں خانے میں چائے کی پتی کا پودا، بائیں خانے میں کپاس جبکہ نچلے دو خانوں میں گندم اور پٹ سن کے نشان موجود ہیں۔

”تبدیلی“ کا مینڈیٹ لے کر آنے والی حکومت کے عالی مرتبت وزیر نے سرکاری مونوگرام میں ”تبدیلی“ کے لیے ملک کے گرافک ڈیزائنرز سے رائے مانگی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، تباہ حال معیشت اور کورونا کی تباہ کن سونامی میں ڈوبے ملک کے دیگر تمام مسائل اب ختم ہو چکے ہیں جو حکومتی بزرجمہر نے ریاستی لوگو میں تبدیلی کا کٹا کھول کر بے وقت کی راگنی چھیڑ دی ہے۔ اگر بالفرض ”تبدیلی سرکار“ موجودہ ریاستی علامت میں تبدیلی کر بھی دیتی ہے تو سرکاری کاغذات، دستاویزات اور دیگر اہم مقامات پر تبدیل شدہ لوگو کی اشاعت و تنصیب کے حوالے سے جتنی خطیر رقم خرچ ہو گی، اس فضول خرچی کا حساب حکومتی ”کفایت شعاری“ کی کس مد میں آئے گا؟

دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس معاملے پر بھی حسب روایت یوٹرن لیتی ہے یا لوگو میں تبدیلی کے فیصلے پر قائم رہتی ہے۔ کسی بھی ملک کی ریاستی علامت اس ملک اور قوم کی تہذیبی و ثقافتی پہلوؤں کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومتی وزیر اگر لوگو کی تبدیلی پر زیادہ ہی بضد ہیں تو ان کی آسانی کے لیے ہم جان کی امان مانگ کر کچھ معروضات پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔

ہمارا خیال ہے کہ موجودہ ملکی حالات اور زمینی حقائق کے تناظر میں حکومت پاکستان کے موجودہ لوگو میں تبدیلی کرتے ہوئے ”ایمان، اتحاد، تنظیم“ کی بجائے ”منافقت، خیانت، فریب“ کے ”زریں اصول“ لکھے جانے چاہئیں جو من حیث القوم ہمارا طرہ امتیاز ہیں کہ انفرادی و اجتماعی طور پر منافقت ہمارا قومی شعار ہے۔ تجارت، سیاست، صحافت غرض کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں منافقت پنپ نہ رہی ہو۔ قائد کے فرمان ”ایمان، اتحاد، تنظیم“ کے ساتھ اس ملک میں یوں کھلواڑ ہوا کہ ہمارے اجتماعی معاملات میں ”ایمان“ صرف منہ زبانی رہ گیا۔ ”اتحاد“ پارہ پارہ اور ”نظم و ضبط“ ہماری زندگیوں سے عنقا ہو گیا۔

قومی منافقت کی اس سے بڑھ کر اور مثال کیا ہو گی کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا کہ ”پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا“ ، ان کے فرمان پر ہم نے اس طرح عمل کیا کہ نوزائیدہ ریاست کو نظریاتی چولہ پہنا کر اس کو اسلام کی تجربہ گاہ بنا دیا۔ یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ یا مقامات مقدسہ کے متبرک ناموں کو ہوٹلوں، دکانوں، سکولوں، مدارس اور مساجد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام کی اس تجربہ گاہ کے ہر شہر میں بسم اللہ ہوٹل، مدینہ کلاتھ ہاؤس، الجنت رابڑی، غزالی کلینک، ابن سینا پبلک سکول اور فارابی کالج جیسی اسلام کی ”نشانیاں“ ضرور نظر آئیں گی البتہ اسلام کہیں بھی نظر نہیں آئے گا۔

حسن نثار سچ ہی تو کہتا ہے کہ اسلام کا قلعہ دراصل اسلام کا ”قلع قمع“ ہے۔ ہمارے دین کی آفاقی تعلیمات میں صفائی کو نصف ایمان کا درجہ حاصل ہے لیکن عملی زندگی میں اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ منافقت کے ساتھ ساتھ ریا کاری، قبضہ گیری، چمچہ گیری، جھوٹ، نا انصافی، ظلم، لاقانونیت، رشوت، عصبیت، کفر سازی، منشیات، گدی نشینی اور جہالت سے لے کر گندا پانی، جعلی دودھ، غلیظ خوراک، گدھوں کے گوشت کی ترسیل تک اسلام کی اس انوکھی تجربہ گاہ میں ”ہاتھ کی صفائی“ کو ہی مکمل ایمان کا درجہ حاصل ہے۔

جہاں تک ”خیانت“ کے سنہرے اصول کی بات ہے، اس سے بڑھ کر ہماری اجتماعی خیانت کا اور کیا ثبوت درکار ہے کہ آزادی کے 74 سال گزر جانے کے باوجود ہم قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر بانیان پاکستان کے ساتھ خیانت کرنے میں پیش پیش ہیں۔ کیا سیاست دان، کیا سرکاری ملازم، کیا عام آدمی۔ ایک غدر کا سا سماں ہے۔ قائد کی اس امانت یعنی پاکستان کا ہم نے جو سوا ستیاناس کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ آزادی کے 24 سال بعد 16 دسمبر 1971 ء میں قائد کی امانت کے دو ٹکڑے کر کے ہم نے ان کا آدھا احسان اتار دیا اور بقیہ امانت پر ہمارا بس نہیں چلتا کہ اس پر بھی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا کر چٹ کر جائیں۔

اور اب ذکر ہے ”فریب“ کا، قائد اعظم کی وفات کے بعد ایک فریب ناتمام ہے جو اسلام، آئین اور جمہوریت کے نام پر اس ملک کے عوام سے روا رکھا گیا ہے۔ ”منافقت، خیانت، فریب“ کے زریں اصولوں میں ”فریب“ دراصل اس جمہوری حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی ڈائن جمہوریت میں علیل قائد اعظمؒ کی ایمبولینس خراب ہو جایا کرتی ہے اور یہاں آئین بنانے والے سولی چڑھ جایا کرتے ہیں جبکہ مقبول عوامی قیادتیں کبھی جلاوطن، کبھی سکیورٹی رسک، کبھی نا اہل اور کبھی سرراہ قتل کر دی جاتی ہیں۔

یہ بھی پاکستانی جمہوریت کا ”حسن فریب“ ہے کہ اس پاک سرزمین میں حکیم محمد سعید، صلاح الدین، حسن ناصر، غلام حیدر وائیں، سلمان تاثیر، مشعل خان اور قطب رند جیسے لوگ تاریک راہوں میں مر جایا کرتے ہیں۔ یہاں ساحر لدھیانوی، جوگندر ناتھ منڈل، ڈاکٹر حمیداللہ، قرۃ العین حیدر، استاد بڑے غلام علی خان، جگن ناتھ آزاد اور ڈاکٹر عبدالسلام جیسے لوگ ملک چھوڑ جایا کرتے ہیں۔ جی ایم سید اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے لوگوں کو نظربند رکھا جاتا ہے۔

پاکستان کی عشوہ طراز جمہوریت کی فریبانہ ادا دیکھئے کہ شہر خوباں کی مرصع و مسجع شاہراہ دستور پر سولہ سنگھار کیے جھانجھریں چھنکاتے سبز آئین میں آرٹیکل 19 کی شمولیت کے باوجود یہاں دستاویزات کو ”مقدس“ اور اداروں کو ”حساس“ رکھا جاتا ہے۔ اس دھرتی پر حیدر بخش جتوئی، رسول بخش پلیجو، جام ساقی جیسے انقلابی محکوم عورتوں سے مفلوک بچوں تک سب کو سیاسی بیداری کے دائرے میں لانے کی کوشش میں حاشیوں پر دھکیلے جاتے ہیں۔

فیض احمد فیض، سید سجاد ظہیر، عطا اللہ مینگل، خیر بخش مری، ولی خان، حسن ناصر، نذیر عباسی، حمید بلوچ، نواب نوروز خان، باچا خان، اکبر بگٹی، پرویز رشید اور جاوید لطیف جیسے لوگوں کو ”غدار“ سمجھا جاتا ہے جبکہ پرویز مشرف، راؤ انوار اور انور مجید جیسی ”اجلی“ شخصیات کو پاکستان کا ”حقیقی“ اور ”روشن“ چہرہ سمجھتے ہوئے ”ماں“ جیسی ریاست اور باپ جیسی حکومت کے ”لاڈلوں“ کا درجہ دیا جاتا ہے۔

یہ تو حکومت پاکستان کے مونوگرام پر ”ایمان، اتحاد، تنظیم“ کی بجائے ”منافقت، خیانت، فریب“ لکھنے کے حق میں ہماری خامہ فرسائی تھی۔ اب ذرا علامتوں پر بات ہو جائے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کی پاکستان کے ریاستی نشان کو چار خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے اوپر کی جانب دائیں خانے میں چائے کی پتی کا پودا، بائیں خانے میں کپاس جبکہ نچلے دو خانوں میں گندم اور پٹ سن کے نشان موجود ہیں۔

اب موجودہ حالات و واقعات کے تناظر میں چائے کی پتی کے پودے کی علامت کو لوگو میں قائم رہنا چاہیے کہ چائے اس ملک کا قومی مشروب بن چکا ہے۔ پاکستانی ہر سال اربوں روپے کی چائے پی جاتے ہیں۔ کپاس کے پودے کی علامت لوگو سے ہٹا دینی چاہیے کہ حکومتی عدم توجہی اور متعلقہ اداروں کی نا اہلی کے سبب پاکستان میں کپاس کی کاشت بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ شوگر مافیا کی خوشنودی کی خاطر کپاس کی کاشت والے علاقوں میں دھڑا دھڑ شوگر ملز قائم کرنے کی اجازت دے کر اور گنا کاشت کر کے کپاس کی فصل کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا۔ لہذا اپنے ”کرتوتوں“ کی بنا پر ”حسب حال“ کپاس کی پودے کی علامت ختم کر کے گنے کی علامت لوگو میں لگا دی جائے۔

لوگو کے نچلے دو خانوں میں پٹ سن اور گندم کی علامات موجود ہیں۔ جب یہ لوگو تیار کیا گیا تھا، اس وقت مشرقی پاکستان ایک صوبے کے طور پر متحدہ پاکستان کا حصہ تھا، مشرقی پاکستان کی سرزمین پٹ سن کی پیداوار کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنی علیحدہ پہچان رکھتی تھی۔ اب جب مشرقی پاکستان کا ”بوجھ“ ہی ہم نے اتار پھینکا ہے تو ان کی پیداوار کی علامت کو اجاگر کر کے ہم کیوں ”نئے پاکستان“ کی نفی کرتے پھریں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ پٹ سن کی بجائے ”زاغ“ یعنی کالے کوے کی تصویر علامتی طور پر ریاستی لوگو میں لگائی جائے۔ ”زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن“ والی حقیقت سے قطع نظر، اس وقت پورے ملک میں کالے کوؤں کا ہی راج ہے، باقی سارے معصوم صفت ”پرندے“ سہم کے بیٹھے رہتے ہیں۔ کوے اجلاس کرتے ہیں اور دوسرے پرندوں کے حصے کا رزق آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔

پاکستان کے موجودہ ریاستی لوگو کے گندم والے خانے میں بھی تبدیلی کر کے ”بوم“ یعنی الو کی علامت لگا دی جائے کہ یہ پرندہ مغرب میں عقل مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ الو کی عقل مندی کے حوالے سے اس حقیقت کی گواہی ہمارے وزیر اعظم صاحب بھی دے سکتے ہیں ک ان سے زیادہ مغرب کو کوئی اور نہیں جانتا۔ ہمارے یہاں کار سرکار میں بھانت بھانت کے عقل مند پالیسی ساز وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، یہ انہی عقل مندوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ اس وقت مملکت خداداد میں گندم کی تین تین پالیسیاں چل رہی ہیں۔ تین تین ریٹ ہیں اور کاشت کار سے لے کر گندم کھانے والے تک سب ہی ابہام کا شکار ہیں۔ جس طرح پنجاب میں گندم کا ریٹ الگ، سندھ میں الگ اور اوپن مارکیٹ میں الگ ہے اس طرح آٹے کا بھی ہر جگہ علیحدہ علیحدہ ریٹ ہے۔ 55 روپے کلو سے لے کر 110 روپے کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ کسان دشمن پالیسیوں اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث چار لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی جا رہی ہے۔ سبسڈی والے گھٹیا ترین آٹے کے حصول کے لئے سڑکوں پر غریب جس طرح مارا مارا پھر رہا ہے، یہ ایک انسانی المیہ ہے، جسے دیکھ کر انسانیت بھی شرما جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *