20 ارب ڈالر کی گوشت مارکیٹ ہماری منتظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعودی عرب اپنا بھائی ہے ’بھائی دوسرے بھائی کے کام آئے تو یہ بھائی چارہ ہوتا ہے۔ بھائی جب دوسرے بھائی کو زکوٰۃ‘ فطرانہ اور خیرات دے تو تعلق میں موجود بھائی چارہ محتاجی کے رشتے میں بدل جاتا ہے۔ ایسا رشتہ جہاں انا ’خودداری اور بسا اوقات آزادی گروی رکھنا پڑ سکتی ہے۔ وزیراعظم کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران ملنے والے 50 کروڑ ڈالر کو آپ خیرات کی رقم ہی سمجھیں۔ بھیک پر زندگی گزارنے والوں کو چھوڑیں‘ آپ اور میرے دل پر جو گزری ہے وہ ناقابل بیان ہے۔

ایسے میں اگر کوئی یہ خبر دے کہ ہمارا دوست ہمسایہ چین ہمیں سالانہ 20 ارب ڈالر کی برآمدات کی اجازت دے رہا ہے تو سوچیں یورپ ’امریکہ اور آئی ایم ایف سے نجات ملنے میں کتنا وقت ملے گا۔ چین ہمارا دوست ہے‘ دوستی اس قدر بڑھی کہ ہم نے اقصائے چین اور گلگت بلتستان کی دیواروں میں سے ایک راستہ بنا لیا ہے جسے پاک چین اقتصادی راہداری کہتے ہیں۔ اس راستے نے کئی نئی کھڑکیاں واکی ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں خصوصی صنعتی زون بن رہے ہیں۔

موٹرویز اور رابطہ سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ گوادر پورٹ میں انتظامی بہتری لائی گئی ہے اور تکنیکی شعبے کو تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ دونوں دوست ملکوں نے طے کیا ہے کہ گوادر کی بندرگاہ کو زرعی تعاون کے گرین چینل کی حیثیت سے استعمال کیا جائے۔ چین دنیا میں گوشت کی سب سے بڑی طلب رکھنے والا ملک ہے۔ چین کو گوشت کی اتنی ضرورت ہے کہ وہ ہر سال آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک سے لاکھوں ٹن بیف منگواتا ہے۔ آسٹریلیا امریکہ کا دفاعی اتحادی ہے، افغانستان میں سب سے زیادہ سفاکیت کا مظاہرہ آسٹریلوی فوجیوں نے کیا، بچوں کو ذبح کیا جس کی تصاویر چین نے جاری کیں تو آسٹریلیا نے سخت برا منایا، آسٹریلیا اس اتحاد کا حصہ بھی ہے جو امریکی قیادت میں چین کی بحری ناکہ بندی کرنے کو کوشاں ہے، آسٹریلیا چین مخالف کیمپ میں ہے اس لئے اس سے گوشت کی درآمدات روکی جا سکتی ہیں، ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کو جب گائے ’بکری اور مرغی کا گوشت نہیں ملتا تو وہ سور‘ سانپ ’بندر‘ لومڑی ’کتے‘ حشرات ’پرندے اور ہر وہ چیز کھانے لگتے ہیں جو زندہ ہے۔

2020 ء میں چین نے 6.72 فیصد گوشت باہر سے منگوایا۔ اس اثنا میں چین نے مرغی کا گوشت 2019 ء سے دو گنا درآمد کیا۔ چین میں بیف اور چکن کی مجموعی سالانہ کھپت 10 ملین ٹن سے زائد ہے۔ ہر چینی شہری کے حصے میں سالانہ چند کلوگرام گوشت آتا ہے، جو ناکافی ہے۔ اس لیے لاکھوں ٹن گوشت درآمد کر لیا جاتا ہے۔ پاکستان میں مویشی پالنا عام ہے۔ جدید طرز کے فارم بنا کر بچھڑے‘ کٹے وغیرہ پالنے کا کام بہت محدود ہے ’مرغی کافی مقدار میں پالی جاتی ہے لیکن وہ مقامی ضرورت سے زیادہ نہیں ہوتی‘ اسی لیے رمضان المبارک میں اس کا نرخ 400 روپے فی کلو سے زائد ہو گیا۔

پاکستان اور چین کے درمیان گوشت کی تجارت نہ ہونے کے برابر ہے۔ چین نے ابھی تک جانوروں کے ذریعے وبائی امراض کے پھیلاؤ کے انسداد کے لیے پاکستان کے ناکافی اقدامات پر ا سے گوشت کی درآمد کے قابل نہیں سمجھا۔ گوشت کی درآمد کے لیے جانوروں کو منہ کھر اور دیگر امراض سے بچاؤ کے انجکشن لگوانا ضروری ہے۔ کس قدر حیرت کی بات ہے اس سلسلے میں جب لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ نے حکومت کو یاد دہانی کرائی تو سیکرٹری خزانہ نے ادویات کے لیے بجٹ فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ رکاوٹ اسی کو کہتے ہیں۔ پاکستان اور چین نے منہ کھر سے پاک زون قائم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا۔ حکومت پاکستان اس سلسلے میں ایک ویکسینیشن پروگرام شروع کرنا چاہتی ہے۔ چینی ادارے پاکستان کو سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں۔ ویکسی نیشن اور افرادی قوت کی تربیت کے بعد پاکستان چین کو گوشت برآمد کر سکے گا۔ سردست منہ کھر کی بیماری سے نمٹنے کے لیے جو ویکسی نیشن استعمال ہو رہی ہے وہ چین ’روس اور مغربی یورپ سے منگوائی جاتی ہے۔

چین گوادر میں جانوروں کے لیے ویکسی نیشن تیار کرنے والا کارخانہ لگا رہا ہے۔ یہاں سے 700 ملین ویکسین خوراکیں دستیاب ہوں گی۔ چین اس بات پر رضا مند ہے کہ گوشت کی پروسیسنگ کا سارا انتظام پاکستان میں مکمل کر لیا جائے تاکہ گوشت جب چین پہنچے تو براہ راست گاہکوں کی رسائی میں آ سکے۔ سی پیک جہاں سے شروع ہوتا ہے وہ چینی علاقہ مسلم اکثریتی ہے۔ حلال گوشت کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ چین سے مشینری‘ کھلونے اور گھریلو سامان کے کنٹینر آئیں گے ’جواب میں اگر ہم انہیں گوشت بھیجیں تو باہمی تجارت میں پایا جانے والا خسارہ بھی دور ہو جائے گا۔

سی پیک موٹر ویز اور روڈز کے کنارے ایسے بہت سے کھلے علاقے موجود ہیں جنہیں قدرتی چراگاہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہاں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی طرح لائیو سٹاک کے فارم بنائے جا سکتے ہیں۔ کے پی کے اور جی بی میں گوشت کی پراسیسنگ کے پلانٹ نصب ہوسکتے ہیں۔ بلوچستان کے جن علاقوں میں حالات کچھ بہتر ہیں وہاں یہ کام ہو سکتا ہے۔ پنجاب میں لاکھوں ایکڑ کے میدان اس کام میں لائے جا سکتے ہیں۔ سندھ میں وسیع رقبے غیر آباد ہیں۔

چین نے کچھ عرصہ ہوا کراچی میں ایک کمپنی کو گوشت چین بھیجنے کی اجازت دی ہے۔ یہ اجازت چینی حکومت کے کوالٹی کنٹرول معیاروں کے تحت دی گئی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ نے حالیہ قرارداد میں ہمیں ناموس رسالت قوانین میں ترمیم نہ کرنے پر جی ایس پی پلس معاہدے اور 5 ارب ڈالر کے لگ بھگ کی سالانہ برآمدات سے محروم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ہم اس پر واویلا کر رہے ہیں لیکن متبادل مواقع کی طرف توجہ دینے پر تیار نہیں۔ ذرا تصور کریں کہ پاکستان کو سالانہ 20 ارب ڈالر کا کاروبار مل جائے تو لوگوں کو روزگار کے کتنے مواقع ملیں‘ ہم قرضوں کے بوجھ سے کس قدر جلد نجات پا لیں اور صحت ’تعلیم و تفریح کی سہولیات میں کس قدر بہتری لائی جا سکے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *