مفتی منیب کو رویت ہلال کے عید پر کیا اعتراضات ہیں اور لیکڈ ویڈیو میں کیا ہے؟

گذشتہ چند برس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری اور رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب ایک صفحے پر ہیں اور اس بار دونوں ہی اس بات پر متفق ہیں کہ سائنسی اور شرعی اعتبار سے عید جمرات کے بجائے جمعے کو یعنی 14 مئی کے دن بنتی تھی۔
سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے چاند دیکھنے سے متعلق شرعی فریضہ درست انداز میں انجام نہیں دیا ہے۔
ان کے مطابق کمیٹی کا کام صرف گواہیاں اکھٹی کرنا نہیں ہے بلکہ ان کے معتبر ہونے سے متعلق اپنی آزادانہ رائے کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق ‘رویت ہلال کمیٹی نے اندھا دھند شہادتوں پر ہی اعتبار کیا ہے’۔
واضح رہے کہ پاکستان کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد کی سربراہی میں عید (شوال) کا چاند نظر آنے سے متعلق رات گئے اعلان کیا تو اس کے بعد سے جہاں ملک بھر میں عید منائی گئی وہیں اس دیر سے کیے گئے اعلان اور گواہیوں کے قابل قبول ہونے سے متعلق نئی بحث نے بھی جنم لیا ہے۔
اور اس بحث میں اس وقت زیادہ شدت آ گئی جب اس کمیٹی کے ایک رکن پروفیسر محمد یاسین ظفر کی ایک ویڈیو لیک ہوئی، جس میں وہ کسی سے بات کرتے 13 مئی کو عید منانے سے متعلق (کمیٹی پر) دباؤ کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وحدت کے چکر میں یہ (اعلان) کرایا جا رہا ہے۔
ان کی اس ویڈیو میں یہ بھی سنا جا سکتا ہے وہ اپنے اور کمیٹی کے متعلق یہ کہہ رہے ہیں سچی بات یہ ہے کہ ہم بڑے کمزور لوگ ہیں۔۔۔ اس ویڈیو میں یاسین ظفر مفتی منیب کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ اس بار ان کی بہت یاد آ رہی ہے۔۔ اور وہ صاف بات کرتے تھے۔
’میری ویڈیو غلط فہمی پھیلانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے‘
پروفیسر یاسین ظفر نے اپنی لیکڈ ویڈیو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میری نسبت سے ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس سے میرے بہی خواہوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ شاید کوئی گواہی نہیں تھی یا شہادت نہیں تھی اور عید کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق ’دراصل میں اپنے کسی دوست کے فون کے جواب میں اسے وضاحت دے رہا تھا کہ اعلان میں تاخیر کا سبب یہ بنا کہ بہت ساری جگہوں سے، دور دراز سے گواہیاں آئی تھیں اور ان کو پرکھنے میں وقت لگا ہے اور (اب) تسلی کرنے کے بعد، اطمینان کرنے کے بعد ہم یہ اعلان کرنے جا رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس لیے میں اپنے تمام مقلدین حضرات سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ وہ اپنے پورے اطمینان کے ساتھ عید الفطر منائیں، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق ’مجھے اور میرے دوسرے رفقا کو اس بات پر شرح صدر ہے کہ جن حضرات نے چاند اپنی آنکھوں سے دیکھا، انھوں نے گواہی دی اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ہم نے اس کا اعلان کر دیا۔‘
یاسین ظفر کے مطابق ان کی یہ ’ویڈیو غلط فہمی پھیلانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ میرے خیال میں میری اس وضاحت کے بعد اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔‘
رویت ہلال کمیٹی کی تمام کارروائی کی لمحہ بہ لمحہ کوریج کرنے والے جیو نیوز کے سینیئر رپورٹر آصف بشیر چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ عید کے اعلان سے متعلق کمیٹی کے اکثریت ارکان کی یہ رائے تھی کی پاکستان میں چاند نظر آنے کے امکانات بہت کم تھے۔ ان کے مطابق شاید یہی وجہ تھی کہ عید کا اعلان کرنے میں غیر معمولی تاخیر بھی ہوئی۔
ان کے مطابق جب فیصلہ نہیں ہو رہا تھا تو کمیٹی کے چیئرمین نے اراکین سے کہا کہ پشاور کی مسجد قاسم خان کی شہادتوں پر بھروسہ کرنا ہی بہتر ہے۔ ان کے مطابق جب پروفیسر یاسین ظفر فون پر کسی نے بات کر رہے تھے تو اس وقت میڈیا کے مائیک اور کیمرے بھی ان کی ریکارڈنگ کر رہے تھے، جن کا شاید کمیٹی کے رکن ادراک نہیں کر سکے۔
مفتی منیب کا کیا مؤقف: انتشار سے بچنے کے لیے فوراً فتویٰ جاری نہیں کیا
مفتی منیب نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں کمیٹی کے فیصلے سے انتہائی دکھ پہنچا ہے، جس پر وہ روئے بھی ہیں اور اس وجہ سے انھوں نے ایک قضا روزہ رکھنے کے بارے میں کہا ہے اور جو حضرات اعتکاف میں تھے ان سے اعتکاف کی نیت سے روزہ رکھنے کی اپیل کی ہے۔
اپنی بات پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رویت ہلال کا کام محض گواہیاں جمع کرنا نہیں ہوتا بلکہ شرعی لحاظ سے ان کو پرکھنا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس خطے میں چاند آنکھ سے دیکھنا محال تھا اور پھر ایسے میں کمیٹی نے تمام گواہیوں کو تسلیم کر لیا۔
ان کے مطابق گواہیاں تو ہر سال موصول ہوتی ہیں۔ ایسی گواہیوں کو بغیر تصدیق کے قبول کرنا ایسا ہی ہے کہ اگر کوئی شخص کہے اس نے پشاور سے لاہور بس کے ذریعے صرف ایک گھنٹے میں سفر کیا ہے، اب سننے والے کا یہ کام بنتا ہے کہ وہ حقائق کی خوب چھان بین کرے اور زمینی فاصلے اور رفتار کی حد کو ذہن میں رکھ کر فیصلہ کرے۔
تاہم جب مفتی منیب سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر وہ کمیٹی کے اس فیصلے سے متفق نہیں تھے تو پھر انھوں نے فوراً اس کا اظہار کیوں نہیں کیا، جس پر ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے انتشار سے بچنے کے لیے ایسا کیا۔
’فواد چوہدری سے کوئی مسئلہ نہیں رہا، ان کی رائے درست تھی‘
مفتی منیب نے کہا کہ انھیں فواد چوہدری سے مکمل اتفاق ہے کہ چاند دیکھے بغیر عید منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سائنس رویت کے کام میں معاون ضرور ہوتی ہے مگر سنت یہ ہے کہ چاند دیکھ کر عید کی جائے۔
خیال رہے کہ مفتی منیب اور وفاقی وزیر فواد چوہدری کے درمیان ماضی میں چاند دیکھنے سے متعلق سخت بیانات کا تبادلہ رہتا تھا۔
مفتی منیب کا مؤقف ہے کہ ماضی میں بھی ان کا فواد چوہدری سے کوئی مسئلہ نہیں رہا اور صرف علما کے پاکستان کی آزادی سے متعلق ان کے ایک بیان سے انھوں نے اختلاف کیا تھا اور اس کی وضاحت کی تھی۔
ان کے مطابق وہ سائنس کے خلاف نہیں ہیں۔
مفتی منیب کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے مسلسل تین سال انھیں پشاور کی مسجد قاسم خان کے ساتھ عید کے اعلان کے لیے دباؤ ڈالا مگر انھوں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ عید پر چند اعلیٰ حکومتی شخصیات نے بھی رویت ہلال کمیٹی کے کام میں مداخلت کی ہے۔
مفتی منیب کے ان الزامات پر جب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین ابوالخبیر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
پاکستان میں رمضان اور شوال کا چاند ہمیشہ سے ہی مختلف تنازعات کی زد میں رہتا ہے، کبھی کسی ایک صوبے میں عید کا اعلان پہلے کر دیا جاتا ہے تو کبھی ’سائنس بمقابلہ مذہب‘ کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔
اس بار تنازع اس وقت پیدا ہوا جب حکومت کے اپنے وزیر فواد چوہدری نے ٹویٹ کی کہ سائنس کے اعتبار سے عید 14 مئی کو بنتی ہے کیونکہ چاند کی عمر اتنی نہیں ہے کہ اسے انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکے۔
https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1392514747824807940?s=20
تحریک انصاف کی حکومت نے دو دہائیوں سے رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر تعینات مفتی منیب الرحمان کو عہدے سے ہٹا کر ایک نئی 19 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
اس کمیٹی کے نئے چیئرمین لاہور کی بادشاہی مسجد کے موجودہ خطیب اور گذشتہ 15 برس سے رویت ہلال کمیٹی کے رکن عبدالخبیر آزاد ہیں۔ اس 19 رکنی کمیٹی میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔
اس کمیٹی کے بننے پر فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’مسئلہ منیب الرحمنٰ صاحب کا نہیں اس تشریح کا ہے کا جو ہمارا ایک مذہبی طبقہ کرتا ہے، جس کی رو سے علم اور ٹیکنالوجی کو رد کیا جاتا ہے۔‘
رویت ہلال کی کمان سنبھالنے کے بعد عبدالخبیر آزاد نے کہا تھا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ مفاہمت سے فیصلے کریں، سب کو ساتھ لے کر چلیں اور پورے ملک میں عید ایک ہی دن کریں۔


