جہانگیر ترین کو مضبوط سہارے کا مشورہ؟


وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد جہانگیر ترین کی سربراہی میں وزیراعظم خان کے خلاف قائم ارکان اسمبلی کا باغی گروپ میڈیا پر آ کر یہ تاثر دے رہا ہے کہ سب اچھا ہو گیا ہے، مطلب وزیراعظم عمران خان جہانگیر ترین کو کلین چٹ لے کر دینے میں کردار ادا کریں گے۔ تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں، مطلب جیسے وہ چاہ رہے تھے، ویسا ہی ہو گیا ہے۔ وہ جی خان صاحب ہمارے وزیراعظم ہیں۔ لیکن دوسری طرف وزیراعظم کے کیمپ سے اس کے برعکس کہانی بیان کی جا رہی ہے۔

جیسے جہانگیر ترین کے ہمدرد باغی ارکان اسمبلی کا مطالبہ تھا کہ ترین کے مقدمات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور ساتھ خاص طور پر اس بات پر زور تھا کہ مشیر احتساب شہزاد اکبر کو تحقیقات سے دور کیا جائے لیکن اس پر وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ملاقات میں کورا جواب ملا کہ ایسا نہیں ہو سکتا ہے بلکہ کہا گیا کہ شہزاد اکبر بہترین کام کر رہے ہیں۔ ترین کے حامی ارکان اسمبلی کو تسلی دی گئی کہ مجھ سے امید رکھیں کہ انصاف ہوگا۔

اس کے ساتھ یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ جہانگیر ترین سمیت کوئی بھی ذمہ دار نکلا تو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شوگر کمیشن تحقیقات میں کوئی دباؤ قبول نہیں کروں گا۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی ارکان اسمبلی پر واضح کر دیا کہ اپنی وزارت عظمی کی خاطر حق کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ ادھر وزیراطلاعات فواد چودھری نے بھی کہا ہے کہ جہانگیر ترین کیس میں ایف آئی اے کی تحقیقات جاری رہیں گی۔ جس طرح دیگر لوگوں کو ٹرائل کا سامنا ہے، ان کو بھی کرنا ہوگا۔

جہانگیر ترین کے حامی ارکان اسمبلی کے دعووں کی برسات میں یہاں اس بات کا بھی ذکر ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان جہانگیر ترین کے حامی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقات سے ایک روز پہلے ملتان تھے۔ جہاں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ملتان کی کہانی کو اگلی شکل دینی تھی۔ ہمارے جیسے لوگوں کا خیال تھا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اس اہم موقع پر سرائیکی صوبہ سے سرائیکی بنک اور پھر جنوبی پنجاب صوبہ سے ادھے ادھورے ٹکڑوں میں تقسیم سیکرٹریٹ پر بات کریں گے۔

اور یہاں باقی علاقوں کو چھوڑیں کم ازکم وہ ملتان کے عوام کو ضرور اعتماد میں لیں گے کہ آخر وہ اور ان کا کپتان آصف علی زرداری اور نوازلیگی لیڈر نواز شریف کی طرح سرائیکی صوبہ سے پیچھے کیوں ہٹ گئے ہیں۔ اور سیکرٹریٹ کے لولی پاپ پر کیوں راضی ہوئے ہیں؟ لیکن وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بات اور طرف لے گئے جو کہ ان کے نزدیک زیادہ اہمیت کی حامل تھی، مطلب موصوف وزیراعظم عمران خان کو عوام میں کھل کر کہنا چاہتے تھے تاکہ وہ جو اگلے روز جہانگیر ترین کے حامی ارکان اسمبلی ان کو اسلام آباد ملنے آرہے تھے، اس وقت وہ دباو میں نہ ہوں اور ملتان میں کی گئی باتیں ان کے ذہن میں گونج رہی ہوں۔

یوں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جہانگیر ترین کا نام لیے بغیر جو باتیں کیں، وہ سخت لہجہ میں تھیں اور اس بات کی نشاندہی تھی کہ وزیراعظم عمران خان کو ملتان کے قریشی ڈٹ جانے کا مشورہ دے رہے تھے، شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں دو ٹوک انداز میں کہا کہ بلے والے لائن کھینچ کر ادھر یا ادھر ہوجائیں، یہ تیتر بٹیر نہیں چلے گا۔ تحریک انصاف کے کارکن اس طرف دھیان نہ دیں کہ چار ایم این اے یا ایم پی اے بگڑ گئے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان عوام کی آپ سے امیدیں ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ آپ بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ عمران خان کسی صورتحال میں بلیک میل نہیں ہوگا۔ ملتان کے قریشی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کا عمران خان کو پیغام ہے کہ مافیاز کے سامنے ڈٹ جائیں، عمران خان کی بائیس سالہ جدوجہد ہے جو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ووٹ لے کر آیا ہے۔ وہ آپ کو نہیں چھوڑے گا۔ ایک واضح لائن کھینچ دینی چاہیے یا ادھر ہوجائیں یا ادھر؟ یہ تیتر بٹیر نہیں چلے گا۔ تحریک انصاف کا نظریاتی کارکن عمران خان کی بیس سالہ جدوجہد کی پاسداری کے لئے آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ عمران خان ہی مہنگائی، مافیاز اور کرپٹ عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

ذرا پیچھے مڑ کر دیکھیں تو جہانگیر ترین اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان میں جاری لفظی جنگ کا ایک جواب وزیراعظم عمران خان نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں یوں بھی دیا تھا کہ وہ جہانگیر ترین کے حامی ارکان اسمبلی سے ملنے اور بات کرنے پر تیار ہیں لیکن انصاف کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔ ہمارے خیال میں وزیراعظم نے بات واضح کردی تھی کہ دباؤ میں لانے کی کوشش ناکام ہوگی۔ ادھر جیسے ہی جہانگیر ترین کے گرد ایف آئی اے نے گھیر تنگ کیا تو موصوف کو ضمانتوں کے لئے جانا پڑا۔

پھر جیسے ہی جہانگیر ترین اپنے ملزم فرزند ارجمند علی ترین کے ساتھ عدالت گئے تو موصوف کا لہجہ دھمکی آمیز یوں تھا کہ للکار کر کہا ہے مجھے دوست ہی رہنے دیں، دشمنی پر مجبور نہ کریں، ادھر ترین کے پیچھے کھڑے کچھ پرانے دوست بھی لقمہ دے رہے تھے۔ پوری قوم نے جہانگیر ترین کے اس دھمکی آمیز گفتگو کو سنا۔ موصوف کا لہجہ اس بات کی چغلی کر رہا تھا کہ موصوف وزیراعظم عمران خان کو جوابی وار کے لئے خبر دار کرنے کے علاوہ اپنے خلاف ایف آئی اے کے مقدمات میں ملوث قرار رہے ہیں۔

پھر یہاں تک بھی ہوا کہ ترین گروپ کے حامیوں کی طرف سے کہا گیا کہ انصاف نہیں ملا تو ”جہانگیر ترین جو کہ سپریم کورٹ سے سزایافتہ اور نا اہل ہے“ وہ بھٹو اور شیخ مجیب کا روپ دھار سکتا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ ایف آئی اے ملزم اور پھر جو شخص جو کہ کک اور مالی کے نام پر دھندہ کرتا رہا ہے، سپریم کورٹ سے سزا یافتہ ہے اور نا اہل ہے، وہ کیسے بھٹو اور شیخ مجیب کے سیاسی مرتبہ پر فائز ہو سکتا ہے؟ لیکن ابھی تک تو دعوی کے بعد جہانگیر ترین کہیں عوام میں بھٹو اور شیخ مجیب طرز پر وزیراعظم عمران خان کو للکارتا نظر نہیں آیا ہے۔

سمجھداروں کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان کوششوں کے باوجود اب وہ سلسلے بحال نہ ہو سکے جو ترین کو دوبارہ وزیراعظم ہاؤس تک پہنچا سکیں، مقدمات ختم ہوجائیں اور سب اچھا ہو جائے۔ جہانگیر ترین نے سینیٹ کے الیکشن میں کوئی کارروائی ڈالی ہے یا پھر خاموش رہا ہے؟ لیکن نتائج اس بات کی چغلی کر رہے تھے کہ سید یوسف رضا گیلانی کو کہیں سے تو سپورٹ ملی ہے کہ حکومت کے 16 ارکان اسمبلی وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کے باوجود حفیظ شیخ کے خلاف سینیٹ الیکشن میں ووٹ دے گئے تھے۔

جہانگیر ترین کا کردار یہاں ان کا بڑا حامی راجہ ریاض کا یہ دعوی بھی ایکسپوز کر گیا ہے جس میں راجہ صاحب کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان جب ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے آگے بڑھے تھے تو جہانگیر ترین کو لودھراں سے فون کر کے نہ بلوایا جاتا اور وہ ارکان اسمبلی کو فون نہ کرتے تو وزیراعظم عمران خان اعتماد کا ووٹ نہ لے سکتے۔ مطلب جہانگیر ترین وزیراعظم عمران خان کو سبق سکھانے کے لئے باغی ارکان کی شکل میں گروپ تشکیل دے چکے تھے، موصوف کو اپنے کارناموں سے اندازہ تھا کہ کبھی سیاہ کارناموں سے پردہ ہٹا تو کپتان کو بھی بحیثیت حکمران اپنے خلاف آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے بغاوت کرنی پڑے۔

آخر پر ترین اور کپتان کے درمیان جاری محبت، دشمنی اور منافقت کی چلتی کہانی کے ملاقاتی سیشن کے بعد کی صورتحال پر سرائیکی دھرتی کے معروف صحافی و سیاسی امور کے ماہر جمشید رضوانی کا کہنا ہے کہ ”جہانگیر ترین کے ساتھی وزیراعظم عمران خان سے مل چکے بظاہر لگ یہ رہا ہے کہ انہیں کوئی حوصلہ افزا اشارے نہیں ملے ہیں جس سے لگے کہ جہانگیر ترین کا مشکل وقت شاید ختم ہو جائے لیکن ایسا ہوتا فوری طور پر نظر نہیں آ رہا ہے جہانگیر ترین پارٹی میں پارٹی کے لوگوں سے اپنی پارٹی کے قائد کے سامنے اپنا کیس رکھ چکے لیکن آج کے بعد یہی لگتا ہے کہ انہیں دیوار سے لگانے کا فیصلہ ہو چکا ہے مطلب یہ کہ وہ مشکل وقت کے لئے تیار رہیں یا اپنا کیس کسی اور“ مضبوط سہارے ”سے بھی آگے بڑھائیں“ ۔

Facebook Comments HS