شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی اور فرح دیبا شاہ پہلوی کی محبت
ایرانی بادشاہ رضا شاہ پہلوی بڑا ہی دل چسپ کردار تھا۔ ہما شما جو چٹخارے دار قصے کہانیاں بادشاہوں کے متعلق الف لیلی ’، داستان امیر حمزہ اور دیگر کلاسیکل داستانوں میں پڑھتے ہیں وہ ان کا مجسم نمونہ تھا۔ اس کی معشوقہ بیوی فرح دیبا شاہ پہلوی اسے جان و دل سے عزیز تھی اور اسے وہ ہمہ وقت پہلو سے لگائے لگائے پھرتا تھا۔ عبادت بھی اس کے ساتھ ہی کرتا پایا جاتا تھا۔ ایک دن دربار سجا ہوا تھا کہ ملکہ فرح شاہ نے اپنی گھڑی پر وقت دیکھا تو اس کی گھڑی معیاری وقت سے ایک گھنٹہ پیچھے تھی۔ ملکہ نے گھڑی وزیر کو دینی چاہی کہ وقت درست کردے۔ بادشاہ کا بحر جذبات جوش پر آیا اور فرمان جاری ہوا کہ ایران کا سرکاری وقت ہی ملکہ عالیہ کی گھڑی کے مطابق ایک گھنٹہ پیچھے کر دیا جائے۔ وقت کی یہ جرات؟ کہ ملکہ کی گھڑی سے آگے چلے؟
اسی طرح ملکہ نے ایک دن خواہش ظاہر کی اس کا جی ماندہ ہوا جاتا ہے کوئی جشن ہونا چاہیے۔ تو بادشاہ نے موجودہ سلطنت فارس کا ہزار سالہ جشن منانے کا اعلان کر دیا۔ دربار کے بعد چند خاص الخاص مصاحبوں نے حساب لگا کر بتایا کہ آں جناب کے پورے خاندان کی حکومت اور اس سے پچھلے خاندان کی حکومتوں کو بھی شامل کر لیں تب بھی ہزار سال پورے نہیں ہوتے۔ ما بدولت نے خلعت کے اندر ہاتھ ڈال کر پیٹ کھجلاتے ہوئے فرمایا کہ وزارت تقویم الاوقات قائم کی جائے اور اس کے ذمے یہ کام لگایا جائے کہ ایرانی کیلنڈر کو اس طرح پر ایڈجسٹ کرے کہ جشن کی اعلان شدہ تاریخ پر ہزار سال پورے ہوجائیں۔ لہذا یہ بھی کر دیا گیا۔ اس جشن میں پوری دنیا کے عمائدین سلطنت اور قریب قریب ہر سربراہ مملکت کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ایک مملکت خدا داد کے سربراہ شراب کے نشے میں اس قدر دھت تھے کہ انہوں نے جشن کے بیچ میں ہی کھڑے ہو کر ہال میں رکھے گملے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا تھا۔
بعد ازاں جب ملکہ کے کہنے پر بادشاہ سلامت نے مرکزی تقریب میں قدیم ساسانی شاہی خاندان کی منظر کشی اور خسروؤں، پرویزوں اور کسراؤں کی کردار نگاری، آتش کدوں، اویستا اور پاژند (زرتشتی مذہب کی بنیادی کتب) کی تلاوت اور کلہم قدیم مجوسی سلطنت کی یاد اس جشن میں منانے پر اصرار کیا اور یہ دلیل پیش کی کہ یہ سب وہ ثقافت پارس کی تجدید کے لئے کرنا چاہتا ہے تو ملک کے طول و عرض میں وہ چہ مگوئیاں شروع ہوئیں جو انقلاب ایران کا نقطہ آغاز ثابت ہوئیں۔
اس سے آگے جو کچھ ہوا وہ تاریخ ہے۔
تو بھائیو بزرگو!
بات کیا ہو رہی تھی بھلا؟
چہیتی معشوقہ بیوی کی۔
عید مبارک۔


