صدف چغتائی: چند معروضی حقائق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدف چغتائی، خورشید الزماں چغتائی اور پروین بیگم کے ہاں 9 اگست 1979 کو پیدا ہوئیں۔ والد پاکستان ریلویز میں کام کرتے تھے۔ والدہ بھی سرکاری ملازمہ تھیں۔

1965 میں خورشید چغتائی نے نوکری کو خیر باد کہہ کر کاروبار شروع کر دیا۔ 70 کی دہائی میں وہ فیملی سمیت کینیڈا منتقل ہو گئے۔ صدف بھی کینیڈا میں ہی پڑھ رہی تھی مگر 1986 میں ان کی والدہ کو ایک ایسی بیماری لاحق ہوئی جس کے حوالے سے ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ کینیڈا کا موسم ان کے لیے موافق نہیں جبکہ کسی گرم علاقے میں رہائش رکھنا ان کے لیے مفید رہے گا۔ چنانچہ صدف کے والدین واپس وطن منتقل ہو گئے۔ لیکن پانچ چھ سال کی علالت کے بعد پروین چغتائی 1991 میں وفات پا گئیں۔ صدف کے والد نے اسی سال دوسری شادی کر لی۔

بعد ازاں صدف نے اسینا سکول سے پڑھنے کے بعد نیشنل کالج آف آرٹس میں داخلہ لیا اور فاؤنڈیشن ائر مکمل کرنے کے بعد مونٹریال کینیڈا چلی گئی جہاں اس نے 2003 میں کونکورڈیا یونیورسٹی سے کمیونیکیشن ڈیزائن میں بیچلر آف فائن آرٹس کی ڈگری مکمل کی۔

صدف وطن واپس آ گئی اور اپنے استاد ندیم وحید کے ساتھ ڈیزائن پروجیکٹس پر کام شروع کیا۔ 2004 میں صدف نے سکول آف ویژول آرٹس، بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پہ کام شروع کیا۔ ان کی محنت اور لگن سے متاثر ہو کر ڈین پروفیسر سلیمہ ہاشمی نے انھیں پرمانینٹ فیکلٹی میں رکھ لیا۔ اسی دوران انھوں نے بی این یو سے ہی آرٹ اینڈ ڈیزائن سٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔

فروری 2010 میں روہتاس ٹو گیلری میں صدف کی پہلی سولو نمائش ’وی آر دا مرر اینڈ دا فیس ان اٹ‘ منعقد ہوئی۔

اپریل 2017 میں صدف نے صحافی اور شاعر مدثر محمود نارو سے شادی کر لی۔ اسی ماہ لاہور میں ہونے والے بینظیر لٹریری فیسٹول کے انعقاد میں ان دونوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔

اس دوران صدف نے پیشہ ورانہ زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور ساری توجہ امور خانہ داری پر مرکوز کر لی۔ فروری 2018 میں صدف کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کا نام ’سچل‘ رکھا گیا۔

اگست 2018 میں صدف اپنے چھ ماہ کے بیٹے اور خاوند کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیر کے لیے گئی۔ 20 اگست کو یہ لوگ بالا کوٹ میں قیام پذیر تھے کہ دوپہر کو چہل قدمی کے لیے جانے والا مدثر کافی دیر تک واپس نہ آیا۔ اسی تشویش میں صدف اپنے بچے سچل کو گود میں لیے اس کی تلاش میں نکلی۔ وہ اس انجان علاقے میں بے یارو مددگار پھرتی رہی مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ جب اس نے مقامی تھانے سے رابطہ کیا تو انھوں نے نہ صرف رپورٹ لکھنے سے انکار کر دیا بلکہ الٹا اسے مدثر کی گمشدگی کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی۔

اس کے بعد ایک نہ ختم ہونے والی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ صدف اپنی فریاد لے کر ہر اس فورم پر گئی جو مدثر کی بازیابی میں مددگار ہو سکتا تھا۔ سن 2020ء میں پورے کرہ ارض پر پھیل جانے والی عالمی وبا ’کووڈ 19‘ میں صدف اور اس کے اہل خانہ بھی متاثر ہوئے لیکن دوران قرنطینہ بھی صدف نے سوشل میڈیا پر اپنی کوششوں کو جاری رکھا۔ ایک طرف وہ مختلف اداروں کے لیے کتابوں کے سرورق اور لے آؤٹ ڈیزائن کر رہی ہوتی تو دوسری طرف ’فائنڈ نارو الاؤ‘ کی کیمپین آگے بڑھا رہی ہوتی۔

ماہ موجود کی بیس تاریخ کو اس نے یونائیٹڈ نیشنز کے کمیشن برائے جبری گمشدگی کے آگے پیش ہونا تھا کہ ہفتہ 8 مئی کو جب بہت پیار کرنے والے چھوٹے بھائی کامران نے اسے خلاف معمول سہ پہر تک سوتا پایا تو جگانے کے لیے پہلے پہل آوازیں دیں، جواب نہ ملنے پر اسے ہلا کر دیکھا تو وہ دار فانی کوچ کر چکی تھی۔ جناح ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق اس کا انتقال صبح 5 بجے کے قریب دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ابدال احمد جعفری کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments