EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کرونا بحران، مسلم دنیا میں دوسرے سال بھی عید کچھ ’پھیکی‘ رہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید الفطر کے موقعے پر ایک سعودی شخص اپنے بچے کا روایتی سکارف درست کر رہا ہے۔ 13 مئی 2021 ۔ فوٹو اے پی
ویب ڈیسک — کرونا کی عالمی وبا نے عید کے روایتی ماحول کو بھی متاثر کیا ہے اور مسلسل دوسرے سال بھی دنیا بھر میں مسلمان کووڈ-19 کے سبب سماجی فاصلوں کے ساتھ عید منا رہے ہیں۔

کئی ممالک میں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے مساجد بند ہیں اور خاندان بھی روایتی انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ سے احتراز کر رہے ہیں۔

انڈونیشیا کے دارلحکومت جکارتہ میں عید کی نماز کھلے آسمان کے نیچے سڑکوں پر ادا کی گئی جہاں نمازی چہروں پر ماسک کے ساتھ قطاروں میں عید کی نماز ادا کرتے نظر آئے۔

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک میں ان علاقوں میں مساجد کھولنے کی اجازت دی گئی تھی، جہاں کرونا کے خطرات کم تھے۔ لیکن جہاں یہ خطرات زیادہ تھے، وہاں مساجد کے دروازے بند کر رکھے گئے تھے، بشمول جکارتہ کی بہت بڑی مسجد استقلال کے۔

اسے جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مساجد میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

جکارتہ میں بچیاں چاند رات کے موقع پر ماہ صیام کو الوداع کہہ رہی ہیں۔ 13 مئی 2021
جکارتہ میں بچیاں چاند رات کے موقع پر ماہ صیام کو الوداع کہہ رہی ہیں۔ 13 مئی 2021

انڈونیشیا نے اپنے شہریوں پر مسلسل دوسرے سال بھی عید کے موقع پر اپنے رشتہ داروں سے ملنے اور آبائی گھروں کے سفر پر جانے کے لئے پابندی عائد رکھی ہے۔

گزشتہ سال اسی طرح کی پابندیوں کے باوجود عید کی تعطیلات کے تین ہفتوں بعد انڈونیشیا میں کرونا کے کیسز میں 37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ انڈونیشیا میں اب تک 17 لاکھ افراد اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں جب کہ 47 ہزار 6 سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنوبی فلپائن میں کرونا وائرس کی وبا اور حکومت اور مسلمان عسکریت پسندوں کے درمیان ایک صوبے میں لڑائی نے لوگوں کو عید کے موقع پر عوامی اجتماعات کی صورت میں عید کی نماز سے دور رکھا ہے۔ اسی طرح میگوئنداناو صوبے میں لڑائی کے سبب کئی لوگ گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں تو کئی خاندان عارضی کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ملائیشیا میں وزیراعظم محی الدین یاسین نے بدھ کے روز غیر متوقع طور پر ایک اور قومی سطح کا لاک ڈاون کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ لاک ڈاوں سات جون تک نافذ رہے گا۔ اس کا مقصد کرونا کے کیسز میں حالیہ اضافے کو روکنا ہے۔ ملک میں بین الصوبائی سفر اور دیگر سماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انڈونیشیا کی طرح ملائشیا میں بھی خاندان ایک دوسرے کے ساتھ روایتی انداز میں مل بیٹھ سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے پیاروں کی قبروں پر دعا کے لیے جا سکتے ہیں۔

ملائیشیا میں بدھ کے روز 4765 نئے کیسز سامنے آئے تھے جس کے بعد اب تک ملک میں کل کیسز کی تعداد 4 لاکھ 53 ہزار 222 ہو گئی ہے۔ کرونا کے سبب ملائیشیا میں اب تک 1761 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

لاؤس میں مسلمان کرونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے تحت کھلے میدان میں عید کی نماز کے لیے اکھٹے ہیں۔ 13 مئی 2021
لاؤس میں مسلمان کرونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے تحت کھلے میدان میں عید کی نماز کے لیے اکھٹے ہیں۔ 13 مئی 2021

ملائشیا کے وزیراعظم نے تسلیم کیا ہے کہ بہت سے لوگ حالیہ لاک ڈاون اور پابندیوں پر اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات قوم کو محفوظ رکھنے کے لیے کئے گئے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ ’ سوچیے اگر آپ کے ہاں مہمان آئیں تو وائرس پھیل جائیں گا۔ اگر وہ مہمان دس گھروں میں جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ دس خاندان کووڈ نائنٹین سے متاثر ہوں گے۔ اور جب عید ختم ہو گی تو ملک میں کرونا کیسز کی تعداد میں دسیوں ہزاروں کیسز کا روزانہ کا اضافہ ہو رہا ہو گا‘۔

براعظم افریقہ کے کئی ممالک میں بھی، بشمول جنوبی افریقہ کے، دوسرے سال بھی عید روائیتی جوش و خروش سے نہیں منائی جا سکی جس کی ایک بڑی وجہ کرونا کی عالمی وبا ہے۔

وائس آف امریکہ کے لیے انیتا پاول کی ایک رپورٹ کے مطابق افریقہ بھر میں کمیونٹی کو مختلف اور مشکل حالات کا سامنا ہے۔ اگرچہ شہری روایتی انداز میں عید نہیں منا رہے، کیونکہ کئی ملکوں اور شہروں میں لاک ڈاون نافذ ہے لیکن کمیونٹی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسی رپورٹیں بھی مل رہی ہیں کہ زکواۃ، صدقے اور خیرات کی مد میں لوگوں نے پہلے سے کہیں زیادہ عطیہ کیا ہے تاکہ مستحقین کی مدد کی جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2560 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے