والدین کا تحفظ (تصویر کا دوسرا رخ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر صاحب نے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے والدین کے تحفظ کے لیے یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ میں بھی ایک ریٹائرڈ آدمی ہوں۔ اس لیے میں بھی بوڑھے ماں باپ کی صف میں آتا ہوں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر دفعہ اولاد ہی غلط نہیں ہوتی کبھی کبھی والدین بھی اولاد کو اس حد تک تنگ کر دیتے ہیں کہ جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔

ایک واقعہ ہمارے گاؤں میں پیش آیا۔ ایک سسر صاحب اپنی بہو پر نظر بد رکھتے تھے۔ اس نے دبے دبے الفاظ میں اپنے شوہر سے شکایت کی مگر اس نے سختی سے اسے جھڑک دیا۔ عورت مرد کی نظروں کو بہت جلدی پہچان لیتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اگر مرد کی نظریں اس کی پشت پر ہی مرکوز ہوں تو اسے پھر بھی معلوم ہو جاتا ہے۔ ایک دن بہو نے نہاتے ہوئے محسوس کیا کہ اسے دیکھا جا رہا ہے۔ اس نے دروازے کی درز سے دیکھا تو اپنے سسر کو باہر پایا۔

اب معاملہ اس کی برداشت سے باہر ہو گیا۔ اس نے اپنے شوہر سے شکایت کی تو شوہر نے اسے اچھا خاصا دھنک کے ڈال دیا کہ تو میرے شریف والد پر بہتان لگاتی ہے۔ بہو بے چاری کچھ نہ کر سکتی تھی بس اپنے طور پر محتاط رہنے لگی۔ نہاتے ہوئے دروازے کے اندر چادر لٹکانے لگی۔ کچھ دن بعد اس بہو کی نند ان کے گھر آئی۔ اب بہو تھوڑی غیر محتاط ہو گئی کہ سسر اتنا بھی بے غیرت نہ ہو گا کہ بیٹی کا بھی خیال نہ کرے۔ مگر اب بیٹی نے ہی باپ کو رنگے ہاتھوں غسل خانے میں جھانکتے ہوئے پکڑ لیا۔ وہ بہو کی طرح ڈری اور سہمی نہ تھی اس نے تو ایسا فساد کیا کہ تمام ہمسائے بھی باخبر ہو گئے۔

ایک اور واقعہ جو میں نے خود دیکھا۔ میری بہن کا گھر بن رہا تھا۔ وہ گھر کے لیے ٹائل لینے ٹاؤن شپ ایک بڑی دکان پر مجھے ساتھ لے گئی۔ ابھی ہم دکان کے اندر داخل ہوئے ہی تھے کہ ایک بوڑھی خاتون صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس دکان میں داخل ہوئی اور میری بہن سے کہنے لگی کہ اس کے بچوں نے اسے گھر سے نکال دیا ہے۔ وہ کھانے پینے سے بھی تنگ ہے اس کی مدد کی جائے۔ ابھی میری بہن نے اپنے بیگ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ سامنے کی مسجد سے ایک باریش بھاری بھرکم جسامت کا بندہ بھاگتا ہوا آیا۔ وہ اتنی تیزی سے آیا کہ اس نے جوتے بھی پہننے کی زحمت گوارا نہ کی۔ آتے ہی وہ اس بوڑھی خاتون سے مخاطب ہوا ”تو پھر بھیک مانگنے نکل آئی ہے“ اس آدمی کی شکل دیکھتے ہی وہ عورت ایسے بھاگی کہ کیا کوئی ایتھلیٹ بھاگتا ہو گا۔

وہ شخص اس ٹائل والے کا واقف تھا اس نے اسے قصہ سنانا شروع کیا۔ اب دکان میں موجود سب لوگ اسے سننے لگے۔ اس نے قصہ شروع کیا اس عورت کا نام صابرہ ہے اور یہ بہت بڑے گھر کی ہے اس کے بیٹے بہت دولتمند ہیں۔ اس کی اپنے گھر والوں سے نہ بنی اور لڑ جھگڑ کر گھر سے نکل گئی اور اپنے بیٹوں کو کہا میں تمہیں ذلیل کروں گی۔ اب وہ خیرات مانگنے لگی۔ واقعی اس کے بیٹے ذلیل ہونے لگے۔ شروع شروع میں انہوں نے اسے سمجھایا مگر وہ نہ مانی۔ تنگ آ کر انہوں نے علاقے کے آدمیوں کو اکٹھا کیا اور درخواست کی کہ ان کی ماں کو سمجھائیں۔

میرے ہمسائے ہیں حاجی صاحب انہوں اس عورت اور اس کے بیٹوں کو اپنے گھر بلایا۔ اس مجلس میں میرے ساتھ چند لوگ اور بھی تھے۔ اس سے پہلے گھر قریب ہونے کے باوجود میری اس کے بیٹوں سے کوئی سلام دعا نہ تھی۔ حاجی صاحب نے خاتون سے پوچھا اسے کیا شکایت ہے۔ اس نے جو شکایات کیں وہ ساری بے جا تھیں اور سارے اعتراضات بالکل فضول تھے۔

حاجی صاحب نے پوچھا ”تو اب کیا چاہتی ہے“
وہ بولی ”میں ان خنزیروں کے ساتھ نہیں رہ سکتی“
چھوٹا بیٹا بولا ”حاجی صاحب ہم اسے گھر لے دیتے ہیں“
وہ بولی ”میں کرائے کے گھر میں نہیں رہ سکتی“
وہ بیٹا پھر کہنے لگا ”ہم اسے گھر خرید دیں گے“
حاجی صاحب نے بتایا ”پچھلی گلی میں ایک گھر بک رہا ہے پانچ مرلے کا“
وہ خاتون کہنے لگی ”میں پانچ مرلے کے گھر میں نہیں رہ سکتی“
حاجی صاحب غصے میں آ گئے ”تو اکیلی جان تیرے لیے تو پانچ بھی بہت زیادہ ہیں“
وہ کہنے لگی ”کم از کم دس مرلے کا تو ہو“
حاجی صاحب بھنا کر بولے ”تیرا دماغ۔“

بڑا بیٹا جو اس دوران زیادہ تر خاموش ہی رہا تھا حاجی صاحب کی بات کاٹتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر بولا ”حاجی صاحب جو اماں کہتی ہے وہی کرنے دیں ہم تیار ہیں دس مرلے کا گھر لے دیں گے اور جو ماہانہ خرچ کہے گی وہی دے دیں گے“

اس خاتون نے ماہانہ خرچ کے لیے بھی اچھا خاصا مطالبہ کر دیا۔ اس نے جو جو شرائط رکھیں بیٹوں نے کسی کو اعتراض نہ کرنے دیا ہر بات مان لی۔ مکان ڈھونڈنے میں۔ صابرہ کے نام کروانے میں حاجی صاحب پیش پیش تھے۔ کسی حد تک میں بھی شامل رہا۔ اللہ اللہ کر کے یہ سارا کام مکمل ہوا اور صابرہ اپنے گھر شفٹ ہو گئی۔

اگلے مہینے کی پہلی تاریخ کو بڑا بیٹا حاجی صاحب کے پاس اپنی ماں کی مقرر کردہ رقم دینے آیا اور کہا ”حاجی صاحب یہ آپ خود ہی اسے دے دیں اگر میں نے دی تو وہ پھر مکر جائے گی“

حاجی صاحب بیٹے سے زیادہ محتاط تھے انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لیا، دو اور اصحاب کو بھی ساتھ لیا اور اسے پیسے دے آئے۔ اب ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو صابرہ کا دونوں میں کوئی ایک بیٹا پیسے دینے آتا تھا۔ انہوں نے کبھی ایک سے دو تاریخ نہ ہونے دی۔ حاجی صاحب بھی دو تاریخ نہ ہونے دیتے تھے اور محتاط اتنے تھے کہ ہمیں ضرور گواہ کر لیتے تھے۔ مگر آج اسے پھر سے گھر سے دور پیسے مانگتے دیکھ رہا ہوں۔

یہ واقعہ سن کر ہم سب سن ہو کر رہ گئے۔ کیا خیرات بھی ایسا نشہ ہے جو کسی طرح نہیں چھوٹتا۔ ساتھ ہی اس کے بیٹوں پر رحم آنے لگا کہ بے چارے کس مشکل کا شکار تھے۔

میرا یہ لکھنے کا مقصد یہ نہیں کہ ماں باپ کی غلطیاں نکالی جائیں ایسے ماں باپ زیادہ سے زیادہ ایک فیصد ہوں گے مگر ہیں ضرور۔ مگر ننانوے فیصد بے ضرر اور محبت کرنے والے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی اپنی اولاد کے لیے قربان کی ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *