شہباز شریف اور ڈیل کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہباز شریف کی رہائی کے ساتھ ہی مفاہمت اور ڈیل کی کہانیاں پھر زبان زد عام ہیں۔ چھوٹے میاں صاحب جیل میں ہوں یا باہر ہمیشہ تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ حالیہ رہائی کے بعد گزشتہ چند دنوں میں برطانوی ہائی کمیشن اور چینی سفیر سے ہونے والی ملاقاتوں نے افواہ ساز فیکٹری کو ایک بار پھر ڈیل کی افواہیں پھیلانے کا موقع فراہم کر دیا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ شہباز شریف کا جیل جانا بھی ڈیل کہلاتا ہے اور جیل سے باہر آنا بھی طاقتور حلقوں کی آشیرباد کا پھل قرار دیا جاتا ہے۔

شہباز شریف کی ڈیل کہانی پر مزید بات کرنے سے پہلے مسجد اقصیٰ پر جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت بہت ضروری ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت سے کوئی توقع عبث ہے۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے لیکن اس حکومت نے کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ کے بعد صرف دھوپ میں کھڑے ہونے پر اکتفا کیا تھا تو ایسی حکومت سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر سوائے مذمت کے کسی مزید اقدام کی توقع رکھنا بے سود ہو گا، مگر اس سانحہ پر مسلم امہ کی پراسرار خاموشی اور بے حسی مایوس کن ہے۔

معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کی شہادت کے علاوہ بیت المقدس پر یہودیوں کے رقص کی ویڈیو اور مسجد الاقصیٰ میں لگی آگ کے انگارے بھی مسلم امہ کو نہیں جھنجھوڑ سکے۔ اسرائیلی اشتعال انگیز کارروائیوں پر جاہ پرست حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ شہباز شریف کا اظہار یکجہتی کے لئے فلسطینی سفارت خانے جانا ایک مستحسن قدم ہے اور ساتھ میں خوابیدہ او آئی سی کا اجلاس بھی اتوار کو طلب کر لیا گیا ہے۔ امید ہے تمام مسلم ممالک ”باہمی یکجہتی و یگانگت“ سے مذمت کرنے کے ساتھ شدید ”غم و غصے“ کا اظہار ایسے پرسوز انداز میں کریں گے کہ اقوام عالم کو یقین آ جائے گا کہ سارے جہاں کا درد ’مسلم امہ‘ کے جگر میں ہے۔

شہباز شریف کو مسلم لیگ نون میں مفاہمت کا علمبردار کہا جاتا ہے۔ اپنے بیانات سے شہباز شریف نے کبھی بھی اس تاثر کی نفی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یہی وجہ ہے عید سے قبل لیگی صدر کی رہائی اور آناً فاناً برطانیہ روانگی کا پروانہ ملنے پر اسلام آباد کی فضاؤں میں ڈیل کی سرسراہٹ سنائی دے رہی ہے۔ شہباز شریف کے حامی اور مخالف اس بات پر متفق ہیں کہ ہر طرح کی آفرز کے باوجود وہ آج تک اپنے بڑے بھائی کے خلاف نہیں گئے مگر پھر بھی ان پر مفاہمت کی پھبتیاں کسی جاتی ہیں۔

گزشتہ کالم میں خارجی معاملات کے حوالے سے لکھا تھا کہ ہماری دفاعی قوتیں بھارت کے ساتھ ازسرنو تعلقات قائم کرنا چاہتی ہیں جبکہ عمران خان انڈیا کے حوالے سے کچھ فیصلے کرنے سے بھی ہچکچا رہے ہیں۔ چند دن پہلے آرمی چیف کے تنہا دورۂ افغانستان کے بعد وزیراعظم عمران خان نے عوام کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دو اہم بیانات دیے۔ ایک انہوں نے کہا کہ جب تک بھارت 5 اگست کے اقدامات کو واپس نہیں لیتا وہ بھارت سے بات چیت نہیں کریں گے جبکہ ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ایک میڈیا انٹرویو میں بھارت کے ساتھ خفیہ رابطوں کا اعتراف کر چکے ہیں اور اس سے پہلے اینکرز کے ساتھ طویل ملاقات میں ”بڑے صاحب“ نے بھی بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کو وقت کی ضرورت قرار دیا تھا۔

خارجی معاملات میں دکھاوے جتنی اہمیت بھی نظر نہ آنے جیسی صورتحال حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتے فاصلوں کی نشاندہی کر رہی ہے۔ ایسے میں شہباز شریف کی رہائی سے ہونے والی چہ مگوئیوں کو غیرفطری نہیں کہا جا سکتا۔ عمران خان نے دوسرا بیان یہ دیا کہ ”جب تک میں زندہ ہوں شریف خاندان کو نہیں چھوڑوں گا“ ۔ عمران خان کے عزم صمیم کو دیکھتے ہوئے بس اس جملے کی کسر رہ جاتی ہے کہ شہباز شریف کو لندن جانے کے لئے میری لاش سے گزرنا ہو گا۔ یہ بیان قوم کو منقسم کرنے والے منتقم مزاج وزیراعظم کی جھنجھلاہٹ کے علاوہ سب اچھا نہ ہونے کی عکاسی کر رہا ہے۔ اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انہوں نے چھٹیوں کے دوران انتہائی سرعت سے شہباز شریف کا نام عین عید کے دن ای سی ایل میں ڈال دیا۔

معاملات بند گلی میں چلے جائیں تو بات چیت سے ہی راستہ نکالا جاتا ہے اور سیاست ممکنات کا کھیل ہے۔ تبدیلی کے کسی ممکنہ منصوبے کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لئے فریقین کے موقف اور صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ گزشتہ کالم میں حکومت کی تبدیلی کے تین طریقوں کا ذکر کیا تھا۔ اگر فریقین کے موقف کی بات کی جائے تو مسلم لیگ نون سمیت پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں نئے انتخابات چاہتی ہیں جس میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت نہ ہو جبکہ پیپلز پارٹی موجودہ اسمبلیوں سے ہی عدم اعتماد کے ذریعے حکومت تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

فی الوقت عمران خان شہباز شریف کو روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں مگر شنید ہے کہ طبی بنیادوں پر انھیں جلد ہی دوبارہ اجازت مل جائے گی اور وزیراعظم کی ”سپیڈ کی لائٹ“ جیسی پھرتیاں بے سود ثابت ہوں گی۔ کاش وزیراعظم ایسی ’برق رفتاری‘ انتقامی نوٹنکیوں کی بجائے عوامی مسائل حل کرنے میں لگاتے تو آج افراط زر اور مہنگائی کی بلند شرح سے عوام کی زندگی اجیرن نہ ہوتی۔

شیخ سعدی کا قول ہے، ہر چہ دانا کند، کند نادان۔ بعد از خرابی بسیار۔ (ترجمہ۔ نادان بھی وہی کرتا ہے جو دانا کرتا ہے۔ مگر بہت ساری خرابیوں کے بعد ) ۔ نادان وہ ہوتا ہے جو اپنی غلطیوں سے سیکھ کر راہ راست پر آ جائے مگر ہمارے وزیراعظم نجانے کس قبیل کے ہیں کہ ضمنی انتخابات میں پے درپے شکست کے باوجود ”کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ اور ”این آر او نہیں دوں گا“ سے آگے بڑھنے کو تیار ہی نہیں۔

شہباز شریف کے دورۂ لندن کی بات کی جائے تو ایک باخبر دوست نے بتایا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور شریف خاندان کے درمیان معاملات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اڑان بھرنے کے بعد ’لاہور سے لندن تک‘ ان کی کچھ اہم ملاقاتیں ہیں اور گمان ہے کہ نئے الیکشن سمیت تمام معاملات نواز شریف اور پی ڈی ایم کے موقف کے مطابق ہی طے پانے کا امکان ہے۔

اپنے اس دوست کی باتوں کو میں اکثر ’افواہ‘ سمجھ کر نظرانداز کر دیتا ہوں مگر بعد میں حقائق سامنے آنے پر ”عزت افزائی“ بھی کروانی پڑتی ہے۔ درحقیقت سیاسی معاملات میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی خلیج جیسے فاصلے سمٹ کر دوبارہ ”ایک صفحے“ تک واپس آنے میں وقت نہیں لگتا۔ مبینہ طور پر موجودہ اسٹیبلشمنٹ گزشتہ انتخابات میں بھی پولنگ سے تین ہفتے قبل تک شہباز شریف کے ساتھ کابینہ کے نام فائنل کر رہی تھی (جس کا اعتراف شہباز شریف نے ایک انٹرویو میں بھی کیا) مگر پھر الیکشن والے دن ہم نے ار ٹی ایس بیٹھنے کے نتیجے میں عمران خان کو وزیراعظم بنتے دیکھا۔

حالات کا جائزہ لیں تو اس سال الیکشن کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔ پانچ سال مکمل کرنے کے لئے عمران خان کو عوامی فلاح کے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ پنجاب میں وزیراعلی تبدیل ہو گیا تو سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے لیکن فرض کریں اگر سب کچھ افواہوں کے مطابق ہو جائے، فرض کریں اگلے سال نئے الیکشن ہو جائیں، فرض کریں تمام جماعتوں کو یکساں سیاسی ماحول میسر ہو، فرض کریں اسٹیبلشمنٹ بھی ایک قدم پیچھے ہٹ جائے اور الیکشن میں غیرمرئی قوتوں کی مداخلت بھی نظر نہ آئے تو یہ نواز شریف اور پی ڈی ایم کے موقف کی جیت ہو گی۔ لیکن اگر تبدیلی انہی اسمبلیوں سے آئی تو نہ صرف یہ اسٹیبلشمنٹ کے حسب منشاء ہو گی بلکہ یہ پی ڈی ایم کے موقف کی نفی کے ساتھ مسلم لیگ نون کے لئے باعث ہزیمت بھی ہو گی۔ حکومت کی نا اہلی ریاست پر بوجھ بن چکی ہے مگر حکومت کی رخصتی کا طریقۂ کار کیا ہو گا، یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments