شگوفے کھلانے والے، فاروق قیصر اور انکل سرگم نے پہلی بار اداس کیا ہے!

یہ تحریر لکھتے ہوئے میں نہ جانے کیوں اس الجھن کا شکار ہو گیا ہوں کہ میں کس شخصیت کو زیادہ جانتا تھا، فاروق قیصر یا انکل سرگم! یقین جانیئے تاحال یہ طے کرنے سے قاصر ہوں کہ میرا درست جواب کیا ہونا چاہیے۔ اصل میں ہماری بیشتر ملاقات ایسی ہی تھیں جس میں وہ دونوں ساتھ ہی ہوتے۔ اگر نہ بھی ہوں تو ہر دو کا تذکرہ نہ ہو، یہ ممکن نہ تھا۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے ( اور شاید آپ بھی اتفاق کریں ) کہ یک جان دو قالب کا محاورہ کم ہی جگہوں پر اتنا موزوں دکھائی دیتا ہوگا جتنا ان دو شخصیات پر منطبق ہوتا تھا۔ محفلوں میں، ایک کی جلوہ گری، خود بہ خود دوسرے کی موجودگی کو ظاہر کرنے کے لئے کافی تھی۔

رومانیہ کے استاد کا روپ دے کر، فاروق قیصر نے انکل سرگم کو اپنا سراپا دینے سے تو بچا لیا، مگر انکل سرگم نے بہت ذہانت ( اور استادی سے ) ان کی آواز ایسے چرائی کہ وہ ہمیشہ کے لئے انکل سرگم کی ہی ہو کر رہ گئی۔ فاروق قیصر، انکل سرگم کے اس قبضے سے ساری زندگی جان نہ چھڑا سکے۔ فاروق قیصر کے جملے جتنے بھی توانا رہے ہوں، اگر ان پر انکل سرگم کی آواز کا تڑکا نہ لگے، تو کہاں سواد آتا۔

یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہے کہ انکل سرگم کی ٹیم فاروق قیصر کی زیادہ مداح تھی یا انکل سرگم کی! تاہم سکرین پر یہی دیکھے میں آیا کہ فاروق قیصر کی پشت پناہی کے باوجود، انکل سرگم کے ہاتھوں سب کی شامت آتی۔ رولا تو آج بھی اپنے اعزاز میں کہے گئے القاب اور خطاب کے بوجھ تلے، ادھ موا پڑا ہے۔ ماسی مصیبتے، ہے گا، شرمیلی، بونگا بخیل اور باقی سبھی، اپنے اپنے مقام پر، عزت افزائی میں پیچھے نہیں رہے۔

کہا جاتا ہے کہ فاروق قیصر کی انکل سرگم سے دوستی کا آغاز، این سی اے، سے ان کے فارغ التحصیل ہونے کے کافی عرصہ بعد ہوا مگر یہ دوستی اس قدر گہری اور پائدار ہوئی کہ ہر شے پر چھا گئی۔ شاید یہ اسی دوستی کا ہونا طے تھا کہ فاروق قیصر تعلیم مکمل کر کے، اپنے سینیئر، دوستوں اور بہی خواہوں کے روکنے کے باوجود اپنے پیدائشی شہر ( لاہور ) میں نہ رکے۔ انھیں اسلام آباد کے غیر تخلیقی اور غیر ثقافتی ہونے کے جو دلائل دیے گئے تھے، وہ بھی ان کے ارادوں کو کمزور نہ کرسکے اور یہ سب، اب ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے فاروق قیصر اور انکل سرگم کی رفاقت کا پیش خیمہ تھا۔

یہی نہیں اس راہ میں سرکاری اور پرائیویٹ نوکریاں بھی ان کے راستے میں حائل نہ ہو سکیں اور بالآخر، ان سب کو چھوڑ کر ( اور رومانیہ سے تربیت لے کر ) ، فاروق قیصر نے انکل سرگم سے مل کر، شہرت، کامیابی اور رفاقت کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ یہ وہ تاریخ ہے جو ننھے منے بچوں کو ہنسا نے سے شروع ہو کر، بڑوں بڑوں کو گدگدانے اور آئنہ دکھانے پر تمام ہوئی۔ مقبولیت کا اتنا طویل دور، کم فنکاروں اور کرداروں کے مقدر میں آیا ہوگا جتنا فاروق قیصر اور انکل سرگم کو نصیب ہوا۔

یہاں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ انھوں نے ٹیلی وژن دیکھنے والوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کا حق ایسے ہی ادا کیا، جیسا کہ حق بنتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ، ان کی مسلسل شاندار کارکردگی نے بتدریج اسلام آباد کو تخلیق اور ثقافت کی نئی شناخت بھی عطا کی۔ ان کا پیش کردہ طنزومزاح، پورے ملک میں زبان زد عام ہوا۔ خصوصاً وہ ادوار جہاں اظہار سب کے لئے سہل نہ تھا، یہ بیڑہ انھوں نے اٹھایا۔

انکل سرگم کے خالق، فاروق قیصر کی شخصیت کا اگر علیحدہ جائزہ لیا جائے، تو ان کی ہمہ جہت خصوصیات ہمیں فوراً ہی قائل کر لیتی ہیں کہ وہ بلاشبہ ایک با کمال فنکار تھے۔ تحریر کے دونوں انداز ( نثر اور شاعری ) پر انھیں ملکہ حاصل تھا۔ ( ہر چند کہ ان کے دوسرے گن، ان کی شاعری پر حاوی ہو گئے ) ۔ آرٹسٹ ( اور کارٹونسٹ ) تو وہ تھے ہی ( لاجواب ) ۔ ان کی طرز تحریر ( یعنی لکھائی ) دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے انھوں نے خطاطی میں ہی سند لی ہو۔ پھر انکل سرگم کے لئے صدا کاری اور پپٹ کا استعمال ان کا، سب سے نمایاں ہنر تھا۔

تحریر کے اختتام تک آنے کے باوجود میں یہ فیصلہ کرنے سے عاجز ہوں کہ میں فاروق قیصر اور انکل سرگم میں سے کس کو زیادہ جانتا تھا۔ ہاں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ مجھے دونوں کے بچھڑنے کا یکساں دکھ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words