گفتگو ہائے تنہائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تنہائی ایک ایسا موضوع ہے جو نہ صرف شاعروں، دانشوروں، اور ادیبوں میں مقبول ہے بلکہ اس کے اثرات عام لوگوں کی زندگیوں میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تنہائی جہاں انسان کو اس کی ذات کی اصل سے متعارف کرواتی ہے وہاں اس کو کائنات کے رموز سمجھنے میں بھی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ ایک ایسا انسان جو ہر وقت لوگوں میں مصروف رہتا ہے ’ہر وقت ہجوم میں گم رہتا ہے ایسا شخص کیوں کر اپنی ذات سے واقف ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسا شخص جو کسی آدم بیزار عالم یا کسی مابعد نوآبادیاتی صوفی کی طرح ”گوشہ نشینی“ اختیار کرے ایسا شخص بھی کیوں کر خدا شناس ہو سکتا ہے۔

انسانی تاریخ میں بڑے بڑے فلسفیوں نے سماجی و معاشرتی برائیوں کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو معاشرے سے کٹنے کا درس دیا پھر وہ چاہے گوتم بدھ کی تعلیمات ہوں جو روح کی نشوونما اور معاشرتی غلامی سے آزادی کے کیے ”نروانا“ کا اصول دیتا ہے۔ یا پھر لاو تزو کا ”Taoism“ جو انسانوں کو معاشرے سے کاٹ کر ایک درخت کی طرح پروان چڑھنے کا درس دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارے نوآبادیاتی دور سے قبل کے صوفیاء اکرام زیادہ بہتر تھے جو نہ صرف تنہائی میں قرب الہی کے حصول سے روح کی نشوونما کرتے تھے بلکہ اپنی تنہائی کو معاشرے سے جوڑ کر انسانوں کو امن اور بھائی چارے کی تعلیمات بھی دیتے تھے۔

تنہائی کی بات ہو اور مولائے کائنات امام علی کی بات نہ ہو تو گفتگو ادھوری سی لگتی ہے۔ امام علی نے بھی تنہائی کو پچیس سال برداشت کیا یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص ”نہج البلاغہ“ کا مطالعہ کرتا ہے تو حیرت کی بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے۔ اس سے بہتر تنہائی کا شہکار کوئی اور کتاب نہیں ہو سکتی۔ مولا علی فرماتے ہیں، ”برے دوستوں سے تنہائی بہتر ہے۔“ یہی وجہ ہے کہ حضرت علی بھی اپنی زندگی میں تنہا ہوئے اور ہر وہ شخص جو سچ کی بات کرتا ہے وہ رفتہ رفتہ لوگوں سے دور ہو جاتا ہے کیونکہ لوگ اسی کو پسند کرتے ہیں جو ان کی روش اختیار کرتا ہے۔

اسی طرح بہت سے لوگ ہجوم میں بھی تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ ویسے دیکھا جائے تو ہر شخص کہی نہ کہی تنہا ضرور ہے۔ مگر کون ہے جو تنہا نہیں؟ ڈاکٹر علی شریعتی اپنی کتاب ”علی اور تنہائی“ میں فرماتے ہیں، ”شاید وہ تنہا نہیں جو ہر رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ جو سب کے ساتھ ایک جیسا ہے۔ ہاں شاید ایسا شخص تنہا نہیں ہے۔“

یہاں بہتر ہے اگر ہم تنہائی کو دو قسموں میں تقسیم کر لیں۔ ایک وہ تنہائی ہے جو ہر شخص چاہتا ہے۔ اگر وہ تخلیق کار ہے تو وہ خلقت سے کچھ وقت دوری اختیار کرتا ہے تاکہ بہتر طریقے سے چیزوں پے غور و فکر کر سکے۔ ایسے تنہائی کو میں ”Desired Solitude“ کا نام دیتا ہوں۔ اور ایک تنہائی انسانوں پے جبری طور پر مسلط کی جاتی ہے۔ ایسی تنہائی کو میں ”Imposed Solitude“ کا نام دیتا ہوں۔ پہلی تنہائی انسانوں کی فطری ضرورت ہے جبکہ دوسری تنہائی کا مقصد انسانیت کی تقسیم ہے۔ جو طاغوتی طاقتوں کی سازش ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کہی آزادی کی تحریک چلتی ہے تو پہلے بڑے بڑے راہنماؤں کو جلا وطن کر کے تنہا کیا جاتا ہے۔ اسی جگہ پے اقبال نے کہا تھا:

اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو

اس Covid ’19 میں بھی لوگوں کو ایک تنہائی کا سامنا ہے مگر یہ تنہائی مسلط کر دی ہے۔ جب بھی انسان کو اس کی فطرت سے کاٹا جائے گا معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو جائے گا۔ انسان کا مفہوم اجتماع میں ہے۔ قرآن پاک میں بھی لفظ ”الناس“ استعمال ہوا ہے اور قرآن جگہ جگہ انسانوں کے اجتماع سے مخاطب ہوتا ہے۔ سو انسان کی زندگی کے دو پہلو ہونے چاہیے ایک پہلو تنہائی کا جس میں وہ اپنی تخلیقی پہلووں کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرے اور ساتھ ساتھ قرب الہی حاصل کرے اور دوسرا پہلو اس معاشرے کی عملی طور پر سماجی و سیاسی اصلاح۔ ان دونوں پہلوؤں میں جب کسی انسان میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے تو وہ صحیح معنوں میں بلندیوں کا سفر طے کرتا ہے۔

Latest posts by میر ہادی عباس (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

میر ہادی عباس کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments