ہمارا تشخص کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


معاشرہ انسانوں یا افراد کا ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جن کے مفادات مشترکہ ہوتے ہیں۔ انسانوں کے اچھے یا برے رویے ہی معاشرے کو اچھا یا برا بناتے ہیں۔

ہم تاریخ کے اوراق پہ نظر ڈالیں تو ہمیں کتنے ہی معاشرے تباہ و برباد ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ وہ معاشرے تھے جو اجتماعی طور پر بدعمل، بد اخلاق اور بے راہ روی کا شکار تھے۔ جس طرح قرآن کریم میں بہت سی قوموں کی تباہی کا ذکر آتا ہے جو اخلاقی طور پر پستیوں میں گر گئی تھیں۔ سورۃ الحج ( 45، 46 ) میں ذکر آتا ہے کہ! ”پس کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں، ہم نے انہیں تباہ کر دیا اور کتنے ہی مضبوط محل ویران پڑے ہیں“ ۔

کوئی بھی انسانی معاشرہ اس وقت تک ایک اچھا معاشرہ کہلانے کا حقدار نہیں ہے جب تک اس معاشرے کے تمام انسان برابر نہ ہوں اور جب تک ایک کمزور انسان اور طاقتور انسان کے لیے قانون ایک نہ ہو۔

دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہمارا پیارا پاکستان ایک اسلامی معاشرے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ایسا اسلامی معاشرہ جس میں حقوق العباد کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ حقوق العباد ایک اچھے معاشرے کا بنیادی قانون ہوتا ہے۔ ایسا قانون جس کی چھتری تلے رہ کر ہی افراد باعمل، با اخلاق ہوتے ہیں اور بے راہ روی سے کوسوں دور۔ دوسری جانب اگر ہم خود پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک سخت گیر اور محبت سے خالی معاشرے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں اور ہمارے رویے اس بات کے غماز ہیں ہم صرف اپنی ذات کو ہی معاشرہ سمجھتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جس میں سیاست ہی سیاست اور افراتفری کی نہ

سمجھ آنے والی دوڑ ہے۔

کہنے کو تو ہم اس وقت ایک ماڈرن معاشرے کے باسی ہیں مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہم انیسویں صدی کے آخر میں ( 6 جنوری 1883 ) کو لبنان کے شہر بشاری میں پیدا ہونے والے ایک انسان کی سوچ سے بہت پیچھے ہیں جس کا نام خلیل جبران ہے۔ خلیل جبران کی سوچ آج کے حالات کا پیش خیمہ لگتا ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد کے حالات پر نظر دوڑائیں تو ہمیں سب وہی محسوس ہوگا جو خلیل جبران نے آج سے صدیوں پہلے کہا تھا!

”افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو
جس کا فلسفی مداری ہو
جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو
افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرے
اور رخصت گالم گلوچ سے
اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے ”

اب اگر دیکھا جائے تو خلیل جبران نے صحیح ہی تو کہا ہے کہ ہمارے رہبر چالاک لومڑ ہیں۔ وہ چالاک لومڑ جو صرف اپنے فائدے کے لیے ہی سوچتا ہے۔ اگر ہمارے رہبر چالاک نا ہوتے تو ہماری آزادی کے تہتر سالوں میں ہمارا ملک دنیاوی معاشرے کے لیے ایک مثال بن چکا ہوتا اور اس کا فائدہ ہوتا کہ نا ہم مداری ہوتے اور نا ہی پیوند کار اور نقال ہوتے۔ ہم ہر کام معیاری کرتے اور نئے حکمران کا استقبال بجائے ڈھول تاشے کے اس کی معیاری شخصیت سے کرتے۔ اور وہ معیاری شخصیت ایسی ہوتی جس کو رہبر بننے کے لیے نا کسی سہولت کار کی ضرورت ہوتی اور نا ہی وہ گالم گلوچ سے رخصت ہوتا۔

اب اگر جبران کی فلاسفی کو آگے بڑھائیں تو اس معاشرے میں رہتے ہوئے ایک شرمندگی سی محسوس ہوتی ہے اور بندہ سوچنے پہ مجبور کہ کیا یہ سب ہمارے لیے ہی کہا گیا تھا!

”افسوس اس قوم پر جو یقین سے بھری لیکن مذہب سے خالی ہو۔
افسوس اس قوم پر جو ایسا کپڑا پہنے جسے اس نے خود بنا نہ ہو۔
جو ایسی روٹی کھائے جسے اس نے اگایا نہ ہو۔
افسوس اس قوم پر جو دادا گیر کو ہیرو سمجھے
اور جو چمکیلے فاتح کو سخی گردانے۔
افسوس اس قوم پر جو خواب میں کسی جذبے سے نفرت کرے
لیکن جاگتے میں اسی کی پرستش کرے۔
افسوس اس قوم پر جو اپنی آواز بلند کرے
صرف اس وقت جب وہ جنازے کے ہم قدم ہو
ڈینگ صرف اپنے کھنڈروں میں مارے
اور اس وقت تک بغاوت نہ کرے
جب تک اس کی گردن مقتل کے تختے پر نہ ہو ”

اس میں کیا ہی غلط ہے کہ ہم اپنے دین کے لیے کھوکھلے نعرے مارتے ہیں۔ اگر ہمارے نعرے کھوکھلے نا ہوتے تو آج فلسطین میں عبادت کے دوران مسلمانوں پر تشدد نا ہو رہا ہوتا۔ اگر ہمارے نعرے کھوکھلے نا ہوتے تو مسلمانوں کے قبلہ اول کو آگ لگا کر یہودی ناچ نا رہے ہوتے۔ اگر ہمارے نعرے کھوکھلے نا ہوتے تو راوی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے چین ہی چین لکھ رہا ہوتا۔ اگر ہماری پہچان کھوکھلی نا ہوتی تو ہم اپنے ہاتھ سے اگائے گئے اناج پہ شاکر ہوتے اور کسی دادا گیر کو اپنے اوپر مسلط نا ہونے دیتے اور دنیاوی چمک دمک کے پیچھے نا بھاگتے۔

ہماری تو حالت اب یہ ہو گئی ہے کہ ہم خود سے خوابی باتیں کر کے ایک جذبے سے نفرت تو کرتے ہیں مگر ہوش آنے پر اسی نفرت زدہ جذبے کے حق میں نعرے مارتے ہیں۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ ہم اس وقت آواز بلند کرتے ہیں جب ہمارا سب کچھ لٹ چکا ہوتا ہے، ہم اس وقت آواز بلند کرتے ہیں جب ہماری ذات کو اذیت مل رہی ہوتی ہے۔ مگر ایسی آواز بلند کرنے کا کیا فائدہ جس کی وجہ سے معاشرہ اپنی تشخص کھو دے۔ ایسی آواز بلند کرنے کا کیا فائدہ جب ہم اپنے زور بازو پہ نہیں دوسروں کی امداد پہ یقین رکھیں۔ ایسی سوچ رکھنے والے معاشرے دور بہت دور پاتال میں نظر آتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments