پیپلزپارٹی پنجاب کو پیپلز پارٹی سندھ کا سہارا درکار؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب تک کوئی پارٹی عام آدمی کیلئے باعثِ کشش نہیں ہوتی یا اس کی قیادت عوام کے دلوں میں اپنا مقام اور اعتبار نہیں بٹھا لیتی تب تک اس کا عروج کی شاہراہ پر گامزن ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جدید دنیا میں جو جدتوں کے تیز ٹریک پر چل کر گلوبل ویلج بن چکی ہے، اِس پر کوئی سیاسی پارٹی اپنے اثرات مرتب کیسے کرے؟ اس ضمن میں کثیر الجہتی حربوں اور سلیقوں کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ علمِ سیاسیات وہ سائنس ہے جس کا سماجیات اور نفسیات کے علوم کے سنگ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دوسری بات یہ کہ، آزمودہ پارٹیوں اور نوخیز سیاسی اسٹرکچر کی عوام کے ہاں الگ الگ کسوٹی ہے، چیلنجز دونوں کیلئے ہیں، تجربہ کار کےلئے ماضی اور اس کی اقتصادی اور سیاسی و اصلاحاتی امور کی تاریخ اس کے لئےعمل انگیز ہوتی ہے تو کم سن سیاسی پارٹی کسی ردِعمل، مخصوص سماجی یا مذہبی پس منظر، اسٹیبلشمنٹ کی دلچسپی یا خاص تحریک کے بل بوتے پر اپنے آپ کو منواتی ہے۔ مولانا مودودی نے کہیں لکھا تھا کسی مردہ تحریک کو زندہ کرنے سے آسان ہے کسی نئی تحریک کو جنم دے لو،سو اس سے قبل کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں واقعی قصۂ پارینہ بن جائے اس کو سمجھنا ہوگا۔ اور سمجھتے وقت اس بات کو بھی سمجھیں کہ تنظیمِ نو والے عزمِ نو کا دامن تھام کر چلیں، یہ نہ ہو کہ فیصد مقدار کے شماریاتی جائزے بروئے کار لاتے پھریں ، گر کچھ مدنظر رکھنا ہے تو کوالٹی کو یا پھر بھٹو کی تحریک کو۔

اہلِ نظر و اہلِ سیاست اس بات سے بخوبی آشنا ہیں، پاکستان کی کوئی بڑی سیاسی پارٹی اگر پلکوں سے ’’درِ یار‘‘ پر دستک نہ دے تو وہ سرا سر خسارے میں رہتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے ایک سابق صوبائی وزیر (پنجاب) اور سابق جنرل سیکرٹری چوہدری غلام عباس آف پسرور (سیالکوٹ) نے بتایا کہ 1993 کے الیکشن کے بعد جب پیپلز پارٹی اور جونیجو لیگ نے مشترکہ سرکار بنائی تو جونیجو لیگ / حامد ناصر چٹھہ گروپ کے کم و بیش 17 ممبران پنجاب اسمبلی تھے۔ منظور وٹو کو وزیراعلیٰ کا منصب ملا تھا مگر بعد ازاں مشیر اعلیٰ پنجاب فیصل صالح حیات و دیگر مسائل کے سبب جب جونیجو لیگ کے بجائے بی بی نے پیپلزپارٹی کا وزیراعلیٰ لانا چاہا تو ’’اوپر‘‘ والے نہیں مانے۔ بقول اس وقت کے سیکرٹری جنرل غلام عباس، اپنا وزیراعلیٰ لانے کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہو گیا، میں گھر چلا گیا، ذرا آنکھ لگی ہی تھی کہ سحر کے وقت بی بی کا فون آ گیا اور حکم تھا فوری واپس آئیے۔ میں حیران و پریشان واپس پہنچا تو بی بی بولیں’’ اوپر سے آرڈر ہے پنجاب لینا ہے تو مرکز چھوڑ دیں‘‘! بحث تمحیص کے بعد وزیراعلیٰ وٹو بدلنے کا فیصلہ ہوا، جونیجو لیگ کا اقتدار نہیں۔ اور بقول غلام عباس جونیجو لیگ کے عارف نکئی میری تجویز تھی۔

1988 سے 2008 تک پیپلزپارٹی کے پاس پورا موقع تھا کہ وہ پنجاب میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس چھین لیتی۔ 1988 میں فاروق لغاری کو میاں نواز شریف کے مقابلے پر وزارتِ اعلیٰ کیلئے کھڑا کیا گیا تو پیپلزپارٹی اور نوازشریف کے ووٹ کم و بیش برابر تھے، نوازشریف نے آزاد و دیگر ساتھ ملا لئے اور فاروق لغاری ایک ووٹ کا اضافہ نہ کر پانے، نہ پنجاب اسمبلی میں بیٹھے، ضمنی الیکشن لڑ کر دوبارہ وفاق میں پہنچے اور وفاقی وزیر بن گئے۔ اتنے بڑے لیڈر تھے تو رُکے یا روکے کیوں نہ گئے پنجاب میں؟ 2008 میں قاف لیگ عرف مشرف لیگ کا راستہ روکنے کیلئے پیپلزپارٹی نے شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ پر سمجھوتہ کیا اور 7 وزراء وہ دئیے جو قائدانہ صلاحیتوں سے محروم ہی نہیں بعدازاں ہومیوپیتھک سیاست دان یا بے وفا بھی نکلے۔ سوائے اشرف سوہنا (آج کل پی ٹی آئی) کسی کی سیاسی کارکردگی قابلِ تحسین تھی نہ سیاسی و تنظیمی سرگرمی۔ اپر اور جنوبی پنجاب سے ایک وزیر بھی نہ تھا، وجہ جو بھی سمجھیں مگر 2013 کےالیکشن میں ضمانتیں بھی نہ بچاسکے، حال ہی میں پنجاب میں چیف آرگنائزر برائے تنظیم سازی کا عہدہ سنبھالنے والے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ان وزراء کی تنظیمی کارکردگی کو دیکھیں کہ وہ کس کھیت کی مولی تھے، کسی کی غمی میں نہ خوشی میں، نہ فہم میں اور نہ فراست میں۔ راجہ جی کیا اب بھی یہی چلے گا؟

سندھ کے گزشتہ دو برسوں کے دوروں میں عمرکوٹ و اسلام کوٹ و میر پور خاص اور حیدرآباد و جام شورو و ٹنڈو جام جیسے جڑواں شہروں سے سکھر و لاڑکانہ اور شکار پور کے ترقیاتی و تعمیراتی اور سیاسی و تنظیمی رنگ بہت دلکش دیکھے حتیٰ کہ تھرپارکر ضلع دیکھ کر حیران رہ گیا حالانکہ سندھ میں وڈیرے کے مقابلہ پر دوسری اینٹی پیپلز پارٹی کا بھی وڈیرا ہوتا ہے بشمول’’دوستوں‘‘ نظر کرم اور نذر کرم کے، بدین کی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی مثال سے خواص و عوام آشنا ہیں۔پنجاب میں قمر زمان کائرہ اور چوہدری منظور نے چیلنج ضرور لیا، محنت بھی کی مگر سولو کھیلے، کوئی ٹیم بن سکی نہ میڈیا کیلئے جاذبِ نظر ہوئے، سنٹرل پنجاب کے باسی سابق صدور اور کئی جنرل سیکرٹری یعنی منظور وٹو، رانا آفتاب، راجہ ریاض، امتیاز صفدر، ، ندیم چن اور غلام عباس وغیرہ ویسے ہی چھوڑ گئے، کائرہ اور چوہدری منظور کم از کم ٹِکے تو رہے! فیصل صالح حیات گیلی جگہ پر پاؤں رکھنے کو تیار نہیں۔ جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود رحیم یار خان سے شروع ہوتے ہیں وہیں پر ختم، مگر دوسیٹیں ضرور نکال لیتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی ملتان اور بیٹوں سے نکلنے سے قاصر ہیں۔ نوابزادہ افتخار کو جاگنا ہوگا۔ کم از کم جنوبی پنجاب کی حد تک غمی و خوشی میں سعید غنی و خورشید شاہ، نوید قمر اور ناصر شاہ کو آتے جاتے رہنا چاہئے کارکنان کو تقویت ملے گی، اسلام آباد میں جلوہ گر رہنے والے معروف سندھی سیاست دانوں کو لاہور میں بھی رونق افروز ہونا چاہئے پیپلزپارٹی بہرحال وفاق کی علامت ہے۔ راجہ پرویز اشرف بھی لاہور میں وقت دیا کریں، ایک آشیانہ یہاں بھی ضروری ہے صنم۔ گوجرانوالہ و سرگودھا و منڈی بہاؤالدین اور اوکاڑہ و ساہیوال سے لوگ واپس آنے کے درپے ہیں راجہ صاحب ان سے خصوصی ربط رکھیں۔ جی! بلاول کا میڈیا سیل بھی نابالغ ہے۔ بہرحال سندھ کے اکابرین پنجاب کے سنگ سنگ کے پی اور آزادکشمیر والوں کو جاگنے اور جگانے کے ہنر بتائیں۔ ورنہ ٹائیں ٹائیں فش ہی رہے گا۔

نیم مردہ تنظیم میں جان ڈالنا مشکل سہی ناممکن نہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *