چلتی کا نام گاڑی
آج کا موجودہ جدید اور سائنسی دور بھی کچھ لوگوں کی سادگی اور بھولپن کو ختم نہیں کر سکا۔ اس سائنسی ناکامی کی بہت سی توجیہات بیان کی جا سکتی ہیں لیکن مدعا یہ نہیں ہے ورنہ بات کہیں سے نکل کر جانے کہاں چلی جائے گی اور اصل بات اپنی تاب کھو دے گی۔ ایسے ہی ایک معصوم اور آزاد منش آدمی سے ملاقات ہونی تھی سو یہ سب ایسے ہی ہوا جیسا کہ منصوبہ ساز نے طے کیا تھا۔
شاید چھ سال قبل کی بات ہے کہ ایک معتبر شخصیت کے آخری سفر کا مرحلہ درپیش تھا۔ دیہاتی علاقہ ہونے کے باعث سب انتظامات کھلی جگہوں پہ تھے اور ایک ہجوم تھا لوگوں کا۔ گاڑی کی پارکنگ جیسے مسائل وہاں بھی دیکھنے کو ملے۔ شومئی قسمت کہ ایک درخت کے نیچے جگہ مل گئی تو دو دن وہاں سے گاڑی ہی نہ ہٹائی کہ ایسی مثالی جگہ پھر نہ ملے گی۔ یہ الگ بات کہ ہر کوئی گاڑی چھاوں میں کھڑی کرنا چاہتا لیکن درخت کوئی نہیں لگانا چاہتا۔
انہی معاملات میں آخری دن ہمیں حکم ملا کہ ان صاحب کو ذرا ان کے گھر تک چھوڑ آئیں۔ گاڑی کھلی جگہ پہ کھڑی ہونے کے باعث مٹی سے اٹی ہوئی تھی۔ ابھی صفائی کا سوچ ہی رہا تھا کہ موصوف نے منع کر دیا کہ کون سی ہم نے خریدنی ہے ’بس دس منٹ کا سفر ہے‘ ایسے ہی چھوڑ آئیں۔ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ کے احساس ہوا کہ باقی تو ٹھیک ہے لیکن سامنے کا شیشہ بہرحال صاف کرنا پڑے گا۔ اسی اثناء میں تمام حضرات بیٹھ چکے تھے۔
ونڈ سکرین کی صفائی کے لئے وائپر اور دیگر لوازمات چلائے تو ان صاحب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ گاڑی میں ایسا بھی کوئی انتظام ہو سکتا۔ اس واقعے نے دو بہترین باتیں سکھائیں کہ جن پہ عمل کر کے زندگی میں بہت ساری آسانیاں حاصل کی جا سکتی ہیں :
اول: ایسا کبھی کبھار ہمارے ساتھ بھی ہوتا ہے کہ جب زمانے کی روش اور روزمرہ کی دوڑتی بھاگتی زندگی میں ہم ہر طرف سے پریشانی ’دباو اور مایوسی کے گردوغبار سے اٹ جاتے ہیں۔ اس وقت اپنی ظاہری حالت کو محض دکھاوے کے لئے بہتر کرنے سے بہتر ہے کہ ایک لمحہ رک کر اپنے مقصد اور منزل کی صرف‘ ونڈ سکرین ’صاف کر لی جائے اور منزل کی جانب سفر شروع کر دیا جائے اور جہاں کہیں مناسب پڑاو اور مطلوبہ سہولیات دستیاب ہو جائیں وہیں پہ باقی صاف ستھرائی کا اہتمام کر لیا جائے۔
دوم: وقتی طور کی ایسی فی الفور ’صفائی‘ کے لئے ہمیں اپنے اندر ایسا نظام رکھنا ہو گا کہ جب کبھی ایسی گرد میں اٹ جائیں تو فوری صفائی سے اپنی منزل کا راستہ نظر آنے لگے۔ نا کہ ہم مایوس اور تھکے ہارے شخص کی طرح سر نہوڑائے فقط لایعنی سوچوں میں غلطاں رہیں۔ اپنے مقصد اور منزل کا راستہ نظر آ جائے تو اپنی پوری دلجمعی ’بہترین ممکنہ منصوبی بندی اور محنت کے ساتھ اس کی طرف چل پڑیں اور صبر سے انتظار کریں کہ آپ کی محنت اور کاوشوں کا ثمر ملنا شروع ہو جائے۔
بابا جی اشفاق صاحب فرماتے ہیں کہ زندگی میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ محض ایک واقعہ ہی تو ہے اسے پوری زندگی پہ محیط نہیں کر لینا چاہیے۔ ایسا واقعہ نہ صرف آپ کے زخم مندمل ہونے سے روکے گا بلکہ پاؤں کی بیڑیاں بن کر آگے بڑھنے سے بھی روکتا رہے گا۔


