لسانیات کا ارتقا اورتہذیبی و جغرافیائی عوامل


پاکستان میں دائیں بازو کے اہل دانش کے ایک حصے کا موقف ہے، کہ بہتر فہم القراٰن پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے معاشرے کی بنیادی زبان عربی قرار دے دیں بقول ان کے یہی تجویز آغا خان بھی پیش کر چکے ہیں لیکن مجھے کچھ دلائل اور حقائق کی وجہ سے ان اصحاب کی اس تجویز سے اتفاق نہیں، تو اپنا نقطہ نظر قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ جن عرب اقوام کی مادری زبان ہی عربی ہے تو ان برکات جن کا ذکر فرمایا جاتا ہے، کی جھلک ان کے کردار میں تو دکھائی دینی چاہیے تھی؟

جبکہ عملی طور پر بحیثیت مجموعی ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات رب العالمین ہے اب یہ تو ممکن نہیں کہ ساری دنیا کے انسانی ورثہ یعنی تمام زبانوں کو ختم کرتے ہوئے ”عربی“ رائج کر دی جائے۔ علم لسانیات کے مطابق کوئی زبان ماہرین، اساتذہ، یا علمی خواص تشکیل نہیں دیتے، بلکہ کوئی بھی زبان اپنے ہزاروں سال کے ارتقاء کے نتیجے میں یہ شعبہ جات پیدا کرتی ہے۔ زبان کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ اس کی تہوں میں اس کو بولنے والوں کی پوری تاریخ موجود ہوتی ہے۔

ہماری علم ناشناسی اور بے قدری کی وجہ سے دنیا کی کئی زبانیں اپنا وجود کھو بیٹھی ہیں، جن میں مختلف علاقائی چھوٹی چھوٹی زبانیں بھی شامل ہیں اور المیہ یہ کہ آج ان پر تحقیق تک کے لیے کسی قسم کا مواد موجود نہیں۔ ہمارے ہاں نیلم ویلی کے علاقے ”کنڈل شاہی“ کی قدیم بے نام زبان اس کا ثبوت ہے جس کا اصل نام تک مٹ چکا اب اس زبان کے چند الفاظ باقی رہ گئے ہیں، وہ بھی گزرتے ماہ و سال کے ساتھ معدوم ہو جائیں گے۔ اسی طرح بہت سی چھوٹی زبانیں یا تو مکمل طور پر معدوم ہو چکی ہیں یا معدومی کے دہانے پر ہیں۔

آبادی کے کسی گروہ کا نسلی پس منظر معلوم کرنا آسان نہیں ہوتا، کہ جس جگہ وہ گروہ آباد ہے، شروع سے یہی اس کا مسکن تھا، یا وہ کہیں اور سے نقل مکانی کر کے وہاں آیا ہے، تاہم لسانیاتی اشاروں کی بنیاد پر ان امور کا تعین ممکن ہے۔ اگر ہم شمالی علاقہ جات و کوہستان کے وسیع علاقوں کا لسانی جائزہ لیں تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گلگت اور اس کے مضافات میں چار زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں شنا زبان سرفہرست ہے جس کا تعلق زبانوں کے دردی گروپ سے ہے، شنا نہ صرف گلگت میں بولی جاتی ہے، بلکہ وسیع و عریض علاقے میں یہ زبان بولی جاتی ہے، گلگت شنا زبان بولنے والوں کا مرکزی علاقہ تصور ہوتا ہے، دوسرے نمبر پر بروشکی زبان ہے، جو ہنزہ اور یاسین میں بولی جاتی ہے، تیسرے نمبر پر ”ڈوم خی“ ہے جو ہنزہ اور نگر کے اندرون علاقوں میں لوہار اور سازندے بولتے ہیں ان کے بارے میں روایت ہے کہ یہ ماضی میں جنوب سے تارک وطن ہو کر آئے ہیں، چوتھے نمبر پر ”وخی“ زبان ہے جو ہنزہ بالا کے علاقوں میں بولی جاتی ہے، یہ مشرقی ایران پامیر کی زبان ہے۔

مشہور عالمی ماہر لسانیات ”مارگن سٹیرن“ نے شواہد کے ذریعے واضح کیا ہے کہ شینا اور دردی گروہ کی دیگر زبانیں، ہند آریائی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، چونکہ جغرافیائی طور پر دردی زبانوں کا علاقہ بہت دور دراز اور الگ تھلگ ہے اس لیے جدید ہند آریائی زبانوں کی نسبت ان کا ارتقاء مختلف طریقے سے ہوا ہے، اور ان میں قدیم ہند آریائی کی بہت سی خصوصیات ابھی تک موجود ہیں، لیکن یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ دردستان کی شینا سے بھی قدیم زبان کو ”پشاچ بھاشا“ کہا جاتا تھا اور جیسا کہ ہندو ویدوں کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آرینز انڈس سویلائزیشن کے قدیمی باشندوں کو پشاچ کے لقب یا طعنہ سے، ذکر کیا کرتے، دور قدیم بلکہ 715 ع میں کشمیر کے راجہ للتا دتیہ کے وقت میں تبت، لداخ، بلتستان دردستان بھی کشمیر میں شامل تھے۔

دردستان کے راجہ اچل منگل نے کشمیر کے راجہ آننت دیوا کے عہد ( 1063۔ 1028 عہد) میں سات اور پہاڑی چھوٹی ریاستوں کے راجاؤں کے ساتھ مل کر راجہ کشمیر پر حملہ کیا پہاڑی راجاؤں کی مشترکہ افواج کو شکست ہوئی اور دردستان کا راجہ اچل منگل مارا گیا اور دردستان پر بدستور کشمیری حکومت قائم رہی، اننت دیوا کی رانی شریمتی جی بہت علم دوست تھی، اس نے پشاچ بھاشا ( دردستان کی قدیم زبان ) میں لکھی ہوئی کتاب ”برتھ کتھا سرا“ کا سنسکرت میں ترجمہ کروایا۔

پروفیسر کارل جٹمار کے مطابق شروع شروع میں شینا ایک زبردست پھیلاو کے عمل سے گزری، غالباً یہی زبان اس دردی سلطنت میں استعمال ہوتی تھی جس کا ذکر تواریخ کشمیر میں ملتا ہے 500 ع اور 1000 ع کے درمیانی عرصے میں گلگت کا علاقہ اس سلطنت کے زیر نگیں آ چکا تھا، اس دوران بروشکی بولنے والے یا تو حملہ آوروں میں ضم ہو گئے، یا ہنزہ اور یاسین کی وادیوں کی طرف بھاگ گئے۔ اسی طرح بلتستان کی زبان کی اصل تبتی ہے اور یہ تبتی زبان کی بہت سی بولیوں میں سے ایک بولی ہے، بلتستان میں اشاعت اسلام کے بعد بلتی زبان کا تعلق تبتی زبان سے منقطع ہونے کے بعد رسم الخط تبتی سے فارسی میں منتقل ہوا، لیکن بلتستان کی جغرافیائی تنہائی کی وجہ سے اتنے عوامل کے باوجود آج بھی تبت کی تحریری زبان کے تقریباً ستر فی صد الفاظ بلتی زبان سے مشترک ہیں، بلتستان میں اشاعت اسلام ایرانیوں کے ہاتھوں ہوئی اس لیے بلتستان کے اردگرد کے علاقوں میں فارسی رسم الخط رائج ہو گیا، لیکن اس رسم الخط کا دامن بلتی میں موجود آوازوں کو ضبط تحریر میں لانے کی وسعت نہیں رکھتا، جس کی وجہ سے فارسی رسم الخط میں لکھی ہوئی بلتی عبارت صحیح طور پر نہیں پڑھی جا سکتی۔

اردو، سندھی، پشتو، پنجابی اور کشمیری سب کے لیے فارسی رسم الخط اپنایا گیا، لیکن ہر ایک نے حرف پر نقطے اور علامات کا اضافہ کر کے اپنی ضرورتوں کے مطابق بنا لیا، لیکن بنیادی رسم الخط کی تبدیلی سے ان زبانوں کی علمی اور تحریری وسعت رفتہ رفتہ معدوم ہو گئی، اور تحریری وسعت کے بغیر زبان، بولی بن جاتی ہے۔ کسی زبان کی ترقی، بقاء یا معدومیت کا انحصار بہت حد تک جغرافیہ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہوتا ہے جب کوئی قوم بڑے پیمانے پر کسی علاقے سے نقل مکانی کرتی ہے، تو علاقہ کے خد و خال کے ساتھ ساتھ ان کی زبان میں بھی تبدیلیاں آنے لگتی ہیں اور کبھی ان کی اصل زبان ان میں مکمل معدوم ہو کر بالکل نئی شکل اختیار کر لیتی ہے، جس کی مثال کشمیر کے مختلف اور پونچھ کے مختلف علاقوں میں بالخصوص آباد سدو زئی قوم ہے۔

افغانستان اور پاکستانی صوبہ کے پی کے میں ان کی زبان ایک مخصوص لہجے کی پشتو یا کہیں کہیں کم تعداد میں ”دری“ ہے لیکن اس قبیلے کا جو حصہ کسی وجہ سے کشمیر میں آ کر آباد ہو گیا، آج ان کی زبان ان کی اصل زبان سے بالکل مختلف ایک لوکل زبان ہے۔ اس قبیلے کو یہ خود ”:سدھن“ کہتے ہیں جبکہ پونچھ علاقے کے ہندو ان کو اسی علاقے کی ایک مقامی قدیم قوم کہتے ہیں، اور انھیں ”سو دھن“ کے نام سے پکارتے ہیں۔ اسی طرح ہزارہ کے مشرقی اور پنجاب کے شمال مشرقی علاقوں میں آباد عباسی قبائل ہیں جن کے اپنے بیان کے مطابق وہ بنو عباس سے تعلق رکھنے کی وجہ سے عباسی کہلاتے ہیں، لیکن ان میں بھی ان کی بیان کردہ بنیادی ثقافت اور زبان یعنی عرب اور عربی کا کوئی شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔

آریاؤں کی علمی اور مذہبی زبان سنسکرت کو کبھی عوام کی زبان بننے نہیں دیا گیا کیونکہ اس طرح اس سماج کے علم اور مذہب کے اجارہ دار براہمن کی علمی، مذہبی اور سماجی برتری کو زک پہنچنے کا خطرہ تھا۔ موجودہ پاکستان میں بولی جانے والی بہت سی زبانوں میں سے کچھ پر ان کے ملحقہ علاقوں کی زبانوں کا گہرا اثر نظر آتا ہے، گویا انسانی سماج کی طرح زبانیں بھی محکوم بنائی جاتی رہیں اور ان کو فاتحین کے زیر اثر رفتہ رفتہ تبدیل بھی ہونا پڑا، پنجابی ہی کو دیکھ لیجئیے شمالی پنجاب جو دریائے سندھ سے شروع ہوتا ہے یہاں سے دریائے جہلم تک کے علاقے میں بولے جانے والے پنجابی کے مختلف لہجوں کو ”لہندی“ کہا جاتا ہے اس سے اوپر پہاڑی علاقوں میں پہاڑی، ڈوگری اور گوجری کے لہجے پاے جاتے ہیں اور ان پہاڑی علاقوں سے ملحقہ میدانی اور نیم پہاڑی علاقوں کی زبان ”پوٹھوہاری“ کہلاتی ہے اسی طرح اوپر شمال مغربی سمت میں ہزارہ کے علاقہ میں اوپر کاغان تک اور مظفر آباد تک ہندکو زبان بولی جاتی ہے۔

یہ سب پنجابی کی قسم ”لہندی“ کے مختلف لہجے ہیں اور اگر کوئی شخص بنیادی پنجابی پر عبور رکھتا ہے تو وہ لہجے کے قطع نظر اٹک سے مظفرآباد تک، اور سرائیکی زبان کی حامل ریاست بہاولپور اور بلوچی لہجہ کے علاقوں یعنی ڈیرہ جات تک اپنا ابلاغ باآسانی کر سکتا ہے، یعنی ان سب زبانوں یا لہجوں کا معمولی چند الفاظ کے اوور لیپ یا لہجہ کے فرق کے قطع نظر بنیادی چیسیز پنجابی زبان ہی ہے۔ اس سے آگے لاہور سے کافی آگے تک کی اور مشرقی پنجاب کی پنجابی کو ”چڑھدی“ کہا جاتا ہے اسی طرح اور آگے بڑھیں تو اس زبان کا لہجہ دو طرح سے تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے یعنی ملتان سے شروع ہونے والی لہجہ کی تبدیلی بہاولپور تک پہنچ کر اپنا لہجہ مکمل تبدیل کرتے ہوئے زبان پنجابی ہی رکھتے ہوئے سندھی لہجہ اختیار کر لیتی ہے بلکہ کچھ الفاظ بھی سندھی زبان سے لے کر اپنے میں شامل کر لیتی ہے اسے اب ”سرائیکی“ کہا جاتا ہے۔

اور دوسری طرف ڈیرہ جات جہاں پنجاب کی حدود بلوچستان سے ملتی ہیں وہاں اسی بنیادی پنجابی زبان کا لہجہ بلوچی ہو جاتا ہے یوں یہ سرائیکی کی بلوچی شاخ کہلاتی ہے۔ زبان، اور علم لسانیات ایک بہت اہم موضوع ہے اور اس کا کسی حد تک شعور اور عبور حاصل کرنے کے لیے اس کے ساتھ تاریخ، جغرافیہ، اور تمدنی علوم کا بھی شعور اور گہری معلومات ہونا ضروری ہے۔

Facebook Comments HS