مادری زبان یا ماں بولی


دنیا کے کسی بھی کونے یا ملک میں بسنے والے جو بھی زبان بولتے ہیں، اس کو مادری زبان کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کبھی بھی اس کو آبائی زبان یا خاندانی زبان نہیں کہا گیا، ہمیشہ مادری زبان کی ہی اصطلاح استعمال کی گئی۔

جیسے پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، لیکن ہر صوبے کی اپنی زبان ہے۔ صوبہ پنجاب کی پنجابی ہے، لیکن ہر علاقے کا پنجابی بولنے کا اپنا انداز ہے جو یقیناً ماں سے ہی سیکھا گیا ہے۔ زبان کو ماں کی طرف منسوب کرنے میں پوری دنیا میں جو زبردست یکسانیت پائی جاتی ہے وہ اس بات کا بین ثبوت ہے، کہ زبان اور عورت میں بہت گہرا اور قدیم تعلق ہے۔ ورنہ اپنی بولی کا مفہوم ادا کرنے کے لئے ہر زبان میں مختلف اصطلاحات ہوتیں۔

زبان کی وابستگی عہد ہجر سے لے کر آج تک ماں سے ہی منسوب رہی۔ دنیا کی ترقی کے ساتھ ساتھ مادری زبان کا تصور بھی پختہ ہوتا چلا گیا، چنانچہ آج دنیا کے گوشے گوشے میں قومی زبان، علاقائی زبان، اور صوبائی زبان ایک دوسرے سے اتنی دست و گریباں ہیں کہ ان میں ایک دوسرے سے تمیز کرنا مشکل ہے۔ وہاں مادری زبان کی اصطلاح اپنی رعنائیوں کے ساتھ برقرار ہے۔

ٹیکنالوجی کی اس بڑھتی ہوئی دوڑ میں، اس ترقی یافتہ دور میں جب کہ بچہ آنکھ نرسری میں کھولتا ہے، تعلیم کے لئے سکول جاتا ہے، ادب کے رموز و نکات سیکھنے کے لئے کالج، یونیورسٹی کا مرہون منت ہوتا ہے، لیکن زبان اور تہذیب و تمدن سیکھنے کے لئے ماں کی آغوش کا محتاج نظر آتا ہے۔ کیونکہ یہ قدرت کا قانون ہے، کہ بچے کی پیدائش اور نگہداشت کا کام روز اول سے عورت ہی کے سپرد کیا گیا ہے۔ ایک زبان ہی نہیں بلکہ بچے کا کردار، اوصاف بھی ماں کی شخصیت کا ہی پرتو ہوتے ہیں۔

قدرت نے ماں کو ایسی صلاحیتیں ودیعت کی ہیں، جن کی بنا پر بچے کی بہترین پرورش ہو سکے۔ بچوں کی پرورش کے لئے اللہ پاک نے ماں میں صبر و تحمل، محبت اور ایثار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، یا یوں کہہ لیں کہ چونکہ قدرت کا منشا بقائے نسل انسانی ہے اس لئے اس نے عورت کی فطرت کو اس سانچے میں ڈھال دیا، کہ وہ ایک حیوان مطلق کو حیوان ناطق بنا سکے۔ قدرت نے ماں کے خمیر میں مامتا کے جذبے کے ساتھ ساتھ محبت کے بے پناہ جذبے کا اظہار، اور بچے کی بے زبانی کو سمجھنے کے لئے باریک بین نگاہیں، اور وہ قوت اظہار بھی عطا کی، جس کی مدد سے وہ بچے کی بے زبانی کو رفتہ رفتہ زبان بخشے، یہی وجہ ہے کہ آج ہر گھر میں غربت اور امارت، پڑھی لکھی اور ان پڑھ ماں کا فرق سمجھے بغیر عورت ہی بچوں کی حرکات و سکنات کو سمجھتی اور اس بے معنی زبان کو با معنی بناتی ہے۔

ماں اور بچے میں زبان کا رشتہ اسی وقت قائم ہو جاتا ہے جب بچہ ماں کی آغوش میں آتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ اس کا لمس پہچاننے لگتا ہے، ساتھ ساتھ ماں کے چہرے کے تاثرات کو سمجھنے لگتا ہے، اس کا ہر کام کرتے ہوئے، اس کو دودھ پلاتے ہوئے، اس سے کھیلتے ہوئے ماں مامتا کی چاشنی میں ڈبو کر ایک ایک لفظ بچے کے کانوں میں انڈیل رہی ہوتی ہے۔ بظاہر وہ الفاظ بچے کے لئے بے معنی ہوتے ہیں، لیکن بچہ ماں کے چہرے کے تاثرات بخوبی پہچان رہا ہوتا ہے، ماں خوش ہے تو خوش ہوتا ہے ماں غصے کا اظہار کر رہی ہے تو رونے لگ جاتا ہے۔

ماں بولنے کے ساتھ ساتھ ہاتھ کے اشاروں سے بھی بچے کو سمجھا رہی ہوتی ہے، جس کا بچہ ادراک کر رہا ہوتا ہے اسی لئے ماں کے ایک اشارے پر ہمک ہمک کر اس کی آغوش میں جانے کی کوشش کرتا ہے۔ بس اسی طرح ماں کے بولے ہوئے الفاظ اور جملوں کو معنی دینے لگتا ہے اور اپنی ماں بولی کو اپنے اظہار کے لئے استعمال کرتا ہے۔ جب بڑا ہوتا ہے تو اپنے ارد گرد کے ماحول سے جو الفاظ سیکھتا ہے وہ بھی ماں بولی ہی سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔

ماں کی ان ہی جانکاریوں کی وجہ سے ہر دور میں زبان ماں سے ہی منسوب رہی اور رہے گی۔ بچوں کو اپنا مفہوم سمجھانے کی بے پناہ صلاحیت بے شک ماں ہی کے زمرے میں آتی ہے۔

میرا خیال ہے جس طرح ماں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا، اسی طرح ماں بولی جیسی مٹھاس اور چاشنی کسی اور زبان میں نہیں ہوتی۔ اس لئے اپنی ماں بولی سے پیار کیجیے۔

Facebook Comments HS