سعودی عرب کا کئی ملکوں سے آنے والے سیاحوں پر لازمی قرنطینہ کی پابندی ختم کرنے کا اعلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعودی عرب نے کئی ملکوں سے آنے والے سیاحوں پر لازمی قرنطینہ کی پابندی ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم 20 ملکوں پر پابندی بدستور برقرار رہے گی۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 20 مئی سے ملک میں داخل ہونے والے وہ غیر ملکی شہری جو کرونا ویکسین لگوا چکے ہیں یا حال ہی میں عالمی وبا کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہوئے ہیں، انہیں حکومت کے مختص کردہ ہوٹلوں میں قرنطینہ میں رہنے کی ضرورت نہیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق سعودی عرب آنے والے سیاحوں کو قرنطینہ میں رہنے سے بچنے کے لیے آمد پر ویکسین سرٹیفکٹ فراہم کرنا ہو گا۔ البتہ قرنطینہ کا اطلاق امریکہ، بھارت، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور متحدہ عرب امارات سمیت 20 ملکوں پر بدستور برقرار رہے گا۔

اس وقت کسی بھی ملک سے سعودی عرب جانے والے شہریوں پر 14 روز کا قرنطینہ اور کرونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ فراہم کرنا لازم ہے۔ تاہم نئے قواعد کے تحت بعض ملکوں کے شہری 20 مئی سے ویکسین لگوانے اور کرونا کی منفی رپورٹ پیش کرنے پر قرنطینہ کے بغیر سعودی عرب میں داخل ہو سکتے ہیں۔

قرنطینہ سے متثنیٰ ملکوں کی فہرست میں پاکستان شامل ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں ہے۔ البتہ سعودی عرب نے رواں برس مارچ میں جن ملکوں کے شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی ان میں پاکستان بھی شامل تھا۔

قرنطینہ سے متعلق سعودی عرب کے نئے قواعد میں یہ بھی شامل ہے کہ آٹھ سال سے زائد عمر کے وہ افراد جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی، وہ لازمی طور پر سات روز قرنطینہ میں رہیں گے اور اس کے اخراجات بھی انہیں ہی برداشت کرنا ہوں گے۔

استمرار منع السفر لعدد من الدول دون إذن مسبق، سواء كان مباشرة أو عن طريق دولة أخرى. pic.twitter.com/xIcTHqx16M

— وزارة الداخلية (@MOISaudiArabia) May 16, 2021

نئے قواعد کے تحت سعودی عرب آنے والے سیاحوں کو کرونا وائرس کے ممکنہ خطرات کی صورت میں صحت کے اخراجات برداشت کرنے کی ہیلتھ پالیسی بھی لازمی طور پر فراہم کرنا ہو گی۔ اسی طرح سفر سے 72 گھنٹے قبل لی گئی کرونا کی منفی رپورٹ بھی پیش کرنا ضروری ہو گی۔

علاوہ ازیں سعودی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی شہریوں کے 13 ملکوں پر سفر کی پابندی برقرار رہے گی اور وہ حکام کی اجازت کے بغیر براہِ راست یا بالواسطہ پروازوں کے ذریعے ان ملکوں کا سفر نہیں کر سکیں گے۔

سعودی عرب کی سفری پابندی کی زد میں آنے والے ملکوں میں بھارت، افغانستان، ایران، ترکی، شام، لیبیا، لبنان، یمن، آرمینیا، صومالیہ، بیلاروس اور کانگو شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی حکومت نے رواں برس فروری میں 20 ملکوں سے شہریوں کی آمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔ البتہ سفارت کاروں، سعودی شہریوں، طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور ان کے اہلِ خانہ کو پابندی سے استثنیٰ دیا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2182 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *