کیا آگ بجھانے والوں سے آگ نہ لگانے والے بہتر ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


تصور کریں کہ آپ اپنے ایک دوست کے ساتھ ساحل سمندر کی سیر کر رہے ہیں اور اچانک شور سا مچ جاتا ہے اور کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔ آپ کے علم میں آتا ہے کہ ایک بچہ سمندر کی لہروں سے اٹکھیلیاں کر رہا تھا اور اب ڈوبنے کے قریب ہے۔ آپ کا دوست آؤ دیکھتا ہے نہ تاؤ اور سپرمین کی طرح اس مقام تک جا پہنچتا ہے جہاں پر بچہ بپھری ہوئی لہروں کا شکار ہوا چاہتا ہے۔ وہ بر وقت پہنچ کر بچے کو ڈوبنے سے بچا لیتا ہے اور ساحل سمندر پر موجود سیاحوں کی جانب سے داد بھی وصول کرتا ہے۔

آپ اور آپ کا دوست اس وقوعہ کے بعد پھر سے ساحل سمندر پر چہل قدمی شروع کر دیتے ہیں اور پھر کچھ دیر بعد تشویشناک صدائیں کانوں میں پڑتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ اب کی بار ایک اور بچہ ڈوبنے کے قریب ہے۔ آپ کا دوست جو چند گھڑیاں قبل ہی تمغہ شجاعت حاصل کر چکا تھا اب دوبارہ دوسرے بچے کو بچانے کے لئے کوسٹل گارڈ بن جاتا ہے۔ وہ دوسرے بچے کو بھی اپنی سر توڑ کوشش سے موت کے منہ میں جانے سے روک لیتا ہے۔ آپ دونوں اپنا موڈ خوشگوار بناتے ہیں اور پھر سے ساحل سمندر کی سیر سے لطف اندوز ہونے کا پروگرام بناتے ہیں جو کہ آج کی شام کا مقصد بھی تھا۔

شام کے سائے گہرے ہونے لگتے ہیں تو پھر شور بلند ہوتا ہے اور آپ دونوں تک یہ صدا پہنچتی ہے کہ اب کی بار تیسرا بچہ لقمہ اجل بننے جا رہا ہے۔ آپ کا دوست اس بار اس سمت میں نہیں جاتا جہاں پر بچہ آخری سانسیں لے رہا ہے بلکہ وہ اس سمت کی جانب اپنے سفر کا رخ کرتا ہے جہاں سے سیاح سمندر کی لہروں سے چھیڑ خانی کا آغاز کرتے ہیں اور وہ مسلسل بڑبڑاتا ہے کہ اب کی بار تو میں اس شخص کو اپنی گرفت میں لوں گا جو بچوں کو سمندر کی لہروں کی جانب دھکیل کر رہا ہے۔

یہ کہانی ہماری ردعمل کی نفسیات کی عکاس ہے۔ ہم پہلے خود سے بیماری کے تمام اسباب پیدا کرتے ہیں اور پھر جب بالآخر بیمار ہو جاتے ہیں تو ڈاکٹر سے علاج کروا کر اسے مسیحا بننے کا موقع فراہم کر دیتے ہیں۔ ہماری حالت ہمارے حالات بناتی ہے اور پھر ہم حالات کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم پرہیز کو علاج سے بہتر نہیں سمجھتے ہیں۔

ہم اس پولیس افسر کو تمغہ حسن کارکردگی دیتے ہیں جو جرائم کے وقوع پذیر ہو جانے کے بعد مجرموں کو گرفتار کرتا ہے۔ جو پولیس افسر نگرانی کا ایسا نظام بناتا ہے جس کے سبب جرائم سر زد ہی نہیں ہوتے ہیں اس پولیس افسر کی کارکردگی ہمیں نظر نہیں آتی ہے۔ اسی لیے ہمارے ہاں آگ لگانے والے آگ لگا کر آگ بجھانے آ جاتے ہیں اور پھر سب سے اپنے آپ کو مصدقہ نجات دہندہ ہونے کی سند بھی حاصل کرلیتے ہیں۔

جس انسانی سماج میں سیر گاہوں او ر ورزش کے مقامات کا کوئی پرسان حال نہ ہو اور ساری توجہ ہسپتالوں کو دی جاتی ہو وہاں پر بیماریوں کی پیدائش نہیں رکتی ہے بلکہ بیماریوں کے جنم کے بعد ان کے علاج کی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ جب مسائل کو مسائل کی نظر سے دیکھا ہی نہیں جاتا ہوتو پھر مسائل کے حل کی نوبت آنا ناممکن ہے۔ جب بڑھتی ہوئی آبادی کو ایک سنگین مسئلہ ہی نہیں سمجھا جاتا ہو تو پھر آبادی پر کنٹرول ترجیح نہیں بن سکتا ہے۔ جب آنکھوں پر پٹی بندھی ہو یا پھر ساون کے اندھے جیسی آنکھوں کی بینائی ہو چکی ہو تو پھر سانپ کو بھی بخوشی رسی سمجھ کر اس پر موتی پروئے جاتے ہیں اور اسے گلے کا ہار بنا لیا جاتا ہے۔

ہمیں اس لئے بھی علاج پرہیز سے زیادہ اچھا لگتا ہے کیونکہ پرہیز ضبط نفس کا تقاضا کرتا ہے اور ہم من حیث القوم ضبط کے بندھن توڑنے کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ہم جو ہے اور جیسا ہے پر خوش ہیں۔ گلی کا گٹر جب ابلنے لگتا ہے تو اسے ہم اپنا مسئلہ نہیں سمجھتے ہیں البتہ جب ہمارے بیت الخلا کا گٹر بے لگام ہوتا ہے تو ہم اس کا علاج کرنے کے لئے گٹر کے ڈاکٹر کی طرف دیوانہ وار بھاگتے ہیں۔ ہمیں اپنے پڑوس میں لگی آگ سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے البتہ جب اس آگ کا دھواں ہمارے ناک میں دم کرتا ہے تو ہمارے کان کھڑے ہوتے ہیں۔

عوام الناس کے مسائل تو اتنے کثیر اور گمبھیر ہیں کہ ان کی نظر بندی ہو چکی ہے۔ ان کے بچے اتنے زیادہ ہیں کہ اب انہیں اپنے بچوں کی بہتی ہوئی ناک کو دیکھ کر کوئی تشویش نہیں ہوتی ہے۔ دشواریوں کی تعداد بڑھتی جائے تو وہ مقام آ جاتا ہے جب صرف راستے کا پتھر نظر آتا ہے مشکلات سے محفوظ رہنے کا راستہ سوجھتا ہی نہیں ہے۔ جب ناکافی اور ناقص خوراک سے انسان کا بدن مختلف بحرانوں کا شکار ہو جائے تو پھر آنکھوں میں واجبی سی بصارت تو باقی رہ جاتی ہے لیکن بصیرت واپس میکے چلی جاتی ہے۔ عام آدمی کے دکھ اتنے زیادہ ہیں کہ اب اس نے دکھوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور مرمر کے جینے کو ہی زندگی سمجھ لیا ہے۔

ہم مسائل کی روک تھام کے لئے تو پیسہ خرچ کرنے پر تیار ہیں لیکن مسائل پیدا کیوں ہوتے ہیں، یہ جاننے کے لیے فکری و مالی وسائل خرچ کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ چور کو پکڑنے سے کچھ نہیں ہو گا کیونکہ جب چوروں کی مائیں زندہ ہیں اور ان کے باپ افزائش نسل کی قوت رکھتے ہیں تو چوروں کی پنیریاں یونہی لگتی رہیں گی اور ان نرسریوں سے چور نسل در نسل پیدا ہوتے رہیں گے۔

ہمارے سیاسی، معاشی و سماجی نظام کا حسن انتخاب گلو بٹ ہے جو اپنی وفاداری نبھانے کے لیے تخریب کا کوڑا برسانے سے بھی پرہیز نہیں کرتا ہے۔ ہمارے مروجہ نظام میں وہی زندہ رہیں گے جو خود نہیں بولتے ہیں بلکہ ان کے اندر ان کا یار بولتا ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر بولتا ہے۔ ہم تالاب کو گندے پانی سے صاف کرنے کے لیے اس میں ڈول ڈالتے رہیں گے لیکن تالاب کو بہتی ہوئی رواں دواں نہر میں تبدیل نہیں کریں گے۔ ہم کنویں سے مرا ہوا کتا نکالنے کے لئے ابھی تلک آمادہ نہیں ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments