نشیب کی نیلی لہر


”ہلکے نیلے اور تھوڑے سے سفید کی آمیزش۔ تھوڑا سا اور“
رنگوں کو باریک سے برش سے باہم ملاتے ہوئے اس نے بار بار تصویر کو دیکھا۔

”کیا سوچ رہی ہو؟“ شامی اپنا سامان سمیٹ کر منتظر تھا کہ وہ اپنی تصویر مکمل کرے۔ گروپ کے باقی لڑکے لڑکیاں بھی اپنے اپنے رنگ برش کینوس ایزل سمیٹ رہے تھے کیونکہ اسے سارا کام ایک ہاتھ سے اور وہ بھی بائیں ہاتھ سے کرنا ہوتا تھا اس لیے تھوڑا سا زیادہ وقت لگ جاتا تھا۔ پیدائشی طور پر وہ ایک ہاتھ کی انگلیوں سے مکمل طور پر اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے کسی حد تک محروم تھی۔ انگلیوں کی ساخت میں پیدائشی معذوری تھی مگر اس کی محرومی نے اس کی قابلیت کا راستہ نہیں روکا۔ وہ فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کر رہی تھی اور اپنے بیج کی ہونہار اور فنکار طالبہ تھی۔

”یہ پانی نشیب کی طرف کیوں گرتا ہے؟“
اس نے سوالیہ نگاہوں سے شامی کو دیکھا جس کی نظر تصویر کے حسن کی باریکیوں کو کھوج رہی تھی۔
وہ اس سے مخاطب ہوا،

”اے آرٹس کی ماہر طالبہ! سادہ سی بات ہے پانی نشیب کی طرف ہی گرے گا، شاید تمہیں کشش ثقل کا اصول بھول گیا۔ کیا ہائی اسکول میں سائنس نہیں پڑھی؟“

”ہاں! پڑھی تھی۔“ وہ سوال بھول کر پھر سے نشیب میں گرتی لہر کی پینٹنگ میں ڈوب گئی۔
شام ہو رہی تھی، پائن کے درختوں میں چھپے پہاڑی کوے پتھریلے گیت گانے کی مشق کر رہے تھے۔

ریسٹ ہاؤس کا عقبی منظر انتہائی دلفریب تھا۔ فضا کی ٹھنڈک روح میں سکون کا نزول کر رہی تھی۔ پہاڑوں کے حسن میں ایک خاموش سے حسن کی آواز روح کی سماعتوں میں نئے نغمے چھیڑ رہی تھی۔

آج یہاں ان کا آخری دن تھا، دعا کی تصویر مکمل ہونے تک سب کو اسی مقام پر رکنا تھا۔ اس کے بعد رات کا کھانا مال پر کسی اچھے سے ریسٹورنٹ سے کھانے کا منصوبہ تھا۔ نیلے رنگ کی وسعتیں پہاڑوں کی سبز چوٹیاں سرو ثمن، اخروٹ اور سیب کے درختوں میں چھپے اس قطعہ ارضی پر بار بار جنت کا گمان ہونے لگتا، جہاں بے خار بیریاں، لمبے لمبے سائے گھنے سکھ، آب خورے، آفتابے، حسین آنکھوں والیاں اور بہتا ہوا پانی ہو گا۔

”چلو اب کہاں کھو گئی ہو؟“ شامی نے دعا کو متوجہ کیا۔ وہ ہنسی، کہیں نہیں، گل نو بہار چلی۔
”سنو! تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔“

وہ اکثر ہی ایسے ہی سوالوں میں الجھ جایا کرتی تھی اور ایسے میں شامی کا جواب اسے کسی حد تک مطمئن کر دیا کرتا۔

”سوال کا جواب دے تو دیا تھا میں نے“
”وہ مزے کا نہیں تھا“ اس کی آنکھوں میں شرارت اور ذہانت ایک ساتھ کھیلتی تھی۔
”چلو تم ہی بتا دو، شاید تمہارے خیال میں کوئی بہتر جواب ہو۔“
”ہاں،“ وہ کھو گئی دامن کوہ میں میں چھپی خیال کی حسین وادیوں میں کھو جانا بے اختیاری تھا۔

اوکے ”سنو! شاید پانی نشیب میں اس لیے گرتا ہو کہ زمین کا وہ حصہ پانی کی طلب میں خود کو بہت گہرا کر لیتا ہے، جیسے انسان محبت میں یا علم کی طلب میں خود کو بہت عاجز اور گہرا کر لیتا ہے۔ ڈاؤن ٹو ارتھ۔ پھر جب وہ اتنا نیچا اور اتنا گہرا ہو جاتا ہے تو تب ایسے دلوں پر نزول ہوتا ہے اس سعادت کی جس کی ایسے دلوں کو کو طلب ہوتی ہے۔

علم، محبت اور پانی اپنی صفات میں مشترک قدریں رکھتے ہیں۔ ”

”واہ! تمہارا جواب نہیں۔“ ان کے استاد سر خضر بھی دعا کا جواب سن کر محظوظ ہوئے۔ انہیں اپنی ذہین طالبہ بہت پسند تھی۔ وہ سوچتے کہ بعض اوقات ہماری کوئی کمی کس طرح کسی دوسری صلاحیت کو پروان چڑھاتی ہے۔

”میری خواہش ہے دعا! کہ میرے بعد آپ بھی اسی ڈپارٹمنٹ میں استاد بن کر آئیں۔“

”جی سر! میں کوشش کروں گی۔“ دعا کو معلوم تھا کہ اس ذہانت کے ساتھ اسے اپنی زندگی تنہا ہی گزارنی ہوگی کیونکہ ایک معذوری کبھی کبھار کسی دوسرے کو قبول ہو بھی سکتی ہے مگر کسی تیسرے کو نہیں اور تیسرے کا کردار ہمارے معاشرے میں اتنا غالب ہے کہ پہلے اور دوسرے کی اہمیت ثانوی ہے۔ ہم خاندان کے محور سے جڑے سماج کا حصہ ہیں۔

شامی سوچ رہا تھا کہ وہ اس تصویر میں باقی رنگ اپنے ہاتھوں سے ایسے بھرے گا کہ اسے اپنی محرومی کا احساس تک نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے اسے زمین کیسے تیار کرنی ہے؟ یہ تھوڑا مشکل مرحلہ تھا مگر ناممکن نہیں۔

قذافی اسٹیڈیم کے بالکل سامنے سرخ اینٹوں والی حسین عمارت میں تصویروں کی نمائش میں سب سے خوبصورت تصویر نیلے پانی والی ندی کی تھی۔ واٹر پینٹ سے بنی شاہکار تصویر ان ہاتھوں نے بنائی تھی، خالق نے جسے انگلیوں کے بغیر مکمل کیا تھا یا ایک سوچ کے مطابق یہ آزمائشی پروگرام کا کوئی حصہ تھا، جس میں آزمائش ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی تھی۔ مکمل تصویر تو سب کو ہی بھاتی ہے مزہ تو تب ہے جب دوسرے کی کمی کو رحم کی نظر سے مکمل کر دیا جائے اور رحم بھی ایسا کہ محبت کا گمان ہو۔

شکر ہے ماں نے اپنے بیٹے کے جذبے کو پہچاننے میں دیر نہیں لگائی۔ وہ ایک نیک فطرت خاتون تھیں۔ ماں مان گئی تو شامی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔

دعا کیا تم مجھے اپنی زندگی میں ہم سفر بنا نا پسند کرو گی۔

دعا کے چہرے پہ بیک وقت حیرت اور خوشی کا رقص تھا۔ کیا آپ کے گھر والے اس رشتے کے لیے مان جائیں گے اس نے سادگی سے پوچھا

دعا میں نے سارے معاملات اپنی والدہ سے طے کر لئے ہیں

سچ اس کی آنکھوں میں خوشیوں کا تلاطم تھا۔ آنسو اس کی گالوں پہ بہہ نکلے۔ مجھے تمہارے ساتھ پر خوشی ہو گی۔ اس نے اپنا فیصلہ سنایا۔ سڑک کنارے گل مہر اور املتاس گلے مل رہے تھے۔

”مما! منگنی پر وہ تو مجھے انگوٹھی پہنائے گی، میں اسے کیا دوں گا؟“ شامی کو تھوڑی تشویش ہوئی۔

سبز ساڑھی میں ملبوس مما نے اپنے گلے میں پہنا ہوا ہیرے کا لاکٹ نزاکت سے اتارا، ”بیٹا! آپ اسے یہ دل والا لاکٹ پہنانا۔ اس میں میرا لمس اور تمہاری محبت دونوں شامل ہیں۔“

پانی تصویر سے نکل کر روح کے نشیب میں گرنے لگا۔ ”دعا! کیا محبت کا رنگ ہلکا نیلا سفیدی کی آمیزش لیے ہوئے آسمانی ہے؟“ دونوں نے تشکر سے آسمان کو دیکھا اور نگاہ ایک ہو کے زمیں پر سجدہ ریز ہو گئی۔

Facebook Comments HS