پاکستان میں کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا مسئلہ!


پاکستان میں ہر جانب جدھر دیکھیے، کوڑا کرکٹ پڑا ہوا نظر آتا ہے، جسے ٹھکانے لگانے کا کوئی نہیں سوچتا۔ زیادہ سے زیادہ اس کوڑے کو اٹھانے کی مشقت سے بچنے کے لیے اسے آگ لگا دیتے ہیں، لیکن یہ بھی اس مسئلے کا شافی علاج نہیں کیونکہ اس سے نہ صرف کوڑا جلنے کی بدبو پورے محلے میں پھیل جاتی ہے جس سے سانس لینا محال ہو جاتا ہے، خاص طور پر وہ افراد کہ جنھیں سانس لینے کے حوالے سے پہلے ہی کوئی بیماری لاحق ہو، بلکہ ایسا کرنے سے ماحول میں مزید آلودگی بڑھتی ہے۔ اس وقت بھی جب ہم یہ سطور سپرد موبائل کر رہے ہیں تو کچھ دیر پہلے گھر کے سامنے کوڑا کرکٹ جلنے سے آنے والی بدبو کی وجہ سے جی کوفت کا شکار ہے۔

اس کوڑا کرکٹ کو ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگانے کے حوالے سے سنجیدگی سے کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔ لیکن یہ رویہ محاورے کی زبان میں بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے والا رویہ ہے۔ کیونکہ ہم ٹرمپ کی طرح ماحولیاتی آلودگی سے جتنا انکار کر لیں لیکن آلودگی سے ہونے والی ماحولیاتی تباہی کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

پلاسٹک سے بنی تھیلیوں اور دیگر اشیاء کا رواج ہمارے بچپن میں آج سے کوئی پینتیس چھتیس سال پہلے آیا، اس سے پہلے لوگ کاغذ کے لفافے، کھجور کے پتوں، مصری، کندر اور لئی کی بنی ٹوکریاں سودا لانے کے لیے استعمال کرتے تھے یا پھر کپڑے کے بنے ہوئے تھیلے استعمال کرتے تھے جبکہ ہوٹلوں سے پکا پکایا سالن لانے کے لیے ٹفن استعمال ہوتے تھے۔ دودھ دہی لے جانے کے لیے جست یا سٹیل کا برتن استعمال ہوتا تھا۔ آج کل جگہ جگہ ہمیں دودھ دہی سڑکوں پر گرے ہوئے نظر آتے ہیں تو اس کی وجہ پلاسٹک کے لفافے ہیں جو کہ آتے جاتے اچانک پھٹ کر نہ صرف اس نعمت کے بے جا زیاں کا باعث بنتے ہیں۔

پلاسٹک کے لفافوں اور برتنوں کی وجہ سے کھانوں میں پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات شامل ہو جاتے ہیں کہ جو ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ اور پلاسٹک کے برتنوں کو مائیکرو ویو تندور (اون) میں کھانا گرم کرنے کے لیے استعمال کرنے والوں کی ذہنی صحت پے ہمیں شبہ ہوتا ہے کہ کیا یہ کھانا جست یا سٹیل کے برتن میں گرم نہیں کیا جا سکتا جبکہ پلاسٹک کے نقصانات کا ہر کوئی شکار ہے۔

پلاسٹک سے تیار کیے گئے برتن انتہائی ناپائیدار ہوتے ہیں جو کہ سال چھ ماہ میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ناکارہ ہو جاتے ہیں جو کہ وسائل اور رقم کا بے جا اصراف ہے۔ اس کے مقابلے میں سٹیل اور جست کے برتن ”رنگیلا کے بکرے“ کی مثال کی ماند ہیں کہ جب تک چاہا استعمال کیا، پرانے اور خراب ہونے پر کباڑی کو بیچ دیے جہاں سے یہ کارخانے سے دوبارہ نئے نکور بن کر ہمارے پاس آ جاتے ہیں۔ رنگیلا کے بکرے کا قصہ یہ ہے کہ ایک فلم میں رنگیلا کا مکالمہ ہوتا ہے کہ سنگا پور اتنا جدید ملک ہے کہ وہاں بکرے کو کاٹنے کے بعد جتنا جی چاہے کھائیں اور اس کے بعد باقی گوشت کو ایک مشین میں ڈالتے ہیں تو اس سے چھوٹا بکرا نکل آتا ہے۔

حتیٰ کہ جانور اور پرندے بھی پلاسٹک کا شکار ہو رہے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ہم نے ایک معصوم سی چڑیا کو دیکھا کہ جس نے ہمارے سامنے ایک پلاسٹک کے لفافے کا ٹکڑا نگل لیا۔ اسی طرح کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے مختلف اشیاء کھانے والے گدھوں، گائے بھینسوں، بھیڑ بکریوں کو ہم نے دیگر کھانے والی اشیاء کے ساتھ ساتھ پلاسٹک کے لفافے بھی کھاتے دیکھا ہے اور یہ صرف ہمارا مشاہدہ نہیں ہے۔ سائنسدان بھی کہہ رہے ہیں کہ اس سے جانوروں، پرندوں اور مچھلیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

پرانے زمانے میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا ایک محفوظ اور ماحول دوست طریقہ یہ ہوتا تھا کہ کوڑا کرکٹ کھیتوں میں پھینک دیا جاتا جہاں یہ کوڑا کرکٹ گل سڑ کر کھاد میں بدل جاتے، یوں کوڑا نہ صرف مناسب طریقے سے ٹھکانے لگ جاتا بلکہ یہ کوڑا فصلوں کی نشوونما کے لیے قدرتی کھاد کا کام دیتا۔

ہو سکتا ہے کہ آپ سوچ رہے ہوں کہ آج کے دور میں یہ طریقہ کیسے اپنایا جا سکتا ہے کیونکہ آج ہمارے کوڑے کا بیشتر حصہ پلاسٹک اور ایسی اشیاء پر مشتمل ہوتا ہے جو نہ صرف گل سڑ نہیں سکتیں بلکہ کھیتوں میں ڈالے جانے کی صورت میں فصل کی نشوونماء میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔

موجودہ دور میں یہ کام یوں کیا جا سکتا ہے کہ بطور شہری، کوڑا کرکٹ باہر پھینکتے ہوئے ہم اسے یوں ہی نہ پھینکیں بلکہ اس کی درجہ بندی کریں۔ مثلاً کاغذ، پتے، پھل سبزیوں اور دیگر گلنے سڑنے والی اشیاء کو ایک الگ لفافے میں بند کریں اور پلاسٹک وغیرہ کو الگ میں۔ اس کام کے لیے خاص رنگ کے لفافے مختص کیے جائیں تو یہ کام اور بھی آسان ہو سکتا ہے مثلاً گلنے سڑنے والی اشیاء ایک کالے رنگ کے لفافے میں ہوں جبکہ پلاسٹک سمیت دیگر نہ گلنے والی اشیاء، شفاف رنگ کے لفافے میں ہوں۔

اب پلاسٹک کو ٹھکانے لگانے کے لیے ایک تجویز یہ ہے کہ عام طور پر پاکستان میں گھروں، دکانوں کی تعمیر کے وقت تہہ خانہ بنانے کا زیادہ رواج نہیں ہے بلکہ مٹی سے بھرائی کی جاتی ہے۔ اب اگر گھر کی تعمیر کے وقت دو تین فٹ نیچے اس پلاسٹک سے بھرائی کی جائے تو اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ نیچے سے سیم و تھور سرایت کر کے گھر کی بنیادوں کو نمی پہنچا کر کھوکھلا نہیں کر سکیں گے یوں گھر کی دیواریں نمی سے محفوظ رہیں گی۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سے گھروں میں کوئی درخت وغیرہ نہیں اگایا جا سکے گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اب ہمارے یہاں گھروں میں درخت لگانے کا رواج نہیں رہا ہے، اور زمین کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کسی کے پاس اتنی جگہ بھی نہیں رہی کہ درخت لگائے جا سکیں۔ اب اگر کسی کے پاس اتنی زمین ہے کہ وہ گھر میں درخت لگانا چاہتا ہے تو اس کے لیے یہ کام بھی کیا جا سکتا ہے کہ کمروں کی بنیادوں کی بھرائی میں پلاسٹک کا استعمال کیا جائے جبکہ جہاں درخت لگانے کا ارادہ ہو، وہاں صرف مٹی سے بھرائی کر دی جائے۔

اور دکانوں میں بھلا کون پودے لگاتا ہے۔ اب یا تو گلنے سڑنے والی اشیاء شہری خود کھیتوں میں پھینکیں یا ان کے کوڑا پھینکنے کے بعد بلدیہ کے اہل کار کالے رنگ کے لفافے میں گلنے سڑنے والی اشیاء کو کھیتوں میں پھینک دیں جبکہ پلاسٹک والی اشیا ایسے افراد کے حوالے کریں جو ان کو تجارتی پیمانے پر نئے گھروں، سڑکوں کی بھرائی کے لیے استعمال کریں۔

سڑکوں کی تعمیر کے دوران بھرائی کے لیے بھی پلاسٹک سے کام لیا جا سکتا ہے، بھارت میں تو پلاسٹک کو تارکول کی جگہ پگھلاء کر اس سے سڑکیں بنانے کا کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ گھر کی تعمیر کے دوران چھت پر یہ پلاسٹک بازیافت کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مگر پلاسٹک کو دوبارہ استعمال کرنے کے قابل طریقۂ کار پر سرمایہ کاری کرنے سے پہلے ہم اگر یہ کام کر لیں تو اس سے یہ ہوگا کہ ہمارے ذہنوں میں اچھی طرح سے بات جاگزیں ہو جائے گی کہ کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانا بھی ہماری روزمرہ زندگی کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، پھر ہم اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کچھ نیا سوچنے اور اور اس پر مالی اور افرادی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

Facebook Comments HS