پی ٹی آئی سے ٹی نکلنے کے بعد

بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ کپتان اور ترین کی یاری لیجنڈ فوک سنگر طفیل نیازی کے مطابق لائی بے قدراں نال یاری تے ٹٹ گئی تڑک کر کے۔ اور اس یاری کے ٹوٹنے کی اطلاع میڈیا کو عون چوہدری اور ممبر صوبائی اسمبلی محمد سلیمان نعیم نے دی۔ اس موقع پر عون چوہدری نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے نام سے قومی وپنجاب اسمبلی میں اراکین اسمبلی الگ نشستوں پر بیٹھیں گے اور قومی اسمبلی میں اس ہم خیال گروپ کے پارلیمانی لیڈر راجہ ریاض اور پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سعید اکبر خان نوانی ہوں گے۔ اس پریس کانفرنس کو دیکھتے ہوئے پتہ نہیں کیوں سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی یاد آ گئے جب ان سے پوچھاگیا کہ وزارت عظمیٰ کیسے ختم ہوئی تو انہوں نے سادگی سے جواب دیا کہ جو لے کے آتے ہیں وہی گھر بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہیں

تو کیا موجودہ سیٹ اپ کو گھر بھیجنے کا فیصلہ ہو گیا ہے تو فی الحال یہ قبل از وقت بات ہوگی ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ 2018 تک جس طرح مرحلہ وار لانچنگ کی گئی تھی اسی طرح مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اب یہ کوئی انقلاب تو ہے نہیں کہ راتوں رات تبدیلی آ جائے لہذا قیاس یہی کیا جاسکتا ہے کہ جیسے تیسے کر کے موجودہ سیٹ اپ اپنی مدت پوری کرے گا۔ کیونکہ ملک کی معاشی صورتحال ایسی ہے کہ نئے انتخابات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور اگر بالفرض مڈٹرم الیکشن کا سوچا بھی جائے تو کوئی بھی جماعت بقیہ مدت کے لیے حکومت سنبھالنے کو تیار نہیں ہے۔ لہذا اب یہ ڈھول گلے پڑگیا ہے تو بقیہ مدت اسی کو بجانا پڑے گا۔ حالت اتنی دگرگوں ہے کہ نصف مدت میں پی ٹی آئی سے ٹی نکل گئی۔ وہ تحریک جو نجی اڑن کھٹولے پر شروع ہوئی تھی اب نہیں رہی۔

اس کے بعد پی سے پارٹی کی باری ہے اورسب جانتے ہیں کہ جس طرح پارٹی کے غبارے میں ہوا بھری گئی تھی وہ آہستہ آہستہ نکلنا شروع ہو گئی ہے اور آئندہ انتخابات تک رہ جائے گی آئی اور آئی سے مطلب عمران خان ہیں جو واپس 2013 کی اسی پوزیشن پر چلے جائیں گے جہاں سے انہوں نے تبدیلی کا سفر شروع کیا تھا۔ کیونکہ آئندہ انتخابات میں دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو یقین دہانی کرا دی گئی ہے کہ ان کو فری اینڈ فیئر الیکشن ملے گا جو جیتے گا وہ حکومت بنائے گا۔ اس وعدے کے تناظر میں دیکھیں تو سندھ اور پنجاب میں تحریک انصاف کے ساتھ جو ہونا ہے وہ سنجیدہ سیاسی حلقے بہتر سمجھتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اتنے شاندار اور زریں عہد حکمرانی کے بعد دوبارہ حکمرانی کا خواب کسی دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے

اس قوم کی بدنصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن سے تنگ آئے عوام کو نئے پاکستان کے خواب دکھانے والے کپتان کی ٹیم کا ہر اہم کھلاڑی آٹا، چینی، ادویات، پٹرول کے اسکینڈلز کی زد میں ہے۔ اس پر رنگ روڈ گیٹ نے گویا اونٹ پر تنکے کا کام کیا ہے۔ سندھ میں گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والوں اور ن میں سے ش نکالنے والوں کی اپنی رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ہے۔ بھان متی کے کنبے میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں اور ہم خیال گروپ سامنے آ گیا ہے۔ اب کپتان ان کی مانتا ہے تو رسوا ہوتا ہے اور نہیں مانتا تو لنکا کو آگ لگتی ہے۔ ہر دو صورتوں میں اپوزیشن نے جینا حرام کر دینا ہے۔ گویا اس بار قمیض میں دو موریوں کی سادگی بھی کام نہیں آنے والی۔

ستم یہ کہ بجٹ سرپر ہے جس میں آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل بھی کرنی ہے اور اگر وعدے وفا کرتے ہوئے نئے ٹیکسز لگاتے ہیں تو عوام کی جان نکلتی ہے۔ گزشتہ سال کی ادائیگیوں کا بوجھ کمر سیدھی نہیں ہونے دے رہا اگر بالفرض ادائیگیوں میں ریلیف مل بھی گیا تو اگلے سال سہی ادائیگیاں تو کرنی ہیں اور کیسے ہوں گی کوئی نہیں بتا سکتا۔ کیونکہ اگلے سال کے بجٹ کے بعد تو نئے انتخابات کی تیاریاں شروع ہوجائیں گی نئی سیاسی صف بندیاں ہو رہی ہوں گی۔ ایسے ٰمیں کپتان نا تو پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ پورا کر سکا اور نا ہی ایک کروڑ نوکریاں دے سکا۔ چلیں ان وعدوں پر مٹی ڈالیں یہ انتخابی بیانات ہوتے ہیں مگر تبدیلی سرکار کے پاس کرپشن کے خلاف بیانیے کا کیا جواب ہوگا جب اس کی اپنی ٹیم کے اہم اراکین پر کرپشن کے الزامات ہوں گے۔

کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے مسائل کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ ایسے ملک جہاں پر آمدنی کم اور اخراجات بے پناہ ہوں وہاں پر خواب نہیں دیکھے جاتے نہ ہی خواب دکھانے کا جرم کیا جاتا ہے وہاں پر دستیاب چادر میں وقت گزارا جاتا ہے۔ یہ کوئی خوشی کی بات نہیں پوری قوم کے لیے دکھ کا مقام ہے اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ موجودہ حکومت کے وعدوں اور کارکردگی کا بغور جائزہ لیں اور نصحیت حاصل کریں کہ اگر برسراقتدار آ کر آپ نے بھی قوم کو کچھ نہ دیا تو آپ کی مقبولیت کا بھی یہی حال ہونا ہے

اس لیے سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وعدے سوچ سمجھ کرکریں وہ بات کریں جس کو پورا کیا جاسکے۔ تقریر کے جوش میں جھوٹ بولتے رہے تو یاد رہے کہ عوام سے جھوٹ بولنا اپنی سیاست کو دفن کرنے کے مترادف ہوگا۔

رہی بات جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کی تو ذرائع کے مطابق اس گروپ کے اراکین کو یہ پیغام ملا ہے کہ بقیہ مدت میں اپنا امیج بہتر کریں مطلب یہ کہ مستقبل میں ان سے کام لیا جانا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مستقبل میں پنجاب کی سیاست ہنگامہ خیز ہوگی اور اس میں کافی لوگ حصہ دار ہوں گے لہذا آئندہ سیاست پنجاب میں ہوگی اور خوب ہو گی۔ جو بھی برسراقتدار آئے گا اس کو کسی ہم خیال گروپ کی حمایت یا مخالفت کا سامنا رہے گا۔ فی الوقت طفیل نیازی مرحوم کی آواز میں لوک گیت کا مزہ لیں

لائی بے قدراں نال یاری
تے ٹٹ گئی تڑک کر کے

Comments - User is solely responsible for his/her words