EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

لازوال دوستی کے ستر برس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان اور چین کی دوستی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آزمائش کی ہر گھڑی پر پورا اتری ہے۔ دونوں ممالک کی بے لوث اور مخلصانہ دوستی کو ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی قرار دیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ تعلقات کا آغاز 1950 میں ہوا، پاکستان اسلامی دنیا کاوہ پہلا ملک ہے جس نے عالمی برادری کے دیگر چند ممالک کے ہمراہ چین کو آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات 21 مئی 1951 کو قائم ہوئے۔

پاکستان نے چین کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز کا رکن بننے میں مدد فراہم کرنے کے علاوہ چین کے امریکہ سمیت اسلامی دنیا کے ساتھ رابطوں کے قیام اور تعلقات کے فروغ کے لیے اہم خدمات انجام دی ہیں جسے چین کی جانب سے ہمیشہ سراہا گیا ہے۔ چین نے بھی اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر پاکستان کی بھرپور حمایت سے ایک سچے دوست کا عملی ثبوت دیا ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ سے چین کی سفارت کاری میں ترجیح حاصل رہی ہے، چین پاکستان کے بنیادی مفادات اور اہم خدشات سے متعلق امور پر پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ ہے اور تمام عالمی معاملات اور تنازعات پر دونوں ممالک ایک ہی رائے کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک چین کے اصول کی حمایت کی ہے اور سنکیانگ، تائیوان، ہانگ کانگ اور چین کے بنیادی مفادات سے جڑے دیگر امور میں چین کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ اسی طرح چین نے بھی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تمام عالمی پلیٹ فارمز پر کھل کر پاکستان کی حمایت کی ہے اور پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔

عالمی سطح پر منفرد اور غیر معمولی نوعیت کی حامل پاکستان۔ چین دوستی کبھی بھی وقت اور حالات کے تابع نہیں رہی ہے۔ دونوں ملکوں میں انتقال اقتدار یا پھر سیاسی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں سے قطع نظر پاک۔ چین تعلقات ہمیشہ مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہے ہیں۔ رواں برس دونوں ملک بے مثال برادرانہ تعلقات کے 70 برسوں کا اہم سنگ میل عبور کر چکے ہیں۔ ان گزشتہ ستر برسوں کے دوران سیاسی، سفارتی، اقتصادی، ثقافتی، دفاعی غرض کہ تمام شعبہ جات میں پاک۔

چین تعلقات کے فروغ سے روایتی مضبوط دوستی کو مزید عروج حاصل ہوا ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف عالمی اور علاقائی پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کے مضبوط حامی ہیں بلکہ ایک دوسرے کی مضبوط اقتصادی سماجی ترقی کے خواہاں بھی ہیں۔ دونوں ممالک نے برادرانہ تعلقات میں ہمیشہ مشترکہ مشاورت کے اصول کا احترام کیا ہے، مشترکہ تعمیر کے اصول پر عمل پیرا رہتے ہوئے مشترکہ مفاد کے اصول کو ترجیح دی گئی ہے۔

پاکستان چین کو عالمی سطح پر اہم ترین دوست تصور کرتا ہے اور مشکل صورتحال میں بھی دنیا نے پاک۔ چین دوستی کی مضبوطی دیکھی ہے۔ ابھی حال ہی میں دونوں ممالک نے کووڈ۔ 19 کی وبائی صورتحال میں ایک دوسرے کی بھرپور حمایت سے لازوال سدا بہار دوستی کی توثیق کی ہے۔ سفارتی میدان میں کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اگر معاشی شعبے میں چین۔ پاک تعلقات کی ترقی کی بات کی جائے تو چینی صدر شی جن پھنگ کے تاریخی دورہ پاکستان کے دوران دونوں ملکوں کے عظیم اور بے مثال تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل چین پاک اقتصادی راہداری کی صورت میں سامنے نظر آ یا، جسے نہ صرف چین اور پاکستان بلکہ پورے خطے کی معاشی ترقی کا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اربوں ڈالرز سرمایہ کاری کا حامل یہ منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس سے یقینی طور پر پاکستان میں تعمیر و ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہو چکا ہے۔ تا حال سی پیک کے تحت پاکستان میں 25.4 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، 46 منصوبے یا تو مکمل کر لیے گئے ہیں یا پھر تکمیل کے مرحلے میں ہیں، جس سے پاکستان کو 5200 میگا واٹ بجلی فراہم کی گئی ہے، 886 کلو میٹر طویل نیشنل کور ٹرانسمیشن گرڈ قائم ہو چکی ہے، اور 510 کلومیٹر لمبائی کی شاہراہیں تعمیر ہو چکی ہے۔ اگلے مرحلے میں سی پیک کے تحت زراعت، صنعت، انفارمیشن اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے گا۔

چین اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت دیرینہ دوستی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اکتوبر دو ہزار انیس میں چینی صدر شی جن پھنگ نے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے بیجنگ میں ملاقات کے موقع پر کہا تھا کہ چین اور پاکستان کے درمیان چاروں موسموں کے اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کے تعلقات قائم ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔

اسی طرح وزیر اعظم عمران خان جہاں متعدد مواقعوں پر چین کی ترقی کو سراہتے ہیں وہاں انہوں نے ہمیشہ چین سے سیکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے چاہے وہ غربت کا خاتمہ ہو، انسداد بدعنوانی ہو یا پھر سماجی ترقی سے متعلق چین کی پالیسیاں گزرتے وقت کے ساتھ چین۔ پاک دوستی کی جڑیں نسل در نسل عوام کے دلوں میں مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستانی عوام جہاں چین سے بے پناہ لگاو رکھتے ہیں تو چینی سماج میں بھی پاکستان کو پاتھیے قرار دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے فولادی بھائی۔ آج ستر برسوں بعد چین اور پاکستان دونوں پراعتماد ہیں کہ آہنی دوستی کے اس رشتے اور برادرانہ تعلق کو ہمیشہ عروج حاصل رہے گا اور دونوں ملک مل کر ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے