رشتہ پریڈ یا عزت نفس کو نشانہ بنانے کی تقریب

خواتین کو قدرت نے نرم مزاج اور حساس بنایا ہے اور یہ مزاج اس کی جبلت میں شامل ہے۔ لڑکیاں اپنے سے جڑے ہر رشتے کے بارے میں حساس ہوتی ہیں۔ مشرقی لڑکیوں کی زندگی کا سب سے بڑا لمحہ وہ ہوتا ہے جب وہ شادی ہو کر اپنے سسرال جاتی ہیں۔ اس لمحے سے پہلے اسے بہت سے دوسرے لمحات سے گزرنا پڑتا ہے جس میں سے ایک بڑا مشکل لمحہ ہوتا ہے جو رشتہ پریڈ کہلاتا ہے یعنی کے جب لڑکا اور اس کی فیملی لڑکی کا ”معائنہ“ کرنے آتے ہیں۔
اکثر لڑکوں کی اماں بیٹے کی شادی کی عمر پہنچتے ہی رشتہ ڈھونڈنے نکل جاتی ہیں۔ بیٹا چاہے جتنا ناکارہ ہو بچی سگھڑ چاہیے ہوتی ہے، بیٹا جتنا ہی لا ابالی ہو لڑکی اتنی ہی سلیقہ مند چاہیے، لڑکا جتنا ہی بھدا ہو لڑکی فل سلم و اسمارٹ چاہیے، لڑکا جتنا ہی کالا ہو لڑکی دودھ کی طرح سفید چاہیے، لڑکے کا ماضی جیسا ہو لڑکی کا ماضی پاک و پوتر ہونا چاہیے، یہ وہ چاہتیں ہیں جو اکثر بیٹوں کی مائیں چاہتی ہیں۔
اسی طرح کی درجنوں ڈیمانڈز کے ساتھ لڑکے کی اماں اس مشن ”پرفیکٹ لڑکی“ کی تلاش میں نکلتی ہیں، ہفتے میں دو تین جگہ جاتی ہیں، وہاں پر بھرپور ناشتہ کرتی ہیں۔ اگر انتہائی کوئی بد اخلاق اماں ہو تو وہیں رشتے والی آنٹی کے کان میں کہہ دیتی ہیں کے لڑکی کا قد بہت چھوٹا ہے یا پھر رنگت سانولی ہے بہن اس لڑکی کی۔
یہ عمل لڑکے کی ماں تو دہرا دیتی ہے مگر اس کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کے اس عمل سے لڑکی کے دل پر کیا گزری یا لڑکی کے والدین کا اس بات پر کتنا دل دکھا۔ یہ رشتہ پریڈ بری چیز نہیں مگر اس کی کچھ اخلاقی اصول ہونے چاہیے۔ سب سے پہلے اگر ممکن ہو تو گھر جانے سے پہلے ہی لڑکی کے بارے میں پوری معلومات اور اس کی قد اور رنگت کو جانچ لیں اور اگر سمجھ میں آ رہا ہو تو پھر جایا جائے نہ کہ آپ وہیں جاکر منظر دیکھیں۔ اب تو موبائل کا دور ہے تصویر یا ویڈیو سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
لڑکی کے گھر جایا جائے تو لڑکا ساتھ ہو اور پھر لڑکی چائے لے کر آئے اور پھر لڑکے سے بولا جائے کہ دیکھ لو، اگر لڑکے کو سمجھ بھی آ جائے تو اماں گھر آ کر اپنے رخ سے لڑکی بتاتی ہے کہ دیکھو قد کتنا چھوٹا تھا تمھارے ساتھ بری لگے گی، رنگت بھی سانولی تھی اور وہ بھی میک اپ کی وجہ سے تھوڑی بہتر دکھ رہی تھی۔ لڑکی کی عمر 26 سال ہے اب 1، 2 سال مزید لگیں گے، اولاد ہونے میں بھی مسئلہ ہو سکتا ہے اور اسی طرح کی بہت سی باتیں کر کے لڑکے کو ان کا ر کرنے پر راغب کرتی ہیں۔
چلیے معاشرے کو الٹ کر دیکھتے ہیں اگر ایسا ہو کہ لڑکی والے بمعہ لڑکی لڑکے کے گھر آئیں اور لڑکا سامنے آ کر بیٹھے اور پھر اس کے سامنے اس کی برائی کی جائے یا پھر گھر جاکر اس کے والدین کو فون کر کے بتایا جائے کہ بھئی رشتہ منظور نہیں، ہمیں آپ کا لڑکا سمجھ نہیں آیا، وہ تھوڑا کمزور سا ہے، کالا بھی ہے اور گنج پن کا بھی شکار لگتا ہے، تو مجھے یہ بتائیں کے لڑکے کی عزت نفس کو دھچکا لگے گایا نہیں؟ لڑکے کے والدین کو برے لگے گا یا نہیں۔ یہ تمام باتیں احساس کرنے کی ہے اگر ہو جائے تو کیا ہی بات ہے۔
گزارش اتنی ہے کہ رشتہ اپنی پسند سے کرنا سب کا حق ہے مگر کسی بھی انسان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ اگر آپ یہ عمل کریں گے تو کسی نہ کسی دل پلٹ کر یہ آپ کے سامنے آئے گا، شاید آپ کی بیٹی کے ساتھ یہ عمل ہو جائے۔
ہاں ملاقات کے بعد فیملی کا طور طریقہ نہ سمجھ آئے تو بات الگ ہے کیونکہ اس معاشرے میں گھٹیا قسم کے لوگ بھی پروان چڑھ رہے ہیں۔ آسان حل یہ ہے کہ آپ تصویر یا ویڈیو کی ذریعے اور بائیو ڈیٹا کی مدد سے اس لڑکی کو سمجھ لیجیے یا پھر لڑکی کو کسی تقریب میں دیکھا جاسکتا ہے۔
یا کوئی دوسرا طریقہ بھی اپنایا جاسکتا ہے جس سے عزت نفس مجروح نہ ہو۔ بس یہ رشتہ پریڈ کے نام پر لڑکیوں کی عزت نفس کچلنا اب بند ہونا چاہیے۔

