معذور افراد کو قابل رسائی بنانے کا عالمی دن


دنیا بھر میں ہر سال مئی کے مہینہ کی تیسری جمعرات کو ایسے افراد جنہیں کسی بھی طرح کی معذوری ہے ان کے کے لیے قابل رسائی معلومات یا مقامات کا دن منایا جاتا ہے دنیا بھر کی طرح اس سال پاکستان میں یہ دن 20 مئی بروز جمعرات کو منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ریاستی اداروں یا قانون سازی کرنے والی مقننہ یا حکومت، ملک کے اندر رہنے والے وہ افراد جو معذوری کے ساتھ ہیں ان کے لیے ہر شے کو قابل رساں بنانے میں اہم کردار ادا کریں۔

ذرا سوچیں! آپ ایک ڈبل سٹوری گھر میں رہتے ہیں اور پہلی منزل پر جانے کے لیے آپ سیڑھی کا استعمال کرتے ہیں اگر یہ سیڑھی نہ ہو تو یقینی بات ہے آپ کو اوپر والی منزل پر جانے میں بہت دشواری کا سامنا ہو گا تو ایک لحاظ سے آپ کو معذوری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس طرح آپ جو گاڑی استعمال کرتے ہیں اس کی بریک تک آپ کی براہ راست رسائی نہ ہو اور اس کے لیے آپ کو کسی کی مدد ضرورت ہوتی ہو جو آپ کے ساتھ والی نشست پر بیٹھے اور جب آپ کہیں تب وہ بریک دبائے تو عین ممکن ہے آپ گاڑی نہ چلائیں یا پھر انتظار کریں کہ کوئی مشکل کی اس گھڑی میں آپ کی مدد کرے ایسی صورت میں بھی آپ معذور ہیں۔

اگر ہم روز مرہ کی زندگی کا جائزہ لیں تو بہت سی ایسی چیزیں جس سے عام انسان کی یا تو رسائی نہ تھی یا پھر انہیں استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا وقت کے ساتھ ساتھ وہ بہت زیادہ سہل ہو گئیں اور لوگوں کو ان کو استعمال کرنے میں کسی قسم کی دشواری نہ رہی۔ اس طرح ہمیں مجموعی طور پر یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معذوری کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ایک طرز زندگی ہے اور اس کے حساب سے ہمیں ان تمام چیزوں کو ڈھالنا ہے جو اس طرز زندگی میں رکاوٹ ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا جن کا افراد باہم معذوری کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں حالیہ کی جانے والی مردم شماری میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق معذور افراد کی آبادی تین اعشاریہ ایک ملین ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت اور فلاحی تنظیموں کے مطابق یہ تعداد 32 ملین ہے۔ معذور افراد کی آبادی کے اس فرق کی وجہ سے حکومتی سطح پر ہونے والی قانون سازی اور ان افراد کی فلاح و بہبود کے منصوبہ جات یا تو بنتے نہیں اور اگر بن بھی جائیں تو ان کے فوائد ان افراد تک نہیں پہنچ پاتے۔

آج قابل رسائی کے عالمی دن کے موقع پر حکومت وقت اور پاکستان کے تمام سرکاری اور نجی ادارے کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ان رکاوٹوں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے اور ان تمام دفاتر، کام کی جگہوں، اسپتالوں، کھیل کے میدانوں، الیکٹرانکس آلات، مارکیٹس الغرض ہر وہ شعبہ زندگی جس سے معذور افراد کا براہ راست تعلق ہے، کو قابل رساں بنائیں گے۔ آٹو انڈسٹری ان افراد کے طرز زندگی کے مطابق گاڑیاں بنائیں تاکہ وہ ان گاڑیوں کو استعمال کر کے اپنی روزمرہ کی زندگی کو بہتر طریقے سے اور بھرپور انداز میں جی سکیں۔ سافٹ وئیر ہاؤسز ان افراد کے لیے وہ تمام سافٹ وئیر مناسب قیمت پر مہیا کریں تاکہ وہ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا انڈرائیڈ موبائلز اپلیکیشن کو با آسانی استعمال کر سکیں۔

ہمارے دیہی علاقہ جات یا جہاں وسائل کی کمی ہے اکثر والدین اسے خدا کا عذاب یا اپنے گناہوں کی سزا سمجھتے ہیں اس وجہ سے والدین ان معذور افراد کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دیتے اور یہ افراد انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ایسے میں یہ تمام شہریوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جہاں بھی اس طرح کا غیر انسانی سلوک ہوتا دیکھیں وہاں ان والدین اور معاشرے کے افراد میں شعور و آگاہی پیدا کریں اور انہیں سمجھائیں کے یہ ایک طرز زندگی ہے اور ان کے کے لیے قابل رساں ماحول پیدا کرنے میں ان والدین کا ساتھ دیں اور معذوری سے جڑی ان تمام توہمات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کریں۔

جن گھروں میں ایسے افراد جو معذوری کے ساتھ ہیں رہتے ہیں وہ والدین اپنے گھروں میں پینے کے پانی تک کی رسائی کو یقینی بنائیں، ٹوائلٹس تک کی رسائی کو یقینی بنائیں اور گلی محلہ کو اہل علاقہ یا محلہ کے ساتھ مل کر قابل رساں بنائیں۔ جس دن آپ نے آس پاس کی اشیاء، راستوں اور چیزوں کو قابل رساں بنا دیا تو اسی دن ان افراد کی معذوری ختم ہو جائے گی۔ آئیے! آج کے دن کے موقع پر عہد کریں کے ان تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے میں آپ اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور ساتھ ساتھ حکومت وقت سے بھی اس کا مطالبہ دہراتے رہیں تاکہ وہ ملکی سطح پر معذور افراد کی قابل رسائی کے حوالے سے موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرواتی رہے۔

Facebook Comments HS