پٹاخے، پتنگیں اور بچے!
ابھی رمضان کا مہینہ گزرا ہے، پورا مہینہ اور خاص طور پر عید کے تین چار دن گلی میں پڑوسیوں کے بچوں کے پٹاخے پھوڑنے کی آوازوں سے سر پھٹتا رہا۔ گلی سے گزرتے تو یہ پٹاخے ہمارے پیروں میں آ جاتے جس سے ہم بوکھلا اور گھبرا سے جاتے۔ اس کے علاوہ ہم نے دیکھا کہ بچے ایک دوسرے کو ستانے کے لیے ایک دوسرے پر جان بوجھ کر بھی پٹاخے پھینکتے ہیں۔ اس سے ان کے کپڑوں میں آگ بھی لگ سکتی ہے۔ اچانک پھنکا گیا پٹاخہ دوسرے بچے کے پاس جاتے ہی فوراً پھٹنے کی صورت میں اس کی آنکھوں، ناک یا جسم کے کسی خاص حصے کو چوٹ لگ سکتی ہے۔
اور اگر ایسی چوٹ یا داغ کسی بچی کو لگ جائے تو بڑا ہونے پر اس کا رشتہ ہونے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ عید کے دن تو بچے زرق برق ریشمی لباس پہنتے ہیں جن میں پٹاخوں سے باآسانی آگ لگ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے دیکھا کہ بچے آتے جاتے راہ گیروں کے قدموں میں یہ پٹاخے پھینک رہے ہوتے ہیں، جن سے راہ گیر یک دم بوکھلا جاتے ہیں۔ کئی راہ گیروں کے ہاتھوں میں نوزائیدہ کم عمر بچے ہوتے ہیں، اس بوکھلاہٹ میں ان کے ہاتھوں سے وہ گر سکتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے ان بچوں کو کوئی خطرناک چوٹ لگ سکتی ہے۔
ایسا اس وقت ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ جب ایسے افراد کے دوسرے ہاتھ میں کوئی سودا سلف بھی ہو۔ اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ بعض اوقات بچوں کے پھینکے گئے پٹاخے عین کسی موٹر سائیکل سوار کے اوپر یا اس کے پہیے کے سامنے جا گرتے ہیں جس سے موٹر سائیکل سوار اگر احتیاط نہ کرے تو موٹر سائیکل پھسل کر گر بھی سکتی ہے اور موٹر سائیکل سوار یا اس کے ساتھ بیٹھی سواری جن میں بچے بھی ہوسکتے ہیں، کو چوٹ بھی لگ سکتی ہے۔
ان بچوں کو پٹاخے پھوڑتے دیکھ کر ہمیں ٹام اینڈ جیری کارٹون سیریز کا ایک مشہور کارٹون ”سیفٹی سیکنڈ“ یاد آ جاتا ہے۔
بچوں سے ہمیں بھلا کیا شکایت ہو سکتی ہے۔ بچے معصوم ہوتے ہیں، انہیں اپنے ادر گرد کے حالات کا زیادہ ادراک نہیں ہوتا، ہمیں بچوں سے گلہ نہیں لیکن ان کے بڑوں سے ضرور ہے کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں پر نگاہ رکھیں، ان کی سلامتی کے حوالے فکر کریں۔
ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ویسے بھی آج کل بچوں کے پاس کرونا کی چھٹیوں کی وجہ سے کرنے کا کوئی کام نہیں ہوتا تو انہوں نے پٹاخوں میں پناہ ڈھونڈی لی ہے۔ لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ والدین بچوں کو ایسی منفی سرگرمیوں کی جانب متوجہ کیوں ہونے دیتے ہیں؟ آخر ایسی منفی سرگرمیاں ترک کرنے کی راہ میں کون سی رکاوٹ حائل ہے؟
ہمارا اپنا اندازہ ہے کہ اس مہینے کے دوران فی بچہ کم از کم چار سو روپے سے ہزار روپے تک کا خرچہ تو ان پٹاخوں پر ہو ہی گیا ہوگا۔ اب اگر ایک شخص اپنے تین چار بچوں اور تین چار بھتیجے، بھانجوں وغیرہ کو ساتھ لے کر پٹاخے دلانے جائے تو اس کی جیب پر کتنا بھاری خرچہ آتا ہو گا۔
ایک تو یہ پیسے کا زیاں ہے خاص طور پر ”آفتوں کے اس دور میں یہ چین کی گھڑی نہیں ہے“ ۔
واقعی یہ آفتوں کا دور ہے جو ملیریا اور ڈینگی سے ہوتا ہوا کروناوائرس تک آ گیا ہے۔ اور یہ آفتیں صرف یہیں تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مثلاً ڈینگی خطرناک ہے مگر مجموعی طور پر پورے معاشرے کے روزگار کے لیے خطرہ نہیں بنا جبکہ دوسری طرف کرونا کتنے ہی معاشروں کو بحیثیت مجموعی کنگال کر رہا ہے۔
تو ایسی صورت میں زیادہ سے زیادہ رقم بچانے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ کسی حادثے وغیرہ کی صورت میں علاج معالجے کے لیے رقم کی کمی نہ ہو۔ بیٹھے بٹھائے کسی کو کوئی بھی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ ابھی کل ہی سی این این پر یہ خبر پڑھی ہے کہ امریکہ میں ہسپتالوں کی ایک چین اپنے ان مریضوں کے خلاف مقدمے دائر کر رہی ہے کہ جو وبا سے پہلے بیمار ہوئے تھے اور وبا کے دوران بے روزگار ہونے کی وجہ سے علاج معالجے کے خرچے کی ادائیگی نہیں کرپا رہے تھے اور یا وہ وبا کے دوران وبا سے یا ایسے کسی حادثے کی وجہ سے بیمار پڑ گئے اور اب وہ بے روزگاری یا کمزوری کی وجہ سے واجبات کی ادائیگی نہیں کر پا رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر میں مزید دلچسپی رکھتے ہیں تو عبرت حاصل کرنے کے لیے پوری خبر یہاں پڑھ سکتے ہیں
اور پٹاخوں کے چونچلے درمیانہ طبقے اور نچلے طبقے تک محدود ہیں، امیر کے بچے اول تو یہ کام کرتے نہیں اور اگر کسی تقریب پر کریں تو وہ محفوظ طریقے سے پٹاخے پھوڑنے والے ماہرین کو بھی ساتھ بلا لینے کی حیثیت رکھتے ہیں
پٹاخے ان کے بنانے والوں کے لیے بھی سخت خطرناک ہوتے ہیں۔ کئی دفعہ ایسی خبریں آئی ہیں کہ پٹاخے بنانے والوں کے کارخانے میں دھماکہ ہو جاتا ہے اور مالی ہی نہیں جانی نقصان بھی ہو جاتا ہے۔ اب جب پٹاخے استعمال نہ کرنے کی بات کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ غریبوں کے پیٹ پر لات پڑے گی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہزاروں لوگ اپنا کاروبار تبدیل کر لیتے ہیں تو پٹاخے بنانے والے کیوں نہیں کر سکتے خاص طور پر حکام اور معاشرے کے باحیثیت افراد سے گزارش کی جا سکتی ہے کہ انہیں کوئی دوسرا ہنر سیکھنے کے لیے مدد دیں۔
اب یہ کہا جائے کہ یہ تو ایک عرصے سے ہماری ثقافت اور تہذیب کا حصہ بن چکے ہیں اور موجودہ دور کے والدین نے بھی اپنے بچپن میں پٹاخے پھوڑے ہیں۔ تو اور بھی کئی ایسے شعبے اور پیشے ہیں جو کبھی ہماری تہذیب کا انمٹ حصہ تھے اور معاشرے میں اچھائی کو فروغ دیتے تھے مگر چند سالوں یا چند دہایوں کے اندر وہ پیشے ختم ہو چکے ہیں یا خال خال رہ گئے ہیں۔ لالٹین اور مٹی کے تیل کے چولہے بنانے کے کارخانے ختم ہو سکتے ہیں لیکن پٹاخے بنانے کے کارخانے نہیں۔ کیسٹ، وی سی آر کی دکانیں، آڈیو ویڈیو کیسٹ بھرنے والے، سی ڈی، کپڑے رنگنے والے، اور بھی کتنے پیشے ہیں جو ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہو گئے۔
والدین بچوں کو کسی مثبت سرگرمی کی جانب بھی متوجہ کر سکتے ہیں۔ آج تقریباً ہر گھر میں کیبل ہے، والدین کو چاہیے کہ وہ کیبل پر بچوں کو نیشنل جیوگرافک، ڈسکوری، کارٹون نیٹ ورک، پوگو، ہسٹری چینل وغیرہ جیسے معلوماتی اور تفریحی چینل دیکھنے کی جانب راغب کریں تاکہ کھیل کھیل میں انہیں کچھ معلومات بھی مل جائیں۔ اس کے علاوہ والدین یہ کر سکتے ہیں کہ بچوں کو لوڈو، کیرم اور کئی دیگر ایسے عملی طور پر کھیلنے والے کھیل کھلا سکتے ہیں۔ قدرے بڑی عمر کے بچے ماؤں، باجیوں وغیرہ کے ساتھ کھانا پکانے میں مدد رے سکتے ہیں۔ اس سے گھر کی خواتین پر کام کا بوجھ بھی کم ہوگا اور بچوں کی توجہ بھی بٹ جائے گی۔
اسی طرح پتنگیں اڑانے کے لیے پہلے مانجھا ہوتا تھا، مگر اب جدھر دیکھیے، نائلون کی ڈور کا رواج ہے جو انسانوں، جانوروں، پرندوں کے لیے یکساں طور پر نقصان دہ ہے۔ یہ ڈور پتنگ بازی کے لیے بنی ہی نہیں تھی، یہ تو مچھلی پکڑنے کی ڈور تھی جسے کچھ ظالموں نے پتنگ اڑانے کے لیے استعمال کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ عفریت پورے ملک میں پھیل گئی۔ اب یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے کہ مانجھے کا رواج ختم ہو سکتا ہے لیکن پٹاخے ختم نہیں ہو سکتے۔
اب پتنگیں بنانے والوں کو کیوں یہ باور نہیں کرایا جا سکتا کہ وہ قانونی طور پر صرف مانجھا بنا سکتے ہیں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ پتنگ بازی اور پتنگوں پر پابندی لگانے کی بجائے صرف ربڑ کی قاتل ڈور پر پابندی لگائی جائے۔ آخر اس ربڑ کی قاتل ڈور کے رواج سے پہلے صدیوں سے مانجھا استعمال ہو رہا تھا اور کسی کو مانجھے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا تھا۔
یہ ربڑ کی ڈور بنانے والوں یا ان کے پیاروں کے ساتھ بھی اس طرح کا حادثہ پیش آ سکتا ہے تو کیا وہ بھی پٹاخے بنانے والوں کی طرح مجبور سمجھ لیے جائیں کہ جنھیں ہر حال میں یہ کام ضرور کرنا ہے؟
اگر بچوں کے والدین، پٹاخے بنانے والے، پتنگوں کی قاتل ڈور فروخت کرنے والے، سبھی معصوم ہیں تو پھر گناہ گار کون ہوئے؟ ہماری طرح کے لوگ جو یہ چیزیں استعمال نہیں کرتے۔
بقول شاعر
قاتل کی یہ دلیل، منصف نے مان لی
مقتول خود گرا تھا، خنجر کی نوک پر


