سائنسدان ، عالم اور اداکار



محترم قارئین یہ تین الفاظ ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں آپ تمام دوست ان الفاظ کی تعریف کو پڑھیں اور ان کے مطلب کو جاننے کی کوشش کریں۔ یہ تین الفاظ ہیں سائنسدان، عالم اور اداکار۔

سائنس کا علم رکھنے والے شخص کو سائنسدان کہا جاتا ہے۔ سائنس کا علم جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں نظریات، مشاہدات اور تجربات پر مشتمل ہوتا ہے۔ کوئی بھی سائنسی علم اس وقت تک مستند نہیں ہوتا جب تک کہ اسے سائنسی کسوٹی پر پرکھا نہ جائے۔ سائنس کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ یہ تجربات سے ثابت شدہ ہے اور اس کے اندر مزید بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ گوگل کی اردو سے انگلش ٹرانسلیشن کے مطابق علم سائنس کو کہتے ہیں اور عالم سائنسدان کو۔ لیکن علم اور عالم کی جو تعریف ہمارے ہاں خصوصاً پاکستان میں کی جاتی ہے اس کا سائنس سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ پاکستان میں موجود عالم ہمیشہ سائنس کو برا کہتے ہیں اور سائنسی علوم سے شدید نفرت کرتے ہیں۔

پاکستان میں جن کو لوگ علماء کرام کہتے ہیں ان کے نزدیک سائنسی علم دراصل یہود و نصاریٰ کی سازش ہے اور مسلمانوں کی آخرت کو برباد کرنے کا مشن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو وطن عزیز میں سائنسی تحقیقی ادارے اور یونیورسٹیاں کم جبکہ مختلف فرقوں کے مذہبی مدرسے اور ادارے زیادہ نظر آئیں گے۔ سائنس کی تعلیم اور تحقیق کا ایک باقاعدہ طریقہ کار ہے۔ سائنسدان اپنی بات کو دنیا کے سامنے بیان کرنے سے پہلے اس کو باقاعدہ سمجھتا ہے۔

تاریخی حوالوں سے مختلف حوالہ جات کے ساتھ اگر اس موضوع پر پہلے بھی کچھ لوگ کام کر چکے ہیں تو ان کو انہی سائنسدانوں کے الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ اپنے نظریے کو مختلف مشاہدات کے بعد پرکھنے کے لیے لیبارٹری میں لے جاتا ہے اور اس پر تحقیق کرنے کے بعد اپنے نتائج دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ دنیا میں اس شعبہ میں کامیاب لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اس پر تنقید اور تحقیق کر سکتے ہیں۔ اگر اس سائنسدان کا نظریہ ٹھیک ہے تو اسے قبول کر لیا جاتا ہے لیکن پھر بھی اس میں مزید بہتری کی گنجائش شامل رہتی ہے۔

عام زندگی میں عالم اس شخص کو کہتے ہیں جو علم رکھتا ہو۔ علم کا مطلب جاننا اور آگاہی ہے چاہے وہ کسی بھی چیز کے بارے میں ہو۔ عالم کی تعریف جو ہمارے پاکستانی معاشرے میں رائج ہے وہ یہ ہے کہ ہم عموماً مذہبی رہنما کو ہی عالم کہتے ہیں۔ بہت کم ہوتا ہے کہ اسے مکمل نام کے ساتھ عالم دین لکھا جائے۔ یہ علماء کرام بھی اپنے نام کے ساتھ بے شمار سابقے لاحقے لگا کر نام کافی وزن دار بنا لیتے ہیں۔ مختلف ادوار میں مختلف چیزوں کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں۔

کسی وقت میں پڑھا لکھا صرف اس انسان کو کہا جاتا تھا جو اپنا نام لکھ سکتا تھا اور شرح خواندگی میں ان لوگوں کو شامل کیا جاتا تھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ پھر پرائمری پاس کو پڑھا لکھا شمار کیا جانے لگا اور اس کے بعد پھر میٹرک پاس کو۔ ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں بہت ساری چیزوں کی تعریفیں مختلف ہو چکی ہیں۔ اب کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو شخص کمپیوٹر استعمال نہیں کر سکتا وہ پڑھا لکھا نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کمپیوٹر اور سمارٹ فون انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک بہت اچھا ذریعہ ہیں۔

لیکن پھر بھی مکمل یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پڑھے لکھے کی ڈیفینشن کے لیے کمپیوٹر کا علم ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ آج کے دور میں پڑھے لکھے شخص کے لیے اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کا استعمال جاننا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ شاید یہی وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں خود کو لوگ علماء کرام کہلوانے والے لوگ جو علم عوام کو دے رہے ہیں کیا وہ سائنس کی تعریف کے مطابق علم ہے۔ اگر یہ علم ہے تو اس کو سمجھنے، پرکھنے، تجربات سے گزرنے اور جدید وقت کے ساتھ اس میں بہتری کی گنجائش ہونی چاہیے جیسا کہ سائنس کے شعبہ میں ہے۔ اگر نہیں تو ان علماء کرام کو اپنے آپ کو تاریخ دان یا قصہ خواں کہلوانا چاہیے جو کہ صرف تاریخ یا قصوں کو دہراتے رہتے ہیں۔ عالم کہلوانے کے لائق صرف وہ شخص ہے جس کے علم اور تحقیق سے انسانیت کو فائدہ پہنچے۔

گوگل ٹرانسلیٹ کے مطابق اداکار اس شخص کو کہتے ہیں جس کا پیشہ سٹیج، ٹیلی ویژن اور فلموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنا ہو۔ اداکار کسی اور شخص کے لکھے ہوئے ڈائیلاگز کو اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور داد وصول کرتا ہے۔ اکثر اوقات اس اداکار کو ان الفاظ کر معنی اور مفہوم کا ادراک تک نہیں ہوتا۔ وہ رٹے رٹائے جملے بولتا ہے اور عوام سے داد و خراج وصول کرتا ہے اس کے پاس کسی اگلے سٹیج پر جا کر وہ اس سے ملتے جلتے ڈائیلاگ دوہراتا ہے اور عوام کو خوش کرتا ہے۔

دراصل اداکار کا کمال اس کی پرفارمنس ہوتی ہے۔ نہ تو وہ لکھے ہوئے الفاظ کو سمجھتا ہے نہ ہی اس کے مفہوم کی گہرائی تک جاتا ہے اور نہ ہی ان الفاظ کے معنی پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ اس کا کام تو یہ ہوتا ہے کہ ان الفاظ کو عوام کے پسندیدہ انداز میں ان تک پہنچا دینا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عوام بھی ان الفاظ کے معنی اور مفہوم پر غور و فکر نہیں کرتے بلکہ اداکار کی اداکاری سے محظوظ ہوتے رہتے ہیں۔ عوام جو انعامات و کرامات اداکار کو دیتے ہیں وہ بھی اس کی اداکاری کی داد اور تعریف ہوتی ہے نہ کہ ان الفاظ کا اثر ہوتا ہے۔ اگر الفاظ کا اثر عالم اور عوام پر ہوتا تو اس کے اثرات معاشرے میں واضح طور پر نظر آتے جیسا کہ سائنس کے اثرات آپ کو دنیا میں کھلی آنکھ نظر آ رہے ہیں۔

کچھ دن پہلے ایک دن جیو کے ساتھ پروگرام میں سہیل وڑائچ صاحب نے ایک شخص کا انٹرویو کیا جو اس وقت اپنے آپ کو عالم دین کہتا ہے۔ اس انٹرویو میں اس عالم دین صاحب کا بھائی بتا رہا تھا کہ میرے بھائی نے بہت محنت کی پہلے مزدوری کرتا رہا پھر ٹھیکہ پر زمین کاشت کرتا رہا مگر کامیاب نہ ہوا۔ لیکن جیسے ہی اس شعبے میں آیا اللہ نے اس کو بخت لگا دیا اور یہ اس وقت ملک کا کامیاب ترین آدمی ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ اس پورے انٹرویو میں کہیں بھی اس عالم دین صاحب کی تعلیم کا کوئی ذکر نہیں۔

سارے انٹرویو میں کہیں بھی کوئی ایسی بات نہیں کی گئی جس سے معلوم ہو کہ اس عالم دین نے کن اساتذہ کرام سے فیوض و برکات حاصل کی ہیں، کن مدارس سے اسناد حاصل کی ہیں اور کہاں کہاں تعلیم کے مدارج طے کیے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ محنت مزدوری اور زمینداری سے ناکامی کے بعد اس شخص نے یہ کاروبار اختیار کر لیا۔ ابن خلدون نے کہا تھا کہ دنیا میں بہترین کاروبار مذہب کی تجارت ہے۔ صرف وطن عزیز میں ہی ان لوگوں کو دیکھ کر یہ یقین ہو جاتا ہے کے واقعی ابن خلدون نے ٹھیک کہا تھا۔ ان تین الفاظ کے مطالب کو جاننے کے بعد بعد ملک کے موجودہ حالات میں ذرا اپنی نظریں دوڑائیں اور اپنے نیوٹرل دماغ سے سوچیں کہ کون علم والا ہے اور کون اداکار۔

مختصراً کہنے کا مقصد یہ ہے کہ علم رکھنے والے انسان اور اداکار میں واضح پہچان کر کے زندگی گزاریں کیونکہ یہاں علم والے بہت کم ہیں اور اداکار بہت زیادہ۔

Facebook Comments HS