امریکا خاموش کیوں ہو؟


مشرقی یروشلم کے قریب جبل المشارف میں واقع فلسطینی علاقہ شیخ جراح، تیرہویں صدی میں صلاح الدین ایوبی کے معالج شیخ جراح کے مقبرے کے نام پر رکھا گیا، یہ علاقہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان املاک کے تنازعات کا مرکز ہے، اسرائیلی قوم پرست 1967 سے فلسطینی آبادکاروں کو یہاں سے بے دخل کرنے کے درپے ہیں۔ اس مقصد کے لئے شیخ جراح کے اردگرد گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران اسرائیلی آبادکاری کی گئی ہے۔

یہ علاقہ ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنا ہوا ہے، جہاں فلسطینیوں کو ظلم و بربریت کا سامنا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ ایک 77 سالہ شخص نبیل الکرد اور 23 سالہ بیٹی مونا نے شیخ جراح میں ان کے نمائندے کو بتایا کہ فلسطینیوں کو جنگی جرائم کا سامنا ہے، یہ محض یہودیوں کی جانب سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا معاملہ نہیں رہا، اسرائیل کا اشتعال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، مگر معلوم نہیں پوری دنیا ہمارے ساتھ ہونے والے سلوک پر تماشائی کیوں بنی ہے، اسرائیل کو ایسا کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔

فلسطینی باپ، بیٹی کا سوال ہے کہ مئی کے آغاز سے ہی اسرائیلی فوج کی بھرپور جارحیت نے ان کی زندگیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، پرامن مظاہرین پر گولہ باری، اعصاب شکن بموں، واٹر کینن سے حملے کیے جاتے ہیں، علاقے سے جبری بے دخلی کے لئے اسرائیل کی کارروائیاں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ مگر اسے پوچھنے والا دنیا بھر میں کوئی نہیں۔

غزہ میں حالیہ جارحیت نے 2008، 2012 اور 2014 میں اسرائیلی اشتعال کی یاد تازہ کردی ہے، جنگ کی صورتحال ہم پر مسلط کردی گئی ہے، شیخ جراح میں صرف مظاہرین ہی نہیں بلکہ گھروں میں بیٹھے بچے اور بوڑھے بھی گولہ باری کا نشانہ بن رہے ہیں، ہرطرف دھواں اٹھتا، زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرتے اور چیخ و پکار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

کیا انسانیت کا مسیحا بننے والی سپرپاور جسے ہمیشہ دنیا میں ظلم و جبر پر قیادت سنبھالنا ہوتی ہے، اقوام عالم کو اپنے ساتھ ملاتا ہے، آج اپنے بغل بچے کی تباہ کاریوں پر آنکھ بند کر کے خاموشی اختیار کیے ہے۔ آج مسلمانوں کی آواز کے پیچھے اسی یہودی مخالف تحریک یا جنگ کا خوف دکھائی دے رہا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کے لئے پہلی آزمائش آئی، وہ ابھی تک اسرائیلی قیادت کو کھل غیرانسانی کارروائیاں بند کرنے کا نہیں کہہ پائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اپیل پر دنیا بھر میں مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں امریکی صدر اور وزیرخارجہ کے نام خط لکھے جا رہے ہیں جس میں انہیں کہا جا رہا ہے کہ فوری کارروائی کریں اور اسرائیل جارحیت اور نا انصافی پر مبنی اقدامات بند کرے۔ فلسطینیوں کے خلاف چلائے جانے والا پرتشدد سلسلہ روکا جائے، ورنہ عالمی برادری بڑی قوتوں اور بین الاقوامی اداروں کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور ہو جائے گی۔

امریکا اسرائیل سے کہہ دو، جارحیت بند کرے اور فلسطینیوں کو چھوڑ دے۔

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar