امریکہ کے صیہونی عیسائی، یہودی صیہونیوں کی حمایت کیوں کرتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے لئے یروشلم مشترکہ طور پر مقدس ہے لیکن امریکی ایوینجیلیکل عیسائیوں ( Evangelical Christians ) میں اس کا تقدس شدت کی حدوں کو چھوتا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے بیشتر مشیران ایوینجلیکل فرقہ سے تعلق رکھتے تھے، ریپبلکن پارٹی میں تاریخی طور پر اس شدت پسند فرقہ کی اکثریت رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے دنیا بھر کی تنقید کے باوجود امریکہ کے سفارت خانہ کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کر کے اپنی پارٹی کے کارکنان کے دلوں کو گرما دیا تھا۔

سفارت خانہ کی افتتاحی تقریب میں عیسائی شدت پسند مبلغ جوہن ہاگی ( John Hagee ) کو خاص طور پر خطاب کے لئے دعوت دی گئی تھی۔ اکثر افراد امریکی ایونجیکلز کے یروشلم سے جذباتی لگاؤ سے واقف نہیں ہیں، اسی لئے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے کہ اردو پڑھنے والے بھی ایونجیلیکلز کے نظریات سے آگاہ ہو سکیں۔ امریکی شدت پسند فرقہ کا یروشلم سے لگاؤ کا ایک نظریاتی اور مذہبی پس منظر ہے۔ ان شدت پسند عیسائیوں کی نظر میں یروشلم تاریخ کے انجام کا دوراہا ہے۔

تمام عیسائی فرقے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی کا ظہور یروشلم میں ہوگا لیکن دیگر فرقوں نے اس نظریہ کا سیاسی استعمال صدیوں قبل ترک کر دیا تھا۔ ایونجیلینز فکر کے مطابق حضرت عیسی کا ظہور ایسے یروشلم میں ہوگا جو یہودی انتظامیہ کے ماتحت ہوگا۔ ان کے نظریہ کے مطابق امام مہدی کا بھی ظہور اسی وقت ہوگا لیکن یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہوں گے اور ان کے درمیان ارماگیڈون کے علاقے میں گھمسان کی جنگ ہوگی، شمال یعنی روسی آرتھوڈکس چرچ بھی حضرت عیسی کے خلاف اس جنگ میں شریک ہوگا۔

اس جنگ میں بہت خون بہے گا۔ اس خونریزی کے بعد اکثر یہودی عیسائی مذہب اختیار کر لیں گے۔ ان کی پیش گوئیوں کے مطابق حضرت عیسی کے ظہور سے پہلے موجودہ مسجد اقصی کا مسمار ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ یہ پہلے یہودی معبد تھا جسے کبھی بابی لون والوں نے مسمار کیا تھا، یہ دوبارہ بنا تو رومیوں نے اسے مسمار کر کے اس کے اوپر جسٹانین چرچ بنا ڈالا پھر مسلمان خلیفہ الولید اول نے اس جگہ مسجد اقصی تعمیر کردی۔ شدت پسند عیسائیوں کے مطابق حضرت عیسی کی آمد اس مسجد کے مسمار ہونے کے بعد ہی ہوگی۔ سن 2017 میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق اسی فیصد ایونجلینز سمجھتے ہیں کہ ریاست اسرائیل کا قیام بائبل کی پیش گوئی کے مطابق تھا۔

جون 2020 میں عیسائی صیہونی تنظیم ( Christians United for Israel ) نے ایک آن لائن بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی تھی۔ اس کانفرنس میں اسرائیلی صدر ریون ریولین، امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومیو اور بہت سے ری پبلکن سینیٹرز نے شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں ایران کے فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر امریکہ کا خاص طور سے شکریہ ادا کیا گیا تھا۔

ریپبلکن پارٹی سے وابستہ ایونجیلز عیسائی یہودی ریاست کی قتل عام جنگ کو بھڑکانے میں بھرپور حمایت کرتے ہیں تاکہ ان کے نظریات کے مطابق اس سرزمین پر ایک بہت بھیانک جنگ برپا ہو جس کے بعد حضرت عیسی کا دنیا پر حکمرانی کا ہزار سالہ دور شروع ہو سکے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ مذہب کے نام پر یہ دنیا مزید کتنی وحشتوں اور خونریز یوں سے گزرے گی۔

اس مضمون کو لکھنے میں، واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائم میں شائع ہونے والے مضامین سے مدد لی گئی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments