سیاسی بغاوت


جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں نے اپنی ہی جماعت یا حکومت کے خلاف جو سیاسی بغاوت کی ہے وہ فطری امر ہے۔ کیونکہ جب سیاست عملی طور پر طاقت، اقتدار اور ذاتی مفادات کے تابع ہوگی تو ہمیں سیاسی طاقت ور گروپوں کی جانب سے اس انداز کی سیاسی بلیک میلنگ کی جھلکیاں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں۔ طاقت کے یہ مراکز عمومی طور پر اپنی اپنی جماعتوں اور قیادت پر اپنا سیاسی دباو بڑھا کر اپنی مرضی کے فیصلوں کی سیاست کرتا رہتا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارا سیاسی نظام، سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادتیں اپنی ہی جماعتوں میں ایسے طاقت ور گروپوں کے ہاتھوں سیاسی یرغمالی کا شکار رہتی ہیں۔ جہانگیر ترین کے بیشتر ساتھی تحریک انصاف کا حقیقی چہرہ نہیں بلکہ یہ لوگ بھی تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاست کا حصہ محض اقتدار کی سیاست کے لیے جڑے تھے۔ اب جب یہ ہی گروپ اپنی سیاسی بغاوت دکھا رہا ہے تو اس کے پیچھے بھی اصل وجہ کوئی سیاسی اصول یا سچائی کی جنگ نہیں بلکہ اقتدار یا طاقت کے کھیل کی جنگ ہے۔

جہانگیر ترین کی اس سیاسی بغاوت سے ایک بات تو یہ ثابت ہو گئی کہ ان اور ان کے ساتھیوں کی وزیر اعظم عمران خان پر دباو ڈالنے یا ان کو سیاسی بلیک میلنگ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ بہت سے سیاسی پنڈتوں کا تجزیہ تھا کہ عملی طور پر موجودہ سیاسی صورتحال جہاں حکومت کمزور وکٹ پر عددی تعداد میں بہت کم برتری پر قائم ہے اسے جہانگیر ترین کے ساتھ کوئی نہ کوئی سیاسی سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ ان پنڈتوں کے بقول وزیر اعظم عمران خان اپنی ہی مرکزی یا پنجاب حکومت کے خلاف کسی بڑی مہم جوئی کا ساتھ نہیں دیں گے۔

لیکن فی الحال وزیر اعظم نے جہانگیر ترین کی حمایت میں کسی بھی سیاسی سمجھوتے سے انکار کر دیا ہے۔ جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں کی تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی فاصلے اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ واپسی کے امکانات بہت محدود ہیں۔ جہانگیر ترین کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کی تقرری کے اعلان کو بھی وزیر اعظم عمران خان نے سخت ناپسند اور سیاسی طور پر ان کو بلیک میلنگ سے جوڑا ہے۔ ان کے بقول وہ وہ اپنے خلاف تنقید تو برداشت کر سکتے ہیں، مگر ان کو بلیک میل کرنا ممکن نہیں۔

اگرچہ جہانگیر ترین گروپ نے اپنی سیاسی بغاوت کے باوجود عمران خان یا حکومت کے لیے سیاسی دروازہ کھلا رکھا ہے۔ ان کے بقول وہ کسی بھی صورت میں نہ تو عمران خان کے خلاف ہیں اور نہ ہی حکومت کو غیر مستحکم یا گرانا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول میرے اور میرے ساتھیوں کے خلاف پنجاب کی حکومت انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے ہم اس پر اپنی آواز قومی اور صوبائی سطح پر اٹھاتے رہیں گے۔ یعنی عملی طور پر انہوں نے تحریک انصاف کو فی الحال نہیں چھوڑا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جو کچھ وہ اور ان کے ساتھی کر رہے ہیں اس کے بعد ان کی تحریک انصاف میں سیاسی ساکھ اور حیثیت بالخصوص وزیر اعظم عمران خان کے لیے مشکلات پیدا کرنا اور ایسی قوتوں کو مستحکم کرنا جو حکومت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں پر کہاں کھڑی ہوگی۔ ایک سوال یہ بھی زیر بحث ہے کہ جہانگیر ترین گروپ نے جو عملی بغاوت کی شکل پیدا کی ہے اس کے پیچھے کون ان کی عملی سرپرستی کر رہا ہے۔ جہانگیر ترین کے ساتھ زیادہ تر لوگ جنوبی پنجاب سے ہیں اور یہ لوگ طاقت کے مراکز کے ساتھ ہی ہوتے ہیں اور اگر ایسا ہے تو کیا وہ واقعی عمران خان حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس طرح کے گروپوں کی سیاسی سرپرستی کی ایک بڑی وجہ حکومت پر دباو ڈال کر اپنی مرضی کے فیصلے کرنا یا حکومت پر دباو کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

جہانگیر ترین جو کچھ کر رہے ہیں یہ خود وزیر اعظم عمران خان کے لیے بھی ایک بڑا سیاسی سبق ہے۔ کیونکہ انہوں نے جس انداز میں ان کی بے جا حمایت یا ان پر جو بہت زیادہ سیاسی انحصار کیا اس کا نتیجہ ان کی پارٹی کی کمزوری اور سیاسی لوگوں کے مقابلے میں الیکٹ ایبلز پر حد سے زیادہ انحصار کرنا بھی تھا۔ یہ موسمیاتی سیاست دان کسی بھی جماعت کے لیے نہ کل وفادار تھے اور نہ آج۔ ان میں سے بیشتر لوگ وہ ہیں جن کو حکومت کی جانب سے کسی عہدہ کا نہ ملنا، ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی اور حکومت کی جانب سے بے جا حمایت کا نہ ملنا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ان کو محض غصہ جہانگیر ترین کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے آپ کو حکومتی سطح پر نظرانداز کرنے کی پالیسی سے بھی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہم جہانگیر ترین کا کندھا استعمال کر کے اپنے حق میں مفاد کی سیاست کو تقویت دے سکتے ہیں اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حکومت کی حمایت جاری رکھ سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں کو حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے ترقیاتی فنڈز بھی ملے ہیں۔

کچھ لوگ یہ منطق دے رہے ہیں کہ جہانگیر ترین کی سیاسی بغاوت کے بعد حکومت کا مستقبل مخدوش ہے۔ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اس گروپ کی عدم حمایت کی بنیاد پر دونوں جگہوں پر حکومت اپنی حمایت کھو چکی ہے۔ حزب اختلاف اور جہانگیر ترین گروپ جب چاہیں اس حکومت کو مرکز اور پنجاب میں شکست دے سکتے ہیں۔ یہ بات عددی تعداد کے تناظر میں درست لگتی ہے، لیکن کیا واقعی حکومت کو گھر بھیجنے کا سیاسی فیصلہ ہو گیا ہے۔ کیا اسٹیبلیشمنٹ اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان فاصلے اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ حکومت کا جانا ٹھر گیا ہے۔ فی الحال ایسا ممکن نظر نہیں آتا اور نہ ہی جہانگیر ترین گروپ ایسی کسی مہم جوئی کے لیے فوری طور پر تیار ہے۔ اس گروپ کی کوشش ہوگی کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں حکومت یا عمران خان سے مفاہمت کا راستہ کھولیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ فوری طور پر اس گروپ نے بجٹ میں بھی حکومت کی عملی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ موجودہ صورتحال میں جہانگیر ترین گروپ اور حزب اختلاف کی جماعتوں میں کس حد تک سیاسی رومانس بڑھتا ہے۔ کچھ دن قبل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کا دعوی تھا کہ جہانگیر ترین گروپ ان سے رابطوں میں ہے۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ جہانگیر ترین کی سیاسی بغاوت کے بعد حکومت کی رخصتی کا فوری امکان بڑھ گیا ہے وہ درست نہیں۔ البتہ حکومت پر یقینی طور پر دباو بڑھے گا اور خود پارٹی کے اندر سے بھی ایک گروہ وزیر اعظم پر دباو ڈالے گا کہ مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے۔

یہ بات بھی کافی حد تک نظر آتی ہے کہ اگلے انتخابات میں جہانگیر ترین گروپ کی سیاسی پوزیشن بشمول پارٹی ٹکٹ کے اجرا کے حوالے سے بھی اس گروپ کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان میں سے بیشتر لوگ شاید پارٹی ٹکٹ بھی حاصل نہ کرسکیں۔ یہ خبریں بھی موجود ہیں کہ راجہ ریاض سمیت کئی ارکان اسمبلی کی پس پردہ مسلم لیگ نون سے مفاہمت ہو گئی ہے اور یہ لوگ اگلا انتخاب مسلم لیگ نون کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے۔ اسی طرح سے اب نئی صورتحال میں سوشل میڈیا پر جو تحریک انصاف کا طبقہ جو بڑی شدت کے ساتھ جہانگیر ترین پر تنقید کر رہا ہے تو اسے پارٹی میں موجود نظریاتی یا پرانے لوگوں کو بھی حوصلہ ملا ہے کیونکہ ان پرانے لوگوں کا موقف ہے کہ جہانگیر ترین نے عملی طور پر پارٹی کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔

اس لیے تحریک انصاف بطور جماعت کے اندر سے بھی جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کو کافی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جہانگیر ترین کا یہ نقطہ کہ وہ حکومت بنا بھی سکتے ہیں اور حکومت کو گرانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کا تحریک انصاف میں مستقبل کو مخدوش کرے گا۔ ویسے بھی حکومتوں کو گرانا اور بنانے کے عمل جہانگیر ترین یا اس طرح کے مزید طاقت ور گروپس کسی بڑی پس پردہ حمایت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے اور یہ بات خود جہانگیر ترین کو بھی معلوم ہے کہ وہ تن تنہا حکومت کو گرانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بہرحال حکومت، تحریک انصاف، وزیر اعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان سیاسی آنکھ مچولی کا کھیل فی الحال ختم نہیں ہوگا، یہ جاری رہے گا، البتہ بڑا نقصان جہانگیر ترین کو ہی ہوگا۔

Facebook Comments HS