ماں کے ہاتھ کا شیرخرما – ایک عام لڑکی کی ڈائری ( 5 )۔


مورخہ 14 مارچ 1993 بروز پیر
پیاری ڈائری
عید مبارک

آج کہنے کو عید کا دن ہے لیکن میں بہت اداس ہوں۔ مجھے کبھی کبھی اس بات پہ بہت رونا آتا ہے کہ امی ابو عام دنوں میں تو لڑتے ہی ہیں کسی تہوار کے دن بھی ہمارے گھر میں خوش گوار ماحول نہیں رہ پاتا۔

رکو شروع سے بتاتی ہوں ورنہ تمہیں بات سمجھ نہیں آئے گی۔ آج صبح صبح ابو اور راحیل تو تیار ہو کر عید کی نماز کے لیے چلے گئے۔ میں اور امی باورچی خانے میں آ گئے۔ ایک تو میرا موڈ رات سے ہی خراب تھا اس عید پہ بھی امی نے نئے کپڑے بنوا کے دینے کی بجائے وہی سوٹ پہننے کا کہہ دیا جو رجب میں کزن کی شادی پہ بنوایا تھا۔ پھر کہنے لگیں کسی نے نہیں دیکھا ان کے لیے نیا ہی ہوگا۔ لو بھلا کیسے نہیں دیکھا؟ سارا خاندان تھا وہاں، بس محلے والے نہیں تھے۔

اور تائی امی تو دو سال پہلے دیکھے کپڑے بھی پہچان لیتی ہیں اور بھرے مجمعے میں ٹوک بھی دیتی ہیں۔ ہماری امی کو تو لگتا ہے سمجھ ہی نہیں آتا اس شادی پہ بھی امی کو ٹوک دیا تھا۔ کہ ”شمع یہ تو وہی سوٹ ہے ناں جو عید میلاد النبی پہ اپنے گھر میلاد میں پہنا تھا تم نے۔ بھئی یہ کپڑا اس موسم میں کہاں پہنا جاتا ہے۔ نیا ہی سلوا لیتیں ابھی ایسی کیا عمر نکلی جا رہی ہے۔ سلیقے سے رہا کرو۔ زمانہ بدل رہا ہے۔“

مجھے ان کی بات تو پوری سمجھ نہیں آئی لیکن لہجہ بہت برا لگا تھا۔ وہ کون ہوتی ہیں میری امی کو ایسے کہنے والی۔ خود کے تو نئے کپڑے بھی اتنے برے ہوتے ہیں کیا بتاؤں۔ میری امی تو پرانے سوٹ میں بھی ان سے تو اچھی ہی لگ رہی تھیں۔

لیکن سچ بتاؤں جب امی ڈانٹتی ہیں تو بالکل اچھی نہیں لگتیں۔ اور آج تو بالکل نہیں لگ رہیں۔ اتنا غصہ آ رہا ہے مجھے امی ابو پہ۔

بھلا بتاؤ عید کے دن کوئی کچن کی صفائیاں کرتا ہے۔ زلیخا بتا رہی تھی اس کی امی اس سے بالکل کام نہیں کرواتیں وہ عید پہ تیار ہو کے سارے کزنز کے ساتھ گھومنے چلی جاتی ہے۔ کتنا مزہ آتا ہوگا ناں۔ ایک ہم ہیں اوپر شگفتہ پھپھو کے پورشن میں بھی جانے کی اجازت نہیں ملتی۔ یہی طعنہ ملتا ہے کہ بڑی ہو رہی ہو سلیقہ سیکھو۔ تو کیا صرف میں بڑی ہو رہی ہوں؟ راحیل بھی تو بڑا ہو رہا ہے اس پہ تو کوئی ذمہ داری نہیں، نماز سے آ کر بھی وہ دوستوں کے ساتھ شہر میں گھومنے نکل گیا۔

اور میں لگی ہوئی تھی باریک باریک بادام پستے کترنے میں، یار عید کے دن کچن کے کام کی چھٹی کیوں نہیں ہوتی بلاوجہ اتنے سارے پکانے کے شوق پالے ہوئے ہیں امی والوں کی قوم نے، نہ خود عید انجوائے کرتی ہیں نہ ہمیں کرنے دیتی ہیں۔

اس پہ بھی ابو والوں کی قوم خوش نہیں ہوتی۔ ایک تو آتے ہی شیر خرما مانگنے لگے امی مجھ پہ چیخنے لگیں کہ یہ لڑکی ہر کام سستی سے کرتی ہے۔ حالاں کہ میں پہلی دفعہ ڈرائے فروٹ کتر رہی تھی میرا تو ہاتھ بھی نہیں چل رہا تھا کہ انہیں کترتے کیسے ہیں جب ہاتھ سیٹ ہوا اتنے میں ابو اور راحیل آ گئے تھے اور شیر خرما شیر خرما کرنے لگے۔

گھبراہٹ میں میرا انگوٹھا بھی کٹ گیا مگر امی ابو آپس میں بحث میں اتنے مشغول تھے انہیں میرے انگوٹھے سے بہتا خون اور آنکھوں سے بہتے آنسو دونوں نظر نہیں آئے۔

ابو وہی ہزار بار کی دہرائی ہوئی باتیں دوبارہ کیے جا رہے تھے تم لوگ گھر میں کر کیا رہی تھیں۔ صرف شیر خرما تک نہیں بنتا تم سے۔ گھر بھی الٹا پڑا ہے اب تک نہ خود میں سلیقہ ہے نہ بیٹی کو سکھایا۔

مجھے لکھتے ہوئے بھی غصہ آ رہا ہے۔ یعنی ابو کو لگتا ہے شیر خرما بغیر محنت بن جاتا ہے؟ اور صبح باورچی خانے میں گھستے ہی جیسے سب سیٹ ملتا ہے۔ پہلے کتنا سمیٹنا پڑتا ہے۔ رات اتنی دیر تک کام کیا تھا صبح آدھی نیند سے پھر اٹھنا پڑا امی نے تو شاید اسی لیے رات میں بی پی کی گولی بھی نہیں کھائی تھی۔ اور جب وہ بی پی کی دوا نہ کھائیں تو بھی میری ہی شامت آتی ہے بی پی ہائی ہوتا ہے تو وہ بھی مسلسل غصے میں رہتی ہیں۔ اور چیختی رہتی ہیں۔

یار میں بہت کوشش کرتی ہوں کہ امی ابو کو تنگ نہ کروں کہ ان کا موڈ بگڑ جائے مگر میں بھی کوئی تجربے کا بندر تو نہیں ناں کہ وہ دونوں اپنا اپنا غصہ مجھ پہ اتار دیں۔ راحیل تو اب ان کے ہاتھ ہی نہیں آتا۔

افف کہاں کی بات کہاں پہنچ گئی خیر جلدی جلدی شیرخرما بن گیا ابو نے نیاز دی۔ تب جا کے انہیں خیال آیا کہ برخوردار تو ہیں ہی نہیں جو ساتھ شیرخرما کھاتے۔ ابو نے شیرخرما چکھا اور جنگ کا پہلا تیر چلا دیا۔

”اماں جیسا نہیں بنا“

ابو کی پتا نہیں یہ عادت کیوں ہے۔ امی اچھا خاصہ کھانا پکاتی ہیں بلکہ مجھے اور راحیل کو تو بس امی کے ہاتھ کا کھانا ہی پسند ہے لیکن جب بھی امی کوئی خاص چیز بناتی ہیں ابو تعریف کی بجائے یہی کہہ دیتے ہیں۔ شیرخرما بھی محلے میں سب سے اچھا امی کا ہوتا ہے۔ بلکہ عید کے چوتھے دن دوبارہ پکتا ہے تاکہ ابو آفس والوں کے لیے لے جائیں۔

بقول ابو شگفتہ پھپھو بالکل دادی جیسا کھانا پکاتی ہیں لیکن مجھے تو ان کا کھانا بالکل پسند نہیں آتا۔

مجھے پتا ہے ابو جھوٹ نہیں بولتے ایسا بھی نہیں کہ انہیں امی کے ہاتھ کا کھانا پسند نہ ہو مگر ایسا لگتا ہے جیسے وہ اس ردعمل سے خود کو روک نہیں پاتے۔ میں نے نوٹ کیا ہے جب خاص طور سے ابو کی پسند کا کوئی سالن بنے ابو بہت رغبت سے نکالنا شروع کرتے ہیں اور پہلا نوالہ لیتے ہیں وہ رغبت ایک دم مایوسی میں بدل جاتی ہے۔

آج بھی شاید یہی ہوا لیکن اس کے بعد جو جھگڑا ہوا اس نے پورا دن برباد کر دیا۔ امی کا مزاج پورا دن خراب رہا۔ کپڑے تو انہوں نے بدل لیے لیکن چہرے پہ تناؤ فوراً نظر آ رہا تھا۔ بی پی بھی شاید ہائی ہو گیا تھا۔ اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کے اس کے بعد کچن کا ہر کام میں نے کیا۔ قورمہ تو امی نے کل ہی پکا لیا تھا اتنی گرمی میں چپاتیاں بھی مجھ سے پکوائیں۔

چلو بس اب مجھے نیند آ رہی ہے۔ لیکن غصہ اتنا آ رہا تھا کہ تم سے نہ کہتی تو پوری رات روتی رہتی۔
شب بخیر پیاری ڈائری
فقط تمہاری دوست فرخندہ

جمعرات 13 مئی 2021
پیاری ڈائری

اس دفعہ عید پہ ویسے تو سارا دن اسی طرح گزرا جیسے گزرتا ہے لیکن کچھ ایسا ہوا جس نے مجھے اپنی پرانی ڈائریز نکال کے عید والے دن کی ڈائری پڑھنے پہ مجبور کر دیا۔ اور اب یہ ڈائری لکھنے پہ بھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہزار ذہنی ہم آہنگی ہونے کے باوجود ریاض کو بھی میرے کھانوں سے وہی شکایت ہے جو ابو کو امی کے کھانوں سے ہوتی تھی۔ یعنی اچھا ہے لیکن امی جیسا نہیں ہے۔ شادی کے فوراً بعد تو خیر بہت تعریفیں ہوتی تھیں۔ ویسے بھی تب کھانا کبھی میں کبھی ساس بنا لیتی تھیں۔ پھر ان کی طبیعت خراب رہنے لگی تو سارے کچن کا کام ہی مجھ پہ آ گیا تب ریاض کی شکایتیں شروع ہوئیں۔ پہلے تو میں چپ ہوجاتی تھی۔ پھر جب آہستہ آہستہ ذہنی ہم آہنگی بڑھی تو بحث بھی کر لیتی تھی۔

کئی بار سمجھایا کہ دو الگ گھروں میں کھانے پکانے کے طریقے الگ ہوتے ہیں۔ تو کہتے پھر سیکھ لو امی کا طریقہ، وہ بھی سیکھ لیا پھر بھی شکایت وہیں کی وہیں۔ کئی دفعہ تو یہ تک بتایا کہ ہر کچھ عرصے بعد خاص طور سے عمر بڑھنے کے ساتھ ہماری زبان چیزوں کے ذائقے الگ طرح سے محسوس کرتی ہے۔ ایسے میں چڑ جاتے کہ فرخندہ بیگم کھانا صحیح نہیں پکانا مت پکاؤ مگر مجھ پہ اپنی سائنس نہ جھاڑو۔ پھر ظاہر ہے بلاوجہ بدمزگی سے بچنے کے لیے میں نے بحث ہی چھوڑ دی۔

ہاں تو میں بات کر رہی تھی اس دفعہ عید کی۔ ریاض کے دماغ میں پتا نہیں کیا سمائی ساس صاحبہ سے فرمائش کردی کہ اس دفعہ شیر خرما آپ ہی بنائیں فرخندہ صرف آپ کی مدد کردے گی۔ وہ بچاری بھی بیٹے کی محبت میں گرمی میں کچن میں کھڑی ہو گئیں۔ جیسے تیسے شیر خرما تو پک گیا مگر ریاض نے کمال کر دیا۔ انہیں یہ شیر خرما بھی پسند نہیں آیا۔ کہنے لگے امی آپ کے ہاتھ میں بھی اب وہ ذائقہ نہیں رہا۔ امی بچاری کچھ دیر پریشان صورت بنائے کھڑی رہ گئیں پھر کہہ ہی دیا کہ بیٹا تمہارے ہی کہنے پہ اس بڑھاپے میں اتنی محنت کی ورنہ تمہیں پتا ہی ہے کہ باورچی خانے کا کام چھوڑے کتنے عرصہ ہو گیا۔

شاید ریاض کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو ہی گیا تو فوراً معذرت کرلی بات آئی گئی ہوگی۔

خیر اصل مزے کی بات تو اب بتاؤں گی۔ ہمارا رات کا کھانا ریاض کی بڑی بہن کے گھر تھا لیکن ہم جلدی ہی پہنچ گئے مرد سارے ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے خواتین ساری کچن میں آ گئیں بڑی باجی تیاریاں کر ہی رہی تھیں دعوت کی۔ شیر خورمے کا کام انہوں نے مجھے سونپا، بریانی وغیرہ پہ دم کی ذمہ داری ریاض کی چھوٹی بہن رقیہ کی لگا دی گوشت وہ پہلے پکا چکی تھیں۔ دیورانی اور انہوں نے مل کر کباب تلنے شروع کر دیے۔ کھانا لگا اور ہمارے میاں نے لطیفہ ہی کر دیا۔

شیر خرما کھاتے ہی فرمانے لگے واہ بڑی باجی آج مزہ آ گیا آج آپ نے بالکل امی جیسا شیر خرما بنایا ہے۔ اس وقت تو سب ہنس بھی لیے اور ریاض کا مذاق بھی اڑا لیا لیکن میں تب سے سوچے جا رہی تھی کہ شام کے شیر خورمے میں ایسا کیا تھا جو صبح والے میں نہیں تھا۔ جس نے ریاض کو بچپن والے شیر خورمے کی یاد دلا دی۔ اور یہ لکھتے لکھتے شاید مجھے حقیقت کا ادراک ہوا۔ بچپن میں جس ذائقے کے ہم دیوانے ہوتے ہیں وہ صرف مرچ مصالحوں کا نہیں ہوتا۔

کہیں نہ کہیں اس ذائقے میں بچپن کی معصومیت، گھر والوں کے ساتھ کی خوشی، بے فکری ذمہ داریوں سے آزادی کا احساس ملا ہوتا ہے۔ میں نے ایک دفعہ کسی ریسرچ میں پڑھا تھا کہ جب ہم اپنے پسندیدہ لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو زیادہ کھانا کھاتے ہیں اور کھانا بہتر ذائقہ دیتا ہے۔ تم بتاؤ پیاری ڈائری کیا میرا اندازہ صحیح ہے یا میں آخر کار ساس صاحبہ جیسا کھانا سیکھ ہی گئی۔

چلو آج کی بات ختم اب دوبارہ پتا نہیں کب موقع ملے۔ اللہ حافظ
فقط تمہاری دوست فرخندہ

Facebook Comments HS

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 115 posts and counting.See all posts by absar-fatima