EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

حماس فلسطینی ریاست کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حماس لیڈر اسماعیل ہانیہ نے اسرائیل کے ساتھ 11 روزہ جنگ کو اپنی شاندار فتح قرار دیا ہے ۔ دوسری طرف اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے جنگ بندی کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ پر تازہ ترین حملوں کو اسرائیل کی فتح قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیاکہ ’حماس کو بھی اندازہ نہیں ہے کہ اسے کس قدر نقصان پہنچایا گیا ہے‘۔ غزہ اور فلسطینی علاقوں میں جنگ بندی پر خوشی کے مظاہر دیکھنے میں آئے جبکہ اسرائیلی شہریوں اور اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے جنگ بندی کو اسرائیلی حکومت کی کمزوری قرار دیتے ہوئے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس دوران پاکستان میں جمعہ کے روز فلسطین کے ساتھ یوم یک جہتی منایا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب فلسطین آزاد مملکت کے طور پر سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب عالمی رائے عامہ تبدیل ہورہی ہے۔ سوشل میڈیا عوام کو حقیقی صورت حال سے آگاہ کررہا ہے۔ پہلی بار مغربی ممالک اور امریکہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز یں سننے میں آرہی ہیں۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کا دورہ کرنے والے شاہ محمود قریشی نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اب سوشل میڈیا کے ذریعے حقیقی معلومات سامنے آنے کی وجہ لوگوں کو درست تصویر دکھائی دینے لگی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مین اسٹریم میڈیا اسرائیلی مظالم کی پوری تصویر دکھانے سے گریز کرتا رہاہے لیکن ’اسرائیل اپنے تعلقات کے باوجود میڈیا کی جنگ ہار رہا ہے‘۔ اینکربیانا گولوڈریگا کے استفسار پر شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ’ اسرائیل کی ڈیپ پاکٹس ہیں۔وہ بہت بااثر لوگ ہیں، وہ میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں‘۔ اس بیان کو سی این این کی اینکر نے یہود مخالف بیان قرار دیا تھا۔

اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے حوالے سے دنیا کے رد عمل پر نظر ڈالی جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے اس حوالے سے سرگرم کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اعظم کے علاوہ شاہ محمود قریشی نے سخت بیانات کے ذریعے فلسطینیوں کے لئے علیحدہ ریاست کے حق میں بات کی اور اسرائیلی جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ اگرچہ باقی اسلامی دنیا کی طرف سے بھی غزہ میں اسرائیل کی یک طرفہ بمباری کی مذمت کی گئی اور اس کے فوری خاتمہ کا مطالبہ بھی کیا گیا لیکن اس مطالبے میں پاکستانی لیڈروں جیسی شدت دیکھنے میں نہیں آئی۔ پاکستانی قیادت کے اس رویہ کو دو پہلوؤں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک کا تعلق ملک کی داخلی صورت حال اور مسلسل بڑھتےہوئے سیاسی بحران سے ہے اور اس کا دوسرا پہلو اسلامی دنیا بالخصوص پاکستان میں اسرائیل مخالف جذبات اور یہودیوں کے بارے میں احساسات سے متعلق ہے۔

پاکستانی حکومت کی فلسطین حکمت عملی کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ  اسرائیل کی جارحیت کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایک جذباتی کیفیت کو تحریک انصاف کی قیادت نے عوام میں اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکومتی سطح پر گزشتہ دو ہفتوں کے دوران فلسطین کے حوالے سے خاصی سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ وزیر اعظم نے گزشتہ روز ہی بتایا ہے کہ انہوں نے شاہ محمود قریشی کو خاص طور سے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے لئے بھیجا تھا۔ نیویارک میں قیام کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ نے اقوم متحدہ کے اجلاس سے پہلے اسلامی تعاون تنظیم کے نمائیندوں کے اعزاز میں ڈنر کا اہتمام کیا تاکہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنائی جاسکے۔ گزشتہ ہفتے او آئی سی کے اجلاس میں بھی شاہ محمود قریشی نے پر زور تقریر کی تھی۔ پاکستانی قیادت کی اس حکمت عملی کو بھی دیگر شعبوں میں اس کے طریقہ کار کا پرتو کہا جاسکتا ہے کہ عملی نتائج نہ ہونے کے باوجود کامیابی کے دعوے کئے جاتے ہیں یا یہ بتایا جاتا ہے کہ حکومت اہم اہداف حاصل کررہی ہے۔ یہ صورت حال معیشت، بین الصوبائی تعلقات اور اپوزیشن کے ساتھ معاملات میں یکساں شدت سے محسوس کی جاسکتی ہے۔ اس دوران پہلے کشمیر اور اب فلسطین کے معاملہ پر سخت گیر رویہ اختیار کرکے عوام میں قبولیت حاصل کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کی گئی ہے۔

پاکستانی حکومت نے فلسطین کے حالیہ تنازعہ کے دوران جو رویہ اختیار کیا ہے، وہ عام طور سے عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک میں دیکھنے میں نہیں آتا۔ ایران اور قطر ضرور حماس کی حمایت کرتے ہیں اور اس بحران کے دوران ایران کے علاوہ ترکی نے بھی سخت اسرائیل مخالف مؤقف اختیار کیا تھا۔ مسلمان ممالک میں اسرائیل کے حوالے سے پائی جانے والی تقسیم سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی دنیا کسی بھی پلیٹ فارم پر مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے غیر متعلقہ ملک کی طرف سے شدید رویہ اختیار کرنے سے فلسطینی کاز کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچ سکتا البتہ پاکستانی قیادت اپنے عوام کو ضرور یہ باور کروا سکتی ہے کہ اس نے مسلمانوں سے متعلق ایک اہم مسئلہ پر سرگرم کردار ادا کیا ہے اور اس طرح وہ مسلسل سیاسی حمایت حاصل کرنے کی امید کرسکتی ہے۔ یہ پالیسی جزوی طور سے اس نفرت کی بنیاد پر اختیار کی جاتی ہے جو اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف پاکستان میں فروغ پاچکی ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالے سے ریاست اسرائیل کے جرائم کو یہودیوں کا قصور سمجھتے ہوئے ایک ایسی فضا پیدا کی گئی ہے جس میں یہودیوں کو انسانیت دشمن سمجھنا اہم سمجھا جانے لگا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ایک خاص عقیدہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خلاف براہ راست نفرت سمجھا جائے گا۔ اس نفرت کو فروغ دے کر نہ تو فلسطین کا مسئلہ حل کروایا جاسکتا ہے اور نہ ہی پاکستان میں مذہبی شدت پسندی جیسے اہم مسئلہ سے نمٹنے کا ماحول پیدا کرنا ممکن ہوگا۔

غزہ میں حماس اور اس کے ہم خیال عناصر بھی ایسا ہی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی لئے وہ اس وقت متفقہ دو ریاستی حکمت عملی کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ حماس کے لیڈر اسماعیل ہانیہ نے حالیہ جھڑپوں کے بعد ہونے والی جنگ بندی کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اس جنگ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کبھی بات چیت نہیں ہوسکتی۔ حماس کبھی بھی مذاکرات کے ذریعے اس تنازعہ کو حل نہیں کرنا چاہتی اور پالیسی کے طور پر اسرائیل کو ’نیست و نابود‘ کرکے فلسطینی علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ بحال کرنے کی بات کرتی ہے۔ پالیسی کے اسی اختلاف کی وجہ سے اس وقت فلسطینی تقسیم ہیں اور اسرائیل کے ساتھ معاملات طے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی حکومت کا دائرہ اختیار مغربی کنارے تک محدود ہے اور غزہ پر حماس قابض ہے۔ محمود عباس کی تنظیم الفتح بات چیت پر یقین رکھتی ہے اور اسرائیل کے ساتھ معاملات طے کرنا چاہتی ہے لیکن حماس بات چیت کے خلاف ہے۔ اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ دراصل خود حماس ہے۔

پاکستان بھی عالمی طور سے متفقہ دو ریاستی اصول کی حمایت کرتا ہے۔ جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران شاہ محمود قریشی نے اسی بنیاد پر مسئلہ فلسطین حل کرنے کی بات کی ہے۔ عقلی لحاظ سے یہی اصول قابل عمل بھی ہے۔ اسرائیل بھی اصولی طور پر اس حل کے لئے تیار ہے لیکن 2006 میں غزہ پر حماس کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے فلسطینی گروہ آپس میں ہی گتھم گتھا رہے ہیں اور علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کے سوال پر شدید اختلافات کی وجہ سے یہ معاملہ کسی حل کی طرف بڑھتا دکھائی نہیں دیتا۔ حماس کے لیڈر جب حالیہ تنازعہ کے بعد اپنی فتح کا اعلان کررہے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ حماس یا کوئی بھی فلسطینی گروہ کسی طور پر عسکری طور سے اسرائیل کا ہم پلہ ہے بلکہ اسے سیاسی تناظر میں ہی سمجھا جانا چاہئے۔ اسماعیل ہانیہ کے دعوے کا مقصد ہی یہ ہے کہ اس جنگ سے ان کے اس مؤقف کی تائید ہوئی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی بلکہ جنگ سے ہی فلسطین کو آزاد کروایا جاسکتا ہے۔

حماس اور ایران کی طرح اسرائیل کو ختم کر کے فلسطین قائم کرنے کے اصول کو ہی اگر واحد قابل عمل طریقہ کے طور پر قبول کیا جائے گا تو مستقبل قریب میں اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ حماس اور اس کے حامی ممالک یا عناصر کو اتنی عسکری قوت حاصل ہو جائے گی کہ وہ اسرائیل جیسی بڑی فوجی قوت پر فتح حاصل کرسکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ حماس کی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں فلسطینیوں کے مصائب میں اضافہ ہی ہوگا۔ بدقسمتی سے غزہ میں آباد 20 لاکھ فلسطینی اس وقت دوہری مشکل سے دوچار ہیں۔ ایک طرف اسرائیل نے اس علاقے کا محاصرہ کرکے وہاں کی آبادی کے لئے زندگی اجیرن کی ہوئی ہے تو دوسری طرف حماس جیسے گروہ نے اس علاقے پر قبضہ کرکے غزہ کے عوام کو عملی طور سے یرغمال بنایا ہؤا ہے۔ اور فلسطینی عوام کو تقسیم کرکے مسائل ، الجھنوں اور مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

اس پس منظر میں وزیر عمران خان کا یہ دعویٰ کہ عالمی رائے تبدیل ہونے کے بعد اسرائیل علیحدہ فلسطینی ریاست قائم کرنے پر مجبور ہوجائے گا، زمینی حقائق سے متصادم ہے۔ مغربی ممالک کی رائے عامہ ضرور فلسطینی عوام پر مظالم کو مسترد کرتی ہے اور اس حوالے سے اسرائیل کی مذمت بھی کی جاتی ہے لیکن حماس کے تشدد اور اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کے تصور کو بھی کوئی پزیرائی حاصل نہیں ہے۔ فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے پاکستان سمیت مسلمان ممالک اسی صورت میں کردار ادا کرسکتے ہیں اگر وہ حماس کے یک طرفہ جنگ جوئی کے طریقہ کو بھی مسترد کریں گے۔ فلسطینی آزادی اور حماس کے اہداف میں بعد المشرقین ہے۔ ان میں توازن تلاش کئے بغیر فلسطین کا تنازعہ حل کرنے کی کوئی عالمی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1907 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے