کیا ترین گروپ کے مسائل حل ہو گئے؟

جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے اراکین کی وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات کے دوران ہم خیال کے وفد میں سعید اکبر نوانی، نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ، عون چوہدری، عمر آفتاب، نذیر چوہان اور دیگر شامل تھے وفد نے وزیراعلیٰ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور وزیراعلیٰ نے وعدہ کیا کہ تمام تحفظات کا ازالہ کیا جائے گا جس پر ترین ہم خیال گروپ نے وزیراعلیٰ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ہم خیال ہونے کا بھی یقین دلا دیا۔ ملاقات کے بعد ترین گروپ کے اراکین کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سے جو بات ہوئی اس پر مطمئن ہیں۔ تو کیا واقعی ترین گروپ کے مسائل حل ہو گئے یا پھر بجٹ کی حد تک طفل تسلیاں دی گئی ہیں اس کا فیصلہ بجٹ کے بعد ہوگا۔

ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کے مسئلہ پر ایوان صدر میں ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں تین وزرا شریک تھے اور اس میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ بجٹ کی منظوری تک جہانگیر ترین کو رابطے میں رکھا جائے اور بجٹ منظوری کے بعد ترین سے راہیں جدا کرلی جائیں رہی بات گروپ کی تو اس کو کسی نا کسی طرح سنبھال لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم اس میٹنگ میں شریک نہیں تھے تاہم ان کو اعتماد میں لیا گیا اور طے ہو گیا کہ اب جہانگیر ترین کا تحریک انصاف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

طے ہو گیا کہ بجٹ کے بعد ترین اور اس کے ہم خیال گروپ کے لیے حالات مشکل ترین ہوجائیں گے لہذا جان کی امان اس کو ملے گی جو کپتان کے ساتھ غیر مشروط حمایت کا اعلان کرے اب دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ کے بعد کتنے جانثاران ترین ثابت قدم رہتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ اب ترین کے لیے معافی نہیں ہے لہذا اب اس کا شمار عام ترین انسانوں میں ہوگا

اور عام ترین انسان بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں انہوں عام انسانوں نے گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 70 ماتلی بدین کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو واضح برتری سے فتح دلائی۔ گو کہ یہ نشست 2018 میں بھی پیپلز پارٹی نے ہی جیتی تھی تاہم اس بار ضمنی الیکشن میں جیت کا مارجن بہت زیادہ تھا۔ اس فتح پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹ کیا کہ بدین بھٹو کا۔ ماننا پڑے گا کہ سندھ کی سیاست میں بھٹو کو مرکزیت حاصل ہے تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت کو چاہیے کہ وہ پنجاب کی سیاست پر بھی توجہ دیں۔ پنجاب میں پارٹی کا غیر فعال ہونا پارٹی اور ورکرز کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے اب بھی وقت ہے اگر پنجاب پر توجہ دی گئی تو آئندہ انتخابات تک بہتر نتائج مل سکتے ہیں مگر اس کے لیے پارٹی چیئرمین کو خود متحرک ہونا پڑے گا

متحرک تو ایک بار پھر مریم نواز ہوئی ہیں جب وہ شیخوپورہ میں ایم این اے میاں جاوید لطیف کے گھر اظہار یکجہتی کے لیے گئیں تو ورکرز کی ایک بہت بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر نواز شریف کے بیانیے کا پرچار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ نواز شریف کے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ اس کے بعد قانون متحرک ہوا اور انہوں نے نون لیگی رہنما جاوید ہاشمی کے گھر اور ان کی بیٹی کے سکول اور داماد کے کنٹرول شیڈ اور میرج ہال کی تعمیرات گرا دیں۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ان کے بنانے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔ خیر دیر سے سہی مگر سوئے ہوئے اداروں کی آنکھ تو کھل گئی ویسے اس عمل کو عوامی سطح پر پذیرائی نہیں مل سکی۔

تشویش ناک بات یہ ہے کہ مریم نواز شریف صاحبہ نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ سینٹرل لندن میں نون لیگ کے قائد نواز شریف پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی گئی ہے ان کے مطابق سینٹرل لندن میں ان کے بھائی حسن نواز کے دفتر میں چار نقاب پوش افراد نے گھسنے کی کوشش کی اس وقت آفس میں میاں نواز شریف، اسحاق ڈار، عابد شیر علی اور حسن نواز موجود تھے۔ گھسنے کی کوشش کرنے والے افراد میں سے ایک کے پاس اسلحہ بھی تھا۔ یہ ایک تشویشناک بات ہے اس واقعہ کی اطلاع پر لندن پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں امید ہے جلد اس وقوعہ کے متعلق کوئی مستند معلومات مل سکیں گی۔ بہرحال یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے

جون کی آمد کے ساتھ ہی بجٹ کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ سیکرٹری خزانہ کامران افضل کے مطابق بجٹ جون کے دوسرے ہفتے میں پیش کیا جائے گا۔ کورونا کے سبب معاشی سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں ایسے میں پیش ہونے والے بجٹ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کی معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے نئے ٹیکس لگانے سے گریز کرے اور کم آمدنی والے طبقے کو مدنظر رکھ کر بجٹ بنائے۔ گزشتہ دو سال میں پاکستان میں شرح غربت میں بے حد اضافہ ہوا ہے اور یہ معاشرے کے لیے تباہ کن ہے۔ ان حالات میں حکومت کی اولین ترجیح ایسا بجٹ ہونا چاہیے جو ہر سطح کے پاکستانی کے لیے قابل قبول ہو۔ اگر حکومت نے غریب کے متعلق نا سوچا تو بجٹ کے بعد شاید جہانگیر ترین کی طرح پاکستانی عوام کے حالات بھی مشکل ترین ہوجائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words