کلین شیو صوفی اور NED یونیورسٹی


این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی ایک پبلک یونیورسٹی ہے جو کراچی میں واقع ہے۔ یہ پاکستان کی ایک قدیم یونیورسٹی ہے۔ یہ پرنس آف ویلز انجینئرنگ کالج کے طور پر 1921 میں قائم کی گئی تھی۔ این ای ڈی کالج 1947 تک برطانوی راج کے دوران جامعہ بمبئی (جسے ممبئی یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے ) سے وابستہ رہا۔ آزادی کے بعد کراچی کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا اور پرانی کیمپس کے لئے جگہ کم تھی بعد میں کراچی کے تین پارسی المذہب زمینداروں (Nadir Shaw، edulgy، Din Shaw) نے ذاتی زمین عطیہ کی جس کی بدولت یونیورسٹی کا نام (NED) رکھا گیا۔ NED یونیورسٹی سے مختلف شعبوں میں اب تک ساٹھ ہزار سے زیادہ انجنیئرز گریجویشن کرچکے ہیں۔

بقول یاسر پیرزادہ آج کل کے صوفیا، اولیاء اور اللہ کے نیک بندے آپ کو تجربہ گاہوں، لیبارٹریوں، فلک بوس پہاڑوں، سمندر اور دریاؤں میں ملیں گے جو اللہ کی کائنات اور ذرے ذرے میں اپنی تحقیق اور سوچ سے انسانیت کی فلاح اور بہبود کے لئے دن رات مستغرق نظر آئیں گے۔ ایسا ہی ایک کلین شیو صوفی جنھوں نے 1969 میں NED یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ کی اور اگلے ہی سال یونیورسٹی آف کیلیفورنیا بارکلے سے سٹرکچر انجینئرنگ میں سپیشلائزیشن کی اور ساتھ ہی ساتھ مختلف ادوار میں سافٹ وئیر انجینئرنگ بھی کی۔

اس کلین شیو صوفی کا نام اشرف حبیب اللہ ہے۔ اشرف نے عمارتوں کی ڈیزائن کے لئے ETAB کے نام سے ایک سائٹ وئیر بنائی جس نے ساری دنیا میں تہلکہ مچایا اور تعمیراتی شعبے میں انقلاب برپا کیا۔ ETAB کی شہرت اور اہمیت کا اندازہ آپ اس بات لگا سکتے ہے کہ دنیا کی مشہور عمارتیں جیسے دوبئی کی برج خلیفہ، ورلڈ ٹریڈ سنٹر نیویارک ( 9 / 11 ) والا، سین فرانسسکو بے برج، سینٹانریو برج آف پانامہ کنال یہ ساری ETAB پر ڈیزائن ہوئی ہیں۔

دنیا کی تقریباً نوے فیصد سے زیادہ عمارتیں ETAB پر ڈیزائن ہوتی ہے اور یہ تقریباً 160 ممالک میں استعمال ہو رہا ہیں۔ پرانے زمانے میں ایک دس منزلہ عمارت ڈیزائن ہونے میں تقریباً دو یا تین مہینے لگ جاتے اور آج کل دس منزلہ عمارت تقریباً دو یا تین گھنٹے میں ڈیزائن ہوتi ہے۔ اللہ کے اس نیک بندے نے اب عمارتوں کو زلزلے، تیز ہواؤں اور آندھی سے محفوظ کیا اور یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی اور سرمایہ بہت حد تک محفوظ ہو گیا۔

اس کے علاوہ بھی اشرف حبیب اللہ نے SAP، CSI BRIDGE، CSI COL CSI PLANT کے نام سے بھی معرکتہ آلارا سافٹ ویئرز ڈیزائن کیے ہیں۔

دنیا کی مختلف یونیورسٹیاں اشرف کو مختلف سیمینار اور ورکشاپس کے لئے مدعو کرتا ہے، اور ساری دنیا میں انجینئرنگ سے متعلقہ تمام اعزازی ڈگریاں اور ایوارڈز وصول کرچکا ہے۔ مگر مملکت خداداد کا المیہ ملاحظہ کریں کہ ابھی تک اشرف حبیب اللہ کو کیسی ایک پاکستانی یونیورسٹی نے بھی مدعو کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

ٹیلنٹ اور فن کی نہ قدری میں مملکت خداداد کی ایک الگ تاریخ ہے۔ ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کو جوش ملیح آبادی اور امریتا پریتم کے ساتھ کیا گیا ناروا سلوک یاد ہوگا۔ جس بڑے غلام علی خان کو ہم نے دھکے مار کر بھگایا اسی بڑے غلام علی کا استقبال پنڈت نہرو نے خود کیا تھا۔ اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مقصد تھا کہ موجودہ حکومت یا سندھ حکومت کو چاہیے کہ اپنے مشہور درسگاہ NED کا صد سالہ جشن منائیں اور اشرف حبیب اللہ کو بطور سرکاری مہمان مدعو کر کے سرکاری اعزاز سے نوازے۔

Facebook Comments HS