قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سن 1966 میں برطانیہ نے ایران پر اپنا تسلط آہستہ آہستہ کم کرنا شروع کیا لیکن یہ تسلط امریکہ کو ساتھ ساتھ منتقل کیا جاتا رہا۔ برطانوی سامراج کی روش استعماری تھی جب کہ امریکہ کا طریقہ کار استکباری تھا۔ مشرق وسطی کی سیاسی، عسکری اور اقتصادی اہمیت کے پیش نظر امریکی استکبار در حقیقت اپنے لیے ایسا ملک چاہتا تھا جس کی مدد سے خطے میں اپنے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنا سکے اور اس کام کے لیے اس زمانے میں ایران بہترین انتخاب تھا۔ لہذا جیسے ہی ایرانی سرزمین پر امریکہ کا اثر و رسوخ مضبوط ہوا، امریکہ نے شاہ ایران کو خطے کا پولیس مین بننے کی پیش کش کر دی۔

دوسری طرف شاہ ایران انقلاب سفید کے نام پر جن کاموں کا وعدہ کر چکا تھا ان کے عملی ہونے کے لیے اسے امریکی مدد کی ضرورت بھی تھی۔ امریکہ نے تمام شعبہ جات میں اپنے ماہرین و مشاورین فراہم کرنے کی مشروط یقین دہانی کروائی، شرط یہ تھی کہ امریکی مشاورین کو ایران میں مکمل تحفظ حاصل ہوگا، ان کو ایران میں آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی، ایران کے اندر وہ کیا کچھ ساتھ لاتے ہیں اس کو چیک کرنے کا اختیار کسی کسٹم ادارے کو نہیں ہوگا، ایران کے اندر کسی بھی مقام پر جانے کے لیے مکمل آزادی حاصل ہوگی، کوئی امریکی اگر ایران کے اندر کوئی جرم کرتا ہے تو اس کا مقدمہ ایرانی عدالتوں میں نہیں بلکہ امریکی عدالتوں میں چلایا جائے گا۔

ان شرائط کے ساتھ ساتھ امریکہ نے شاہ ایران کو یہ بھی بتا دیا کہ اگر امریکہ شاہ کی حکومت کا ساتھ نہ دے تو کمیونسٹ تحریک غالب آ جائے گی اور شاہ اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ شاہ جو پہلے سے ہی کمیونسٹ تحریک سے شدید خوفزدہ تھا، اور انقلاب سفید کے نعروں کو ملک میں عملی بھی کروانا چاہتا تھا تھا لہذا فوراً امریکی شرائط کو قبول کر لیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم حسن علی منصور نے یہ قانون پہلے کابینہ میں پیش کیا جہاں اس کو قبول کرنا لازمی تھا لیکن چند وزرا نے اس قانون کی مخالفت کی اور شاید انہی وزرا نے ہی اس ذلت آمیز معاہدے کی خبر عوامی حلقوں تک پہنچا دی۔ اس کے بعد مجبوراً یہ قانون پارلیمنٹ میں لانا پڑا اور اس قانون کا باقاعدہ اعلان بھی کر دیا گیا۔

قوموں کی تقدیر کا فیصلہ ہونے میں یہ مقام بہت اہمیت کا حامل ہے، عوام کے مد نظر ترقی، خوشحالی اور امریکہ جیسی پر آسائش زندگی کے خواب تھے۔ سطحی سوچ رکھنے والے نام نہاد انقلابیوں نے بھی اس قانون کا خیر مقدم کیا کہ ہمیں اس سے کیا غرض کہ ملک میں امریکی کیا کرتے ہیں، ہمارے ملک میں ٹیکنالوجی آئے گی، ملک ترقی کرے گا، محرومی کا زمانہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں با بصیرت رہبر اپنی قوم کو حقیقی خطرے سے آگاہ کرتے ہیں کہ اس ترقی و خوشحالی کی قیمت قومی عزت و آبرو ہے۔

اس رفاہ کے پیچھے ہمیشہ کی ذلت، رسوائی اور ننگ و عار موجود ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب امام خمینی نے ایک بار پھر علما، اساتذہ، سیاستدان، تاجر اور دیگر تمام طبقات کو اپنی تقریر کے ذریعے سے اس ذلت آمیز معاہدے سے آگاہ کیا اور پہلے سے کئی گنا زیادہ شدت کے ساتھ حکومت مخالف تقریر کی۔ عوام کو بتایا کہ شاہ امریکہ و اسرائیل کا آلہ کار ہے، خائن ہے جس نے قوم کی عزت و آبرو کا سودا کر دیا ہے۔ یہاں آئیڈیالوجی کا راستہ ٹیکنالوجی سے جدا ہو گیا، عوام شاید پہلی مرتبہ شاہ ایران کی کارستانیوں کی طرف حقیقت میں متوجہ ہوئے۔

اس تقریر کے بعد امام خمینی کو گرفتار کر کے ترکی میں جلا وطن کر دیا گیا۔ امام خمینی کی جلا وطنی کے بعد ، ایران میں موجود تمام حکومت مخالف افراد کی سرکوبی کا عمل شروع کیا گیا۔ انقلابی تحریک سے وابستہ یا حتی لا تعلق لوگوں کو بھی جیلوں میں بند کیا گیا، اور ان پر وحشیانہ تشدد کیا گیا۔ امام کی جلا وطنی کے تین ماہ بعد وزیراعظم حسن علی منصور کا قتل ہو گیا اور محمد عباس ہوئیدہ کو نیا وزیراعظم بنا دیا گیا۔

اگر ہم جائزہ لیں تو امریکہ کے ساتھ پاکستان نے کبھی بھی ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا لیکن بحیثیت قوم و مملکت امریکی مفادات کی خاطر جتنا نقصان ہم نے برداشت کیا ہے شاید ان ملکوں نے نہیں کیا ہوگا جہاں امریکہ نے باقاعدہ معاہدے کے تحت اپنے مفادات منوائے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو کام دوسرے ممالک نے معاہدہ کر کے مہنگے داموں کر دیے وہی کام ہم نے بہت ہی کم نرخ پر انجام دیے۔ ریمنڈ ڈیوس دن دیہاڑے بیچ سڑک میں پاکستانیوں کو گولیوں کا نشانہ بناتا ہے، اور ہمارے ادارے اس کو باعزت بری کر دیتے ہیں، سلالہ چیک پوسٹ پر امریکہ ہمارے کئی فوجی اہلکاروں کو شہید کر دیتا ہے اور معذرت تک نہیں کرتا، جس علاقے میں جب چاہتا ہے آپریشن کر کے چلا جاتا ہے۔

اس ذلت و رسوائی کے راستے پر چلنے کا ہی انجام ہے کہ باقی مسائل تو درکنار، روزاول سے لے کر آج تک عوام مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس قوم نے شاید ایک دن بھی خوشحالی اور امن کا نہیں دیکھا۔ سیاستدان ہیں کہ انہی عوامی مسائل کا فائدہ اٹھا کر باری باری برسراقتدار آتے ہیں، عوامی مطالبات کو پورا کرنے کا وعدہ دیتے ہیں اور یہ عمل گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ یہ حالت تب بدلے گی جب یہ قوم ذلت کا طوق گردن سے نکال پھینکے گی اور عزت کا راستہ اختیار کرے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments